عمرو بن تغلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عَمرو بن تَغلب نمَری مشہور صحابی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کرکے تشریف لائے اور اصحابِ صفہ کے ساتھ صفہ میں قیام کیا ۔
عمرو نام، والد کانام تغلب، قبیلہ نمرسے تعلق رکھنے کی بنا پر نمری کہے جاتے ہیں ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسلام کی تعریف فرمائی ہے ۔ عمر و بن تغلب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں ایسا کلمہ ارشاد فرمایا ہے جو سرخ اونٹوں سے میرے لیے ہزار ہادرجہ بہتر ہے ۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اصحابِ صفہ میں تشریف لائے ، آپ کے پاس مال لایاگیا آپ نے کچھ لوگوں کو مال سے نوازا اور کچھ لوگوں کو محروم رکھا، جنہیں آپ نے محروم رکھا، ان حضرات کی پیشانیوں پر بل پڑ گیا اور یہ لوگ ناراض ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کسی شخص کو مال دیتا ہوں اورکسی شخص کو مال سے محروم رکھتا ہوں حالانکہ جسے مال سے محروم رکھتاہوں وہ میرے نزدیک بہت زیادہ محبوب ہوتاہے اس شخص سے کہ جسے خوب مال سے نوازتاہوں۔میں ان لوگوں کو دیتاہوں ، جن لوگوں کے دلوں میں بے صبری اور حرص محسوس کرتاہوں ، بعضے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے استغنا وبے نیازی اور خیر وبھلائی پیدا کررکھی ہے ، اس کے بھر وسے پر چھوڑ دیتاہوں اور کچھ نہیں دیتا ایسے عمدہ لوگوں میں عمر و بن تغلب بھی ہے ۔[1]
بعد میں عمر و بن تغلب نے بصرہ میں سکونت اختیار کرلی تھی، اسی وجہ سے بصری بھی کہے جاتے ہیں اوروہیں آپ کا درسِ حدیث ہواکرتاتھا۔ آپ کی تمام روایت کردہ احادیث حسن بصری ہی بیان کرتے نظر آتے ہیں ۔ آپ کی تاریخِ وفات کے متعلق سارے محققین خاموش ہیں ؛ البتہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے تحریرکی ہے کہ آپ امیر معاویہ کے زمانہ خلافت تک باحیات رہے ہیں ۔[2][3])

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 887
  2. حلیۃ الأولیاء:2/11
  3. الإستیعاب : 2/512