ابو برزہ اسلمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو برزہ اسلمی
معلومات شخصیت

ابوبَرزہ اسلمی صحابی رسول، ان کی کنیت ہے اصل نام نضلہ بن عُبید تھا اصحاب صفہ سے تھے۔[1] نَضلہ نام ، کنیت ابوبرزہ، والد کا نام عُبید ، قبیلۂ بنو اسلم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اپنی کنیت ابوبرزہ سے مشہور ہیں۔ ابوبرزہ اسلمی قدیم الاسلام ہیں۔ انہوں نے غزوہ خیبر، فتحِ مکہ اور غزوہ حنین میں شرکت کی ہے۔ خود فرماتے ہیں! ’’غزوت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ستاّ أوسبعاً ‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوے میں شریک رہا ہوں۔ [2] انہوں نے ہی فتحِ مکہ کے موقع سے عبدالعزی بن خطل ٭کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قتل کیا ہے مدینہ منورہ میں رہنے کے بعد بصرہ چلے گئے اور وہیں ایک عرصہ تک حضرت امیرمعاویہ کے ساتھ رہے ابن الکلبی کی راوایت میں ہے کہ بصرہ میں سکونت اختیار کرلی۔

نام ونسب[ترمیم]

فضلہ نام،ابوبرزہ کنیت، سلسلۂ نسب یہ ہے،فضلہ بن عبداللہ بن حارث بن حبال بن ربیعہ بن وعبل بن انس بن خزیمہ بن مالک بن سلامان بن اسلم بن اقصی اسلمی۔

اسلام وغزوات[ترمیم]

دعوت اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اسلام لائے،اسلام کے بعد جس قدر غزوات ہوئے سب میں آنحضرت کے ہمرکاب رہے،[3] فتح مکہ میں خون کا ایک قطرہ نہیں گرا تھا اور رحمت عالمﷺ نے تمام دشمنانِ اسلام کے لیے عفوودرگذر کا اعلان فرمادیا تھا؛چند معاندین جن کا عناد اورجن کی سرکشی حد سے بڑھی ہوئی تھی البتہ اس سے مستثنیٰ تھے اوران کا خون بدر کردیا گیا تھا، ان میں ایک عبداللہ بن خطل تھا، یہ پہلے اسلام لاچکا تھا، مگر اپنے ایک مسلمان خادم کو قتل کردیا اوراسلامی عدالت کے قانون قصاص سے ڈر کر پھر مرتد ہوکر مکہ بھاگ گیا، [4] اس کی دو طوائفیں تھیں جو بازاروں میں آنحضرتﷺ کی ہجو گاتی پھرتی تھیں، [5] اس لیے جب مکہ فتح ہوا تو امان کے لیے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر لٹک گیا،آنحضرتﷺ سے لوگوں نے کہا کہ وہ کعبہ کے غلاف کی پناہ میں ہے،آپ نے فرمایا اس کو قتل کردو، آقا کا اشارہ پاتے ہی ابوبرزہؓ نے قتل کردیا۔ [6] ابوبرزہؓ آنحضرتﷺ کی زندگی بھر مدینہ میں رہے،حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بصرہ میں رہنے لگے،جنگ صفین میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے، نہروان میں خارجیوں کا مقابلہ کیا،پھر خراسان کی فتوحات میں مجاہدانہ شریک ہوئے۔ [7]

وفات[ترمیم]

زمانہ وفات میں اختلاف ہے،بعض۶۰ اور بعض ۶۵ھ بتاتے ہیں دوسرے روایت زیادہ صحیح ہے؛کیونکہ مروان اورابن زبیر کے ہنگاموں تک زندہ تھے اورکہتے پھرتے تھے ؛کہ یہ سب دنیا کے لیے جھگڑتےہیں، [8] وفات کے بعد ایک لڑکا مغیرہ یادگار چھوڑا۔

فضل وکمال[ترمیم]

