دحیہ کلبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

دحیہ کلبی ( دحيہ بن خليفہ بن فروة بن فضالہ بن زيد بن امرئ القيس بن الخزج بن عامر بن بكر بن عامر الأكبر بن عوف بن بكر بن عوف بن عذرة بن زيد اللات بن رفيدة بن ثور ابن كلب بن وبرة، الكلبي) مشہور صحابی ہیں انہیں حسن صورت میں بڑی شہرت حاصل تھی جبرئیل آنحضرتﷺ کے پاس دحیہ کلبی کی صورت میں آیا کرتے تھے خلافت معاویہ بن ابی سفیان میں وفات پائی۔ جنگ احد اور اس کے بعد کے تمام اسلامی معرکوں میں کفارسے لڑتے رہے۔ 6 ھ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو روم کے بادشاہ قیصر کے دربار میں اپنا مبارک خط دے کر بھیجا اور قیصر روم حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کا نامۂ مبارک پڑھ کر ایمان لے آیا مگر اس کی سلطنت کے ارکان نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں چمڑے کا موزہ بطور نذرانہ پیش کیا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو قبول فرمایا۔ یہ مدینہ منورہ سے شام میں آکر مقیم ہو گئے تھے اور حضرت امیر معاویہ کے زمانے تک زندہ رہے ۔[1] حضرت دحیہ کلبی صحابہ کرام میں بہت خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ حضرت جبرائیل عام طور پر ان کی شکل میں آیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ عائشہ نے انہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے باتیں کرتے سنا اور ایک دفعہ تو بیسیوں صحابہ نے انہیں دیکھا[2] حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ قیدیوں میں حضرت صفیہ بھی تھیں وہ دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو مل گئیں۔[3] عبداللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے قیصر کو خط لکھ کر اس کو اسلام کی دعوت دی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنا خط دحیہ کلبی کے ہاتھ بھیجا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ وہ اس خط کو سردار بصریٰ کے حوالہ کر دیں، تاکہ وہ اس کو قیصر تک پہنچا دے،[4] امام احمد نے دحیہ کلبی سے روایت کیا کہ میں عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) میں آپ کے لیے گدھے کو گھوڑی پر جفتی کراؤں گا اور آپ کے لیے خچر پیدا ہوگا اور آپ اس پر سواری فرمائیے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا یہ وہ لوگ کام کرتے ہیں جو نہیں جانتے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کراماتِ صحابہ،مؤلف عبد المصطفیٰ اعظمی ،صفحہ 215،ناشرمکتبۃ المدینہ کراچی
  2. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2138
  3. صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 209
  4. صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 882