انس بن نضر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انس بن نضر بیعت عقبہ ثانیہ میں مشرف باسلام ہوئے۔ اور غزوہ احدمیں شہید ہوئے۔

نام و نسب[ترمیم]

انس نام، خاندان نجار سے ہیں،سلسلہ نسب یہ ہے انس بن نضر بن ضمضم بن زید بن حرام، انس بن مالک کے چچا ہیں، سلمیٰ بنت عمرو جو عبدالمطلب (جدرسولﷺ) کی والدہ تھیں اسی خاندان سے تھیں اور رشتہ میں انس بن نضر کی پھوپھی ہوتی تھیں، انس اپنے خاندان کے رئیس تھے۔

غزوہ بدر میں عدم شرکت[ترمیم]

کسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ اس غیر حاضری پر انہیں بڑا ملال رہتا تھا۔ فرمایاکرتے تھے: یہ حق وباطل کے درمیان میں پہلا معرکہ تھا جس میں جناب رسول اللہ نے شرکت فرمائی اور میں اس سعادت سے محروم رہ گیا، اگر اللہ تعالیٰ نے پھر ایسا موقع عنایت فرمایا تو اللہ دیکھے گا کہ دین حق کو سربلند کرنے کیلئے میں کیا کارنامے سرانجام دیتا ہوں۔

غزوہ احد[ترمیم]

غزوہ احد میں بڑے ہی ذوق وشوق سے شریک ہوئے، اس جنگ میں اچانک ایسا سانحہ رونما ہوا کہ مسلمانوںمیں بھگدڑ مچ گئی۔ آپ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا ’’الہٰی جو کچھ مسلمانوں سے سرزد ہوا میں اس کیلئے معافی کا طلبگار ہوں اورجو کچھ مشرکین نے کیا ہے اس سے میں لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔ان کا گزر ایسی جگہ سے ہوا جہاں چند صحابہ کرام مایوسی کے عالم میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے پوچھا کہ اس طرح کیوں بیٹھے ہو؟ بڑی بے بسی سے کہنے لگے، حضور شہید ہوگئے ہیں، اب ہم کیا کریں۔ آپ نے انکو جھڑکتے ہوئے کہا: حضور کے بعد زندہ رہ کر تم کیا کرو گے، اٹھو اوراس مقصد کیلئے اپنی جان قربان کردو جس مقصد کیلئے ہمارے آقا نے جان دی ہے۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے، جبل احد کے پاس حضرت سعدبن معاذ سے ملاقات ہوگئی، انھوںنے کہا: انس میں تمہارے ساتھ ہوں، حضرت انس کفارکی صفوں میں گھس گئے، باربار کہہ رہے تھے ’’واہ !واہ! مجھے جنت کی خوشبو آرہی ہے، نضر کی پروردگار کی قسم! میں جبل احد کیطرف سے جنت کی خوشبو محسوس کررہا ہوں‘‘۔ بڑی جرأت سے مصروف پیکار رہے یہاں تک کہ جام شہادت نوش کیا،

مثلہ[ترمیم]

انس بن مالک کہتے ہیںکہ نیزوں، تیروں اور تلواروں کے اسی سے زیادہ زخم انکے جسم پر لگے ہوئے تھے۔ مشرکین نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس بے دردی سے انکی لاش کا مثلہ(کان ناک کاٹ ڈالنے کو مثلہ کہتے ہیں) کردیاکہ وہ پہچانی نہیں جاتی تھی۔ انکی ہمشیرہ نے ایک انگلی کے پورے یا ایک تل کے نشان سے ان کوبمشکل پہچانا۔[1]

اخلاق[ترمیم]

انس بن مالک کہتے ہیں، قرآن کی یہ آیت انکے حق میں نازل ہوئی ’’اہل ایمان میں ایسے جواں مرد ہیں جنہوں نے سچا کردکھایا جو وعدہ انھوں نے اللہ سے کیا تھا‘‘۔ ایک بار انکی بہن ربیع بنت نضر کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ قصاص میں ان کا دانت توڑ دیا جائے توانس بن نضر نے کہا: یارسول اللہ! خدا کی قسم ربیع کا دانت نہ توڑا جائیگا، انھوںنے اللہ پر اعتماد کرکے قسم کھائی تھی۔ حالات ایسے ہوئے کہ دوسرا فریق دیت لینے سے راضی ہوگیا اور ربیع قصاص سے بچ گئیں‘ اس پر حضور نے ارشاد فرمایا: خدا کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ جب قسم کھاتے ہیں تو خدا انکی قسم پوری کرتا ہے۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أسد الغابة : أبو الحسن علی بن أبی الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم بن عبد الواحد الشيبانی الجزری، عز الدين ابن الأثير الناشر: دار الفكر - بيروت
  2. بخاری،کتاب الجہاد