ابوبرزہؓ کو آنحضرتﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا کافی موقع ملا،اس لیے احادیث نبویﷺ کی متعدبہ تعداد ان کے حافظہ میں محفوظ تھی،انکی مرویات کی مجموعی تعداد ۶۴ ہے، ان میں سے ۲۷ متفق علیہ ہیں،ان کے علاوہ۲ میں بخاری اور ۴ میں مسلم منفرد ہیں۔ [9] ان کے تلامذہ کی تعداد بھی کافی ہے،ذیل کے نام قابل ذکر ہیں۔ مغیرہ، ابو منہال ریاحی، ارزق بن قیس، ابوعثمان نہدی، ابوالعالیہ ریاحی،کنانہ ابن نعیم ابوالزاع، رابسی، ابوالوضی، سعید بن عبداللہ، ابوالسوارعددی، ابوطالوت عبدالسلام وغیرہ۔ [10]

زہد وعفاف[ترمیم]

حضرت ابوبرزہؓ میں زہد وعفاف کا رنگ بہت نمایاں تھا، نہ کبھی بیش قیمت کپڑا پہنا اور نہ گھوڑے پر سوار ہوئے ،گیروے رنگ کے دوکپڑوں سے ستر پوشی کرتے تھے، ان کے ایک معاصر عائد بن عمرو بیش قیمت کپڑا بھی پہنتے اور گھوڑے پر بھی سوار ہوتے تھے، ایک شخص نے ان دونوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کے خیال سے عائذ سے آکر کہا، ابو برزہ کو دیکھئے، وہ لباس اور وضع قطع میں بھی آپ کی مخالفت کرتے ہیں، آپ خز (ایک بیش قیمت کپڑا) استعمال کرتے ہیں، اور گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں اور وہ ان دونوں چیزوں سے احتراز کرتے ہیں؛لیکن صحابہ کی اخوت لباس اور طرز معاشرت کے اختلاف سے بلند تھی، جواب دیا، اللہ ابوبرزہ پر رحم کرے، آج ہم میں ان کے رتبہ کا کون ہے، مگر یہاں بھی وہی جواب ملا کہ خدا عائذ پر رحم کرے ،ہم میں ان کا ہمرتبہ کون ہے؟ [11]

مسکین نوازی[ترمیم]

مسکین نوازی ان کاخاص شعار تھا ،صبح وشام معمولاً فقرا ءومساکین کو کھانا کھلاتے تھے،حسن بن حکیم اپنی ماں کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ابوبرزہؓ ایک کاسہ ثرید (ایک قسم کا عربوں کا مرغوب کھانا) صبح اورایک کاسہ شام بیواؤں،یتیموں اورمساکین کو کھلاتے ہیں۔ [12]

احترامِ نبوت[ترمیم]

ذات نبویﷺ کے ساتھ کسی قسم کا طنز تمسخر برداشت نہیں کرسکتے تھے، عبداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے متعلق کچھ پوچھنا تھا، اس نے لوگوں سے پوچھا حوض کوثر کے متعلق کون بتاسکتا ہے، انہوں نے ابوبرزہ کا نام لیا، عبیداللہ نے ان کو بلا بھیجا ،یہ گئے، اس نے آتے دیکھا تو بہ سبیل استہزاء کہا کہ تمہارے یہ محمدی ہیں ابوبرزہؓ نے برہمی سے جواب دیا، خدا کا شکر ہے کہ میں ایسے زمانہ تک زندہ رہا جس میں شرف صحبت پر عار دلایا جاتا ہے اوراس برہمی کی حالت میں تخت پر بیٹھ گئے،عبیداللہ نے اپنا سوال پیش کیا، انہوں نے جواب دیا کہ جو شخص اس (حوض کوثر) کو جھٹلائے گا، وہ نہ اس کے پاس جانے پائے گا اورنہ خدا اس کو اس سے سیراب کرے گا یہ کہا اوراٹھ کے چلے آئے۔ [13]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حلیۃالاولیا ، ج 2 ص 32
  2. اسد الغابہ جلد 5 صفحہ 31
  3. (ابن سعد:۱/۴)
  4. (زرقانی فتح مکہ)
  5. (ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی قتل الامیر صبرا)
  6. (ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی قتل الامیر صبرا)
  7. (اصابہ،جلد۶،تذکرہ نضلہ)
  8. (اصابہ،جلد۶،تذکرہ نضلہ)
  9. (تہذیب الکمال:۴۰۶)
  10. (تہذیب التہذیب:۱/۴۴۶)
  11. (ابن سعد،ق۱،جز۷:۳۵)
  12. (ابن سعد،قسم۱،جزو۷:۳۵)
  13. (ابن سعد،ق۱،جزو۷:۳۵)