مندرجات کا رخ کریں

لقس بن سلمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

لقس بن سلمان (یا لقیس بن سلمان) انصار کے جلیل القدر صحابی کعب بن عجرہ کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) ہیں، جنھوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا۔

تسمیہ

[ترمیم]

کتبِ تراجم و رجال میں ان کا نام "لقس بن سلمان" اور بعض روایات میں "لقیس بن سلمان" ضبط کیا گیا ہے۔[1] ان کا بنیادی تعلق کعب بن عجرہ انصاری سے تھا اور وہ ان کے مولیٰ کے طور پر معروف ہیں۔[2]

ادراکِ عہدِ نبوی اور صحابیت

[ترمیم]

ائمہِ رجال کی صراحت کے مطابق لقس بن سلمان نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا۔[1] انھیں کعب بن عجرہ کی صحبت کا شرف حاصل رہا اور انھوں نے ان سے روایات کا علم حاصل کیا۔[1]

روایتِ حدیث

[ترمیم]

لقس بن سلمان اپنے آقا کعب بن عجرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں۔ ان کی حدیث ابو ضمرہ نے سعد بن اسحاق بن کعب سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔[1]

محدثین کی تحقیق

[ترمیم]

ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم اصفہانی دونوں نے اپنی کتب میں کیا ہے اور ابن الاثیر نے "اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ" میں ان کا نام درج کیا ہے۔[2] تاہم ابو نعیم اصفہانی نے صراحت کی ہے کہ ان کا ذکر ابن مندہ کے توسط سے سامنے آیا ہے، ابن مندہ نے اس سے زیادہ کوئی تفصیلی احوال نقل نہیں کیے اور کسی دیگر محدث یا مورخ نے اس پر ان کی موافقت نہیں کی۔[1][3]

نوٹ

[ترمیم]

دستیاب رجالی و تاریخی مصادر میں لقس بن سلمان کے ابتدائی احوال، تاریخِ ولادت یا سالِ وفات سے متعلق مزید تفصیلات محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا تذکرہ بنیادی طور پر کعب بن عجرہ سے روایت، ادراکِ عہدِ نبوی اور اسنادی حوالوں تک ہی محدود ہے۔[2]



حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 ابو نعیم اصفہانی (1998)۔ معرفة الصحابة۔ ریاض: دار الوطن۔ ج 5۔ ص 2429
  2. 1 2 3 ابن الاثیر۔ اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ۔ لاہور: المیزان ناشران و تاجران کتب۔ ج 3۔ ص 901
  3. ↑ ابن حجر عسقلانی۔ الإصابة في تمييز الصحابة۔ لاہور: مکتبہ رحمانیہ۔ ج 5۔ ص 278