نزار بن معد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

نزار بنو اسماعیل میں سے وہ بزرگ ہستی ہیں جو رسول اللہ کے انیسویں پشت پہ جد امجد ہیں۔


نزار بن معد
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 55 ق م  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حجاز  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش حجاز  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبائی علاقہ مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P66) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد مضر بن نزار،  ربیعہ (قبیلہ)  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد معد بن عدنان  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تعارف[ترمیم]

نزار کے والد کا نام معد بن عدنان اور والدہ کا نام معانہ بن جوشم تھا۔ آپ کی کنیت ابو ایاد اور ابو ربیعہ تھی۔[1] جب معد کے ہاں نزار کی پیدائش ہوئی تو معد نے اپنے بیٹے کی خوشی میں بہت سے اونٹ ذبح کیے اور پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا۔ آپ نے اتنا زیادہ خرچ کرنے کے بعد کہا جو اللہ تعالی نے مجھ پہ انعام بیٹے کی صورت میں کیا ہے اس پر یہ خرچ کچھ بھی نہیں کیونکہ نزر کی آنکھوں کے درمیان نور محمدی چمک رہا تھا جو پشت در پشت چلا آ رہا تھا۔ [2] نزار رسول اللہ کے انیسویں پشت پر جد امجد ہیں۔ آپ تک رسول اللہ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے۔ محمد ﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فھر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار [3]

شادی[ترمیم]

نزار بن معد کی دو بیویاں تھیں۔ آپ نے پہلی شادی سودہ بنت عک سے کی جس سے مضر اور ایاد پیدا ہوئے۔ آپ نے دوسری شادی اپنے ماموں کی بیٹی خذالہ بنت وعلان بن جوشم سے کی جس سے ربیعہ اور انمار پیدا ہوئے۔ [4]

سیرت[ترمیم]

معد کی وفات کے بعد نزار کو عرب کی سرداری ملی۔ [5] آپ جب شاہی دربار میں جاتے بادشاہ خود ان کا احترام کرتے تھے۔ ایران کا بادشاہ کہتا اے نزار تمہیں کیا ہو گیا ہے کیونکہ ایرانی لغت میں نزز کمزور کو کہتے ہیں۔ اس طرح یہ نام اصل پہ غالب آ گیا۔ [6] عربی جروف تہجی کی ابتداء آپ نے ہی کی۔[7]

وفات[ترمیم]

نزار نے اپنی زندگی کے آخری دن ذات الجیش نامی جگہ پر گزارے۔[8] آپ کی وفات مدینہ طیبہ کے قریب ذات الجیش کے مقام پر ہوئی اور آپ کی تدفین وہی کی گئی۔[9]

اولاد[ترمیم]

نزار کے چار بیٹے تھے۔

  1. مضر
  2. ایاد
  3. ربیعہ
  4. انمار[10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرت انسائیکلو پیڈیا تصنیف و تالیف حافظ محمد ابراہیم طاہر گیلانی، حافظ عبد اللہ ناصر مدنی اور حافظ محمد عثمان یوسف جلد دوم صفحہ 43
  2. ضیاء النبی مولف پیر محمد کرم شاہ جلد اول صفحہ 405
  3. ضیاء النبی مولف پیر محمد کرم شاہ جلد اول صفحہ 399
  4. سیرت انسائیکلو پیڈیا تصنیف و تالیف حافظ محمد ابراہیم طاہر گیلانی، حافظ عبد اللہ ناصر مدنی اور حافظ محمد عثمان یوسف جلد دوم صفحہ 43
  5. مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب الموسوم بہ معارف الانساب تالیف قمر عباس الاعرجی صفحہ 18
  6. حضور کے آباؤاجداد مولف علامہ یونس مبین صفحہ 121
  7. مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب الموسوم بہ معارف الانساب تالیف قمر عباس الاعرجی صفحہ 18
  8. مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب الموسوم بہ معارف الانساب تالیف قمر عباس الاعرجی صفحہ 18
  9. حضور کے آباؤاجداد مولف علامہ یونس مبین صفحہ 121
  10. وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين تالیف قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری حصہ دوم صفحہ 324