عاصم بن ثابت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عاصم بن ثابت
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عاصم بن ثابت
مقام پیدائش یثرب
کنیت ابو سلیمان
والد ثابت بن ابی الاقلح بن عصمہ
والدہ الشموس بنت ابی عامر بن صیفی الضبیعیہ الاوسیہ
رشتے دار بہن:
جمیلہ بنت ثابت
بھتیجا:
عاصم بن عمر بن الخطاب
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب الضبیعی الاوسی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ بدر
غزوہ احد
سریہ مرثد بن ابو مرثد

عاصم بن ثابت قبیلہ اوس کے مشہور صحابی ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

عاصم نام، ابو سلیمان کنیت، قبیلۂ اوس سے ہیں ،نسب نامہ یہ ہے، عاصم بن ثابت بن قیس ابی الاقلح بن عصمہ بن نعمان بن مالک بن امتہ بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس

اسلام[ترمیم]

ہجرت سے قبل اسلام لائے۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

بدر میں شریک تھے، آنحضرتﷺ نے پوچھا کیونکر لڑوگے؟ تیر وکمان لے کر اٹھے اورکہا کہ جب 200 ہاتھ کا فاصلہ ہوگا تو تیر ماروں گا ،اس سے قریب ہوں گے تو نیزہ اور نزدیک تر ہوں گے تو تلوار کا وار کروں گا، آنحضرتﷺ نے فرمایا لڑائی کا یہی قاعدہ ہے تم لوگ اسی طرح لڑنا۔[1]صفر میں آنحضرتﷺ نے ان کی ماتحتی میں دس آدمی دیکر جاسوسی کے لیے روانہ کیا، عسفان اور مکہ کے درمیان ہدہ ایک مقام ہے وہاں پہنچے تو بنو لحیان کو خبر ہو گئی اس نے سو تیر انداز بھیجے کہ مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روک دیں، ،صحابہؓ کے پاس مدینہ کے خرمے تھے، ان کی گٹھلیاں راستہ میں پڑی تھیں، تیر اندازوں نے کہا یہ ضرور یثرب کے چھوہارے ہیں عاصم کو ان کی آمد کا پتہ چلا، تو اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک پہاڑی پر چڑھ گئے ان لوگوں نے آکر محاصرہ کر لیا اور کہا کہ نیچے اتر آؤ تو جان بخشی کی جائے گی، عاصم نے کہا مسلمانو! میں کسی کافر کے ذمہ نہ رہوں گا، پھر فرمایا خدایا! رسول اللہ ﷺ کو ہماری خبر کر دے۔

شہادت[ترمیم]

کفار نے یہ دیکھ کر تیر برسانا شروع کیے جس سے عاصم نے سات آدمیوں کے ساتھ شہادت پائی۔[2] قریش کو ان کے قتل ہونے کی خبر معلوم ہوئی تو نہایت خوش ہوئے کہ عقبہ بن ابی معیط کا قاتل دنیا سے اٹھ گیا،آدمی بھیجے کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ لاکر دکھائیں مصنف استیعاب کا بیان ہے کہ ان کے جسم کو جلا کر قریش آتشِ انتقام کو سرد کرنا چاہتے تھے۔ عقبہ کے ساتھ طلحہ کے دو بیٹوں کو بھی انہوں نے قتل کیا تھا، ان کی ماں نے جس کا نام سلافہ تھا منت مانی تھی کہ عاصم کا سر ملے گا تو کھوپڑی میں شراب پیوں گی! قریش کو تجارت کا موقع ملا کہ اس کے ہاتھ عاصم کا سرفروخت کریں۔ عاصم نے خدا سے دعا کی تھی کہ مجھے کوئی مشرک نہ چھوئے اور نہ میں ان میں سے کسی کو مس کروں گا یہ لوگ وہاں پہنچے، تو کثرت سے شہد کی مکھیاں دیکھیں، لاش کے اٹھانے میں کامیابی نہ ہوئی تو مشورہ کیا کہ رات کو جب مکھیاں نہ ہونگی، اس وقت سرکاٹیں گے،اتفاق یہ کہ خوب بارش ہوئی اوراس نے سیلاب کی شکل اختیار کرلی اور عاصم کا جسم اطہر اسی میں بہہ گیا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اصابہ:4/3
  2. بخاری:2/585
  3. اسدالغابہ:73،74