طلحہ بن عبید اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
طلحہ بن عبید اللہ
طلحة بن عبيد الله.png
عشرہ مبشرہ
پیدائش 595 ۔
مکہ
وفات 656.
احترام در اسلام
مؤثر شخصیات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

طلحہ مکمل نام طلحہ بن عبید اللہ ابومحمد کنیت،فیاض اورخیرلقب،والد کا نام عبیداللہ اوروالدہ کا نام صعبہ تھا، اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔ غزوہ احد اور جنگ جمل میں انکا خاص کردار رہا۔ [1][2] پورا سلسلہ نسب یہ ہے،طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی ابن غالب القرشی التیمی،چونکہ مرہ بن کعب آنحضرت ﷺ کے اجداد میں سے ہیں اس لیے طلحہ کا نسب چھٹی ساتویں پشت میں حضرت سرورکائنات ﷺ سے مل جاتا ہے۔

اسلام[ترمیم]

ایک دفعہ جب کہ غالباً سترہ یا اٹھارہ برس کی عمر تھی تجارتی اغراض سے بصرہ تشریف لے گئے وہاں ایک راہب نے حضرت سرورِکائنات ﷺ کے مبعوث ہونے کی بشارت دی، لیکن یوم ولادت سے اس وقت تک جس قسم کی آب وہوا میں پرورش پائی تھی اورگرد وپیش جس قسم کے مذہبی چرچے تھے اس کا اثر صرف ایک راہب کی پیشن گوئی سے زائل نہیں ہوسکتا تھا، بلکہ ابھی مزید تعلیم و تلقین کی ضرورت تھی،مکہ واپس آئے تو حضرت ابوبکر صدیق کی صحبت اوران کے مخلصانہ وعظ وپندنے تمام شکوک رفع کردئیے،چنانچہ ایک روز صدیق اکبر ؓکی وساطت سے دربار رسالتﷺ میں حاضر ہوئے اورخلعت ایمان سے مشرف ہوکر واپس آئے اس طرح طلحہ ان آٹھ آدمیوں میں سے ہیں جو ابتدائے اسلام میں نجم صداقت کی پرتوضیاء سے ہدایت یاب ہوئے اورآخر کار خود بھی آسمان اسلام کے روشن ستارے بن کر چمکے۔ [3] اسلام لانے کے بعد حضرت طلحہ ؓ بھی عام مسلمانوں کی طرح کفار کے ظلم و ستم سے محفوظ نہ رہے،عثمان بن عبید اللہ نے جو نہایت سخت مزاج اور طلحہ کا حقیقی بھائی تھا، ان کو اور ابوبکر صدیق کو ایک ہی رسی میں باندھ کر مارا کہ اس تشدد سے اپنے نئے مذہب کو ترک کردیں،لیکن توحید کا نشہ ایسا نہ تھا جو چڑھ کر اتر جاتا۔[4]

مواخات[ترمیم]

مکہ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر بن عوام سے ان کا بھائی چارہ کرادیا۔

ہجرت[ترمیم]

طلحہ نے مکہ میں نہایت خاموش زندگی بسر کی اوراپنے تجارتی مشاغل میں مصروف رہے، چنانچہ جس وقت رسول اللہ ﷺ ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ تشریف لے جارہے تھے،اس وقت وہ اپنے تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آرہے تھے،راہ میں ملاقات ہوئی،انہوں نے ان دونوں کی خدمت میں کچھ شامی کپڑے پیش کئے اور عرض کیا کہ اہل مدینہ نہایت بے چینی اوراضطراب کے ساتھ انتظار کررہے ہیں،غرض آنحضرت ﷺ نہایت عجلت کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھے اور طلحہ نےمکہ پہنچ کر اپنے تجارتی کاروبار سے فراغت حاصل کی اور ابوبکر کے اہل وعیال کو لے کر مدینہ پہنچے، اسعد بن زرارہ نے ان کو اپنا مہمان بنایا اورآنحضرت ﷺ نے ابی بن کعب انصاری سے ان کا بھائی چارہ کرادیا۔[5]

غزوات میں شرکت[ترمیم]

جنگ بدرکے موقع پر طلحہ کسی خاص مہم پر مامور ہوکر ملک شام تشریف لے گئے تھے، واپس آئے تو دربارِ رسالت میں حاضر ہوکر غزوۂ بدر کے مالِ غنیمت میں سے اپنے حصےِ کی درخواست کی سرورِ کائنات ﷺ نے مالِ غنیمت میں حصہ دیا اورفرمایا کہ تم جہاد کے ثواب سے بھی محروم نہیں رہوگے۔

غزوۂ احد[ترمیم]

غزوۂ احد میں فدویت جان نثاری اورشجاعت کے جو بے مثل جوہردکھائے یقناً تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے،تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا، ابوبکر صدیق نے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔[6] درباررسالتﷺ سے اسی جان بازی کے صلہ میں “خیر" کا لقب مرحمت ہوا، صحابہ کو واقعہ احد میں ان کی اس غیر معمولی شجاعت اورجانبازی کا دل سے اعتراف تھا، ابوبکر صدیق غزوۂ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہ کا مخصوص دن تھا، عمرفاروق ان کو صاحبِِ احد فرمایا کرتےتھےخود طلحہ کو بھی اس پر فخر کارنامہ پر بڑا ناز تھا اورہمیشہ لطف وانبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے۔[7]

متفرق غزوات[ترمیم]

غزوۂ احد کے بعد فتح مکہ تک جس قدر غزوات ہوئے، طلحہ سب میں نمایاں طور پر شریک رہے،بیعتِ رضوان کے وقت بھی موجود تھے اورشرف بیعت سے مشرف ہوئے۔ فتح مکہ کے بعد غزوۂ حنین آیا، اس معرکہ میں بھی غزوۂ احد کی طرح پہلے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے،لیکن چند بہادر اورثابت قدم مجاہدین کے استقلال وثبات نے پھر اس کو سنبھال لیا، اوراس طرح جم کر لڑے کہ غنیم کی فتح شکست سے بدل گئی اوربیشمار سامان اورمال غنیمت چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا، حضرت طلحہ ؓ اس جنگ میں بھی ثابت قدم اصحاب ؓ کی صف میں تھے۔ 9ھ میں آنحضرت ﷺ کو خبر ملی کہ قیصر روم بڑے سازوسامان کے ساتھ عرب پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے اس لیے آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا اور جنگی اسباب و سامان کے لیے مال وزر صدقہ کرنے کی ترغیب دی، طلحہ نے اس موقع پر ایک بیش قراررقم پیش کی اوربارگاہ رسالت ﷺ سے فیاض کا لقب حاصل کیا۔[7] شہادت طلحہ نے باسٹھ یا چونسٹھ برس کی عمر میں ذی قار شہادت حاصل کی، اورغالباً اسی میدان جنگ کے کسی گوشہ میں مدفون ہوئے ؛لیکن یہ زمین نشیب میں تھی اس لیے اکثر غرقِ آب رہتی تھی، ایک شخص نے مسلسل تین دفعہ طلحہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ اپنی لاش کو اس قبر سے منتقل کرنے کی ہدایت فرما رہے ہیں، عبداللہ بن عباس نے خواب کا حال سنا تو ابوبکر صحابی کا مکان دس ہزار درہم میں خرید کر ان کی لاش کواس میں منتقل کردیا، دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اتنے دنوں کے بعد بھی یہ جسم خاکی اسی طرح مصئون ومحفوظ تھا،یہاں تک کہ آنکھوں میں جو کافور لگایا گیا تھا وہ بھی بعینہ موجود تھا، [8]

اخلاق وعادات[ترمیم]

طلحہ اقلیم سخاوت کے بادشاہ تھے،فقراء ومساکین کے لیے ان کا دروازہ کھلا رہتا تھا، قیس ابن ابی حازم کا بیان ہے کہ میں نے طلحہ سے زیادہ کسی کو بے طلب کی بخشش میں پیش پیش نہ دیکھا۔[9] طلحہ بنو تمیم کے تمام محتاج و تنگدست خاندانوں کی کفالت کرتے تھے، لڑکیوں اوربیوہ عورتوں کی شادی کردیتے تھے،جولوگ مقروض تھے ان کا قرض ادا کردیتے تھے؛ چنانچہ صبیحہ تیمی پر تیس ہزار درہم قرض تھا، وہ سب انہوں نے اپنے پاس سے ادا کردیا ،ام المومنین عائشہ سے بھی خاص عقیدت تھی اورہرسال دس ہزار درہم پیش خدمت کرتے تھے۔ [10] مہمان نوازی طلحہ کا خاص شیوہ تھا، ایک دفعہ بنی عذرہ کے تین آدمی مدینہ آکر مشرف بہ اسلام ہوئے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کون ان کی کفالت کا ذمہ لیتا ہے؟ طلحہ نے کھڑے ہوکر عرض کیا"میں یارسول اللہ!"اوروہ تینوں نو مسلم مہمانوں کو خوشی خوشی گھر لے آئے ان میں سے دو نے یکے بعد دیگرے مختلف غزوات میں شہادت حاصل کی اور تیسرے نے بھی ایک مدت کے بعد حضرت طلحہ ؓ کے مکان میں وفات پائی ان کو اپنے مہمانوں سے جو انس پیدا ہوگیا تھا اس کا اثریہ تھا کہ ہر وقت ان کی یاد تازہ رہتی تھی اوررات کے وقت خواب میں بھی ان ہی کا جلوہ نظرآتا تھا، ایک روز خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے تینوں مہمانوں کے ساتھ جنت کے دروازہ پر کھڑے ہیں،لیکن جو سب سے پیچھے مراتھا وہ سب سے آگے ہے،اورجو سب سے پہلے شہید ہوا تھا وہ سب سے پیچھے ہے، طلحہ کو اس تقدم وتاخر پر سخت تعجب ہوا، صبح کے وقت سرور کائنات ﷺ سے خواب کا واقعہ بیان کیا تو ارشاد ہوا،اس میں تعجب کی کیابات ہے، جو زیادہ دنوں تک زندہ رہا اس کو عبادت ونیکو کاری کا زیادہ موقع ملا، اس لیے وہ جنت کے داخلہ میں اپنے ساتھیوں سے پیش تھا۔[11]

حسن معاشرت[ترمیم]

طلحہ اپنے حسن معاشرت کے باعث بیوی بچوں میں نہایت محبوب تھے،وہ اپنے کنبہ میں جس لطف ومحبت کے ساتھ زندگی بسرکرتے تھے اس کا اندازا صرف اس سے ہوسکتا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ کی لڑکی ام ابان سے اگرچہ بہت سے معزز اشخاص نے شادی کی درخواست کی،لیکن انہوں نے طلحہ کو سب پر ترجیح دی، لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا میں ان کے اوصاف حمیدہ سے واقف ہوں،وہ گھر آتے ہیں تو ہنستے ہوئے ،باہر جاتے ہیں تو مسکراتے ہوئے ،کچھ مانگو تو بخل نہیں کرتے اورخاموش رہو تو مانگنے کا انتظار نہیں کرتے، اگر کوئی کام کردو شکر گزار ہوتے ہیں اورخطا ہوجائے تو معاف کردیتے ہیں۔ [12]

اولاد وازواج[ترمیم]

طلحہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کی تھیں بیویوں کے نام یہ ہیں حمنہ بنت جحش،ام کلثوم بنت ابوبکر الصدیق ، سعدی بنت عوف ،ام ابان بنت عتبہ بن ربیعہ ، خولہ بنت القعقاع، ان میں سے ہر ایک کے بطن سے متعدد اولاد ہوئی تھی، لڑکوں کے نام یہ ہیں۔ محمد، عمران، عیسیٰ، یحییٰ، اسمعیل، اسحاق، زکریا، یعقوب،موسی، یوسف، ان کے علاوہ چارصاحبزادیاں بھی تھیں، ان کے نام یہ ہیں۔ ام اسحاق، عائشہ،صعبہ، مریم۔

حدیث میں ذکر[ترمیم]

ان 10 صحابہ کرام کا ذکر عبدالرحمن بن عوف کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہيں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمن جنتی ہیں، سعد جنتی ہيں ، سعید جنتی ہیں، ابوعبیدہ جنتی ہیں[13] ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sunnah.com/urn/636260
  2. http://www.usc.edu/org/cmje/religious-texts/hadith/abudawud/040-sat.php#040.4632
  3. ابن سعد قسم اول :3/53
  4. اسد الغابہ:3/59
  5. طبقات ابن سعد قسم اول جزوثالث صفحہ 154
  6. فتح الباری:7/66
  7. ^ 7.0 7.1 بخاری کتاب المغازی غزوۂ احد
  8. اسد الغابہ:3/161
  9. فتح الباری : 7/66
  10. طبقات ابن سعد:158
  11. مسند ابن حنبل :1/163
  12. کنز العمال:6/413
  13. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر1713