یاسر بن عامر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یاسر بن عامر
معلومات شخصیت
زوجہ سمیہ بنت ابی حذیفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد عمار بن یاسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر

یاسر بن عامر اسلام کے اولین شہادت حاصل کرنے والی صحابی ہیں۔ یہ یاسر العنسی سے بھی معروف ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

یاسر نام،ابو عامر کنیت ،یاسر مشہور صحابی عمار بن یاسر کے والد ہیں ،نسب نامہ یہ ہے ،یاسر بن عامر بن مالک بن کنانہ بن قیس بن حصین بن ودیم بن ثعلبہ بن عوف بن حارثہ بن عامر الاکبر بن یام بن عنس بن مالک بن ودبن یشیب بن عریب بن زید بن کہلان بن سبابن یشجب بن یعرب قحطان عنسی قحطانی۔

اسلام سے پہلے[ترمیم]

یاسر قحطانی النسل اوریمن کے باشندے تھے،اپنے ایک مفقود الخبر بھائی کی تلاش میں یہ اور ان کے دو بھائی حارث اورمالک مکہ آئے،حارث اورمالک تو لوٹ گئے،لیکن یاسر نے ابوحذیفہ بن مغیرہ سے حلیفانہ تعلق پیدا کرکے مکہ میں اقامت اختیار کر لی،ابو حذیفہ نے اپنی ایک لونڈی سمیہ سے ان کی شادی کردی،ان ہی کے بطن سے عمار پیدا ہوئے تھے ،قانوناً عمار ابو حذیفہ کے غلام تھے،لیکن انہوں نے ان کو آزاد کر دیا تھا اورباپ بیٹے دونوں ابو حذیفہ کے ساتھ رہتے تھے۔[1]

اسلام[ترمیم]

ابو حذیفہ کی وفات کے بعد مکہ میں جب اسلام کا غلغلہ بلند ہوا،تو تینوں ماں باپ بیٹے مشرف باسلام ہو گئے ،اس وقت بہت کم لوگوں نے اس دعوتِ حق کا جواب دیا تھا،بروایت صحیح اس وقت ان کی تعداد تیس پینتیس سے زیادہ نہ تھی۔

آزمائش[ترمیم]

دعوت اسلام کے آغاز میں بڑے بڑے ذی وجاہت مسلمان جبابرۂ قریش کی ستم آرائیوں سے محفوظ نہ تھے،توان تینوں بے یار و مددگار غریبوں کا کیا شمار تھا، سمیہ بنی مخزوم کی غلامی میں تھیں اور تینوں ان کے زیر بار احسان تھے،اس لیے بنی مخزوم نے انہیں مشق ستم بنالیا،طرح طرح کی اذیتیں دیتے،ٹھیک دوپہر کی دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لٹاتے،عمار خصوصیت کے ساتھ اس آزمائش کا نشانہ بنتے،آنحضرتﷺ ان بے بس غریبوں کو اس حال میں دیکھ کر تسلی دیتے کہ آل یاسر خدا تم کو اس کے بدلہ میں جنت عطا کرے گا۔

شہادت[ترمیم]

بنی مخزوم نے اپنی تمام سختیاں ان تینوں پر ختم کر دیں،لیکن ان کی زبان کلمۂ توحیدسے نہ پھری،آخر میں سمیہ کو ابو جہل نے نہایت وحشیانہ طریقے سے نیزہ سے زخمی کرکے شہید کرڈالا، یاسر ضعیف وناتواں تھے،ان وحشیانہ سزاؤں کی تاب نہ لاسکے،اورکچھ دنوں کے بعد وہ بھی شہید ہو گئے۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن سعد،جلد4،ق1،صفحہ:10
  2. الاصابہ فی تمیز الصحابہ جلد 6صفحہ 418مؤلف: حافظ ابن حجر عسقلانی ،ناشر: مکتبہ رحمانیہ لاہور
  3. اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 388حصہ ہشتم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور