سلمہ بن اکوع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلمہ بن اکوع
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 693  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سلمہ بن اکوع بڑے نڈر اور بہادر صحابی رسول تھے تیراندازی میں خاص مہارت تھی۔

نام و نسب[ترمیم]

سنان نام، ابو ایاس کنیت، سلسلہ نسب یہ ہے، سنان بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن تشیر بن حزیمہ بن مالک بن سلامان بن اسلم اقصی۔[1]

اسلام و ہجرت[ترمیم]

ارباب سیر ( ) ان کے زمانہ اسلام کے بارے خاموش ہیں، مگر اس قدر مسلم ہے کہ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے، اسلام کے بعد ہجرت کا شرف حاصل کیا، اکثر مہاجرین نے مع بال بچوں کے ہجرت کی تھی؛ لیکن سلمہ نے راہ اللہ میں بال بچوں کو بھی چھوڑ کر مدینہ کی غربت اختیار کی۔

غزوات[ترمیم]

مدینہ آنے کے بعد قریب قریب تمام غزوات میں شریک رہے، سب سے پہلے غزوۂ حدیبیہ میں شریک ہوئے اور خلعت امتیاز حاصل کیا، صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں بیعت رضوان کو تاریخ اسلام میں خاص اہمیت حاصل ہے، جب آنحضرتﷺ نے حضرت عثمان کی شہادت کی خبر سن کر مسلمانوں سے موت پر بیعت لینا شروع کی تو سلمہ نے تین مرتبہ بیعت کی، پہلی مرتبہ سب سے اول جماعت کے ساتھ بیعت کر چکے تھے دوبارہ آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا سلمہ بیعت کرو، عرض کیا: یا رسول اللہ جاں نثار پہلے ہی بیعت کرچکا ہے، فرمایا کیا حرج ہے دوبارہ سہی، اس وقت سلمہ نہتے تھے، آنحضرتﷺ نے ایک ڈھال عنایت فرمائی، تیسری مرتبہ آنحضرتﷺ کی نظر پڑی تو فرمایا کہ سلمہ! بیعت نہ کروگے؟ عرض کیا یا رسول اللہ! دو مرتبہ بیعت کرچکا ہوں فرمایا تیسری مرتبہ سہی؛ چنانچہ انہوں نے سہ بارہ بیعت کی۔[2]،آنحضرتﷺ نے پوچھا سلمہؓ !ڈھال کیا کی؟ عرض کیا کہ میرے چچا بالکل خالی ہاتھ تھے،ان کو دیدی ،آپ نے ہنس کر فرمایا تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے کہ اس نے دعا کی کہ خدایا! مجھ کو ایسا دوست دے جو مجھ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو، ابھی بیعت کا سلسلہ جاری تھا کہ اہل مکہ اورمسلمانوں کے درمیان صلح ہوگئی اور لوگ مطمئن ہوکر ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگے، سلمہؓ بھی ایک درخت کے نیچے لیٹ رہے،اتنے میں چار مشرکین آئے اوران کے قریب بیٹھ گئے آنحضرتﷺ کے بارے میں ایسی باتیں کرنے لگے جو ان کو ناگوار ہوئیں، یہ اُٹھ کر دوسرے درخت کے نیچے چلے گئے،ان کے جانے کے بعد چاروں ہتھیار اتار کر اطمینان سے لیٹ گئے، ابھی لیٹے ہی تھے کہ کسی نے نعرہ لگایا، مہاجرین دوڑنا ابن زنیم قتل کردیے گئے،آوازسن کر سلمہؓ نے ہتھیار سنبھال لیے اورمشرکوں کی طرف لپکے ،یہ سب سورہے تھے،سلمہؓ نے ان کے اسلحہ پر قبضہ کرکے ان سے کہا خیر اسی میں ہے کہ سیدھے میرے ساتھ چلے چلو، خدا کی قسم جس نے سر اٹھایا، اس کی آنکھیں پھوڑدوں گا، چنانچہ ان سب کو کشاں کشاں لاکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، ان کے چچا عامربھی ستراکہتر مشرک گرفتار کرکے لائے تھے؛لیکن رحمت عالم نے سب کو چھوڑدیا ،اس پریہ آیت نازل ہوئی: وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ [3] اور وہ خدا ہی تھا،جس نے عین مکہ میں تم کو کافروں پر فتحیاب کرنے کے بعد ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا۔ مسلمانوں کا قافلہ مدینہ سے واپسی میں ایک پہاڑ کے قریب خیمہ زن ہوا،مشرکین کی نیت کچھ بد تھی، آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی اور پڑاؤ کی نگرانی کی ضرورت محسوس ہوئی؛چنانچہ آپ نے اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کی جو پہاڑ پر چڑھ کر نگرانی کرے، سلمہؓ نے یہ سعادت حاصل کی اور رات بھر میں کئی مرتبہ پہاڑی پر چڑھ کر آہٹ لیتے رہے۔ [4]

غزوۂ ذی قروہ[ترمیم]

آنحضرتﷺ کے کچھ اونٹ ذی قروہ کی چراگاہ میں چرتے تھے، ان کو بنو غطفان ہنکا کر لے گئے، سلمہ بن اکوع طلوع فجر کے قبل گھر سے نکلے، تو عبد الرحمن بن عوف کے غلام نے ان سے کہا کہ آنحضرت کے اونٹ لٹ گئے، پوچھا کس نے لوٹا، کہا بنو غطفان نے، یہ سن کر آپ نے اس زور کا نعرہ لگایا کہ مدینہ کے اس سرے سے اس سرے تک آواز گونج گئی اور تن تنہا ڈاکؤوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے وہ پانی تلاش کر رہے تھے کہ سلمہ پہنچ گئے، یہ پیادہ تھے اور یہ بہت تیز دوڑتے تھے, انکےبارے میں مشہور تھا کہ دوڑتے گھوڑے کو یہ پکڑ لیتے تھے لیکن گھوڑا انکو نہیں پکڑ سکتا تھا, انہوں نے تاک تاک کر تیر برسانا شروع کر دیے، تیر برساتے جاتے تھے اور یہ رجز پڑھتے جاتے تھے۔

انا ابن الاکوع الیوم یوم الرضع

میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن سخت جنگ کا دن ہے اور اس قدر تیر باری کی کہ ڈاکؤوں کو اونٹ چھوڑ کر بھاگ جانا پڑا اور بدحواسی میں اپنی چادریں بھی چھوڑ گئے، اس درمیان میں آنحضرتﷺ بھی لوگوں کو لے کر پہنچ گئے، سلمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ان لوگوں کو پانی نہیں پینے دیا ہے، اگر ابھی ان کا تعاقب کیا جائے تو مل جائیں گے؛ لیکن رحمت عالم نے فرمایاکہ قابو پانے کے بعد درگزر کرو۔[5]

غزوہ خیبر[ترمیم]

اس کے بعد ہی خیبر کی مہم میں داد شجاعت دی، فتح خیبر کے بعد اس شان سے لوٹے کہ آنحضرتﷺ کے دست مبارک میں ہاتھ دیے ہوئے تھے۔

غزوۂ ثقیف و ہوازن[ترمیم]

خیبر کے بعد غزوۂ ثقیف و ہوازن میں شریک ہوئے، اس غزوۂ کے دوران میں ایک شخص مسلمانوں کے لشکر گاہ میں اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس کو باندھ کر مسلمانوں کے ساتھ ناشتا میں شریک ہو گیا، اس کے بعد چاروں طرف نظر ڈال کر مسلمانوں کی طاقت کا جائزہ لیا اور سوار ہو کر تیزی سے نکل گیا، اس طرح اچانک آنے اور فوراً چلے جانے سے مسلمانوں کو جاسوسی کا شبہ ہوا، ایک شخص نے اس کا تعاقب کیا، سلمہ نے بھی پیچھا کیا اور آگے بڑھ کر اس کو پکڑ لیا اور تلوار کا ایسا کاری وار کیا کہ ایک ہی وار میں وہ ڈھیر ہو گیا اور اس کی سواری پر قبضہ کر کے واپس ہوئے، آنحضرتﷺ نے دیکھا تو پوچھا، اس شخص کو کس نے قتل کیا، لوگوں نے عرض کیا سلمہ نے، فرمایا تو مقتول کا سب سامان ان کا ہے۔[6]

غزوات کی تعداد[ترمیم]

اسلام کے بعد بیشتر غزوات میں شرکت کا شرف حاصل کیا، بعض روایتوں میں ہے کہ 14 غزوات میں انہوں نے شرکت کی، ان میں سے سات میں آنحضرتﷺ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا اور سات وہ تھے جو آنحضرتﷺ نے مختلف اطراف میں بھیجے،[7] اور مستدرک کی روایت کے مطابق ان غزوات کی تعداد سولہ تک پہنچ جاتی ہے۔[8]

وفات[ترمیم]

آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد سے برابر مدینہ میں رہے، عثمان کی شہادت کے بعد مدینہ چھوڑ کر ربذہ میں سکونت اختیار کرلی، وہاں شادی کی اور اولادیں ہوئیں، بروایت بخاری 74ھ میں پھر مدینہ واپس ہوئے، واپسی کے دو ہی چار دن کے بعد وفات پائی اور گھوم پھر کر بالآخر دیار حبیب کی خاک کا پیوند ہوئے۔[9]

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت سلمہؓ شرف محبت سے بھی فیضاب تھے اورغزوات میں آنحضرتﷺ کے ہمرکاب رہنے کا زیادہ موقع ملا تھا اورحاشیہ نشینان بارگاہِ نبوت سے بھی استفادہ کرتے تھے؛چنانچہ رسول اللہﷺ کے علاوہ حضرت عمرؓ،عثمانؓ اورطلحہؓ سے بھی روایتیں کی ہیں،ا س لیے ان کی مرویات کی تعداد ۷۷ تک پہنچ جاتی ہے، جن میں سے ۱۶ متفق علیہ ہیں اور ۵ میں بخاری اور ۹ میں امام مسلم منفرد ہیں [10] ان کے رواۃ میں ایاس بن سلمہ،یزید بن عبید،عبدالرحمن بن عبداللہ اورمحمد بن حنیفہ قابل ذکر ہیں۔ [11]

انفاق فی سبیل اللہ[ترمیم]

خداکی راہ میں خرچ کرنے میں بہت فیاض تھے،جو شخص اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا اس کو کبھی ناکام ناواپس کرتے اورفرماتے کہ جو شخص راہ اللہ میں نہیں دے گا، پھر کس میں دے گا ؛لیکن اللہ کا واسطہ دے کر مانگنے کو براسمجھتے تھے کہ اس میں الحاف ہے۔ [12]

صدقات سے اجتناب[ترمیم]

مگر اپنی ذات کے لیے صدقہ کا مال حرام سمجھتے تھے،اگر کسی چیز میں صدقہ کا شائبہ بھی ہوتا تو اس کو استعمال نہ کرتے؛چنانچہ اپنی صدقہ کی کوئی چیز دوبارہ بقیمت خریدنا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ [13]

شدت احتیاط[ترمیم]

تمام اوامر ونواہی میں احتیاط کا یہی حال تھا [14] چنانچہ بعض ایسے کھیل جن میں جوئے کی مشابہت کا شائبہ نکلتا تھا ،اپنے بچوں کو نہ کھیلنے دیتے تھے۔ [15]

شجاعت[ترمیم]

شجاعت وبہادری خصوصا ًپیدل تیز دوڑنے میں تمام صحابہ میں ممتاز تھے، صاحبِ اصابہ لکھتےہیں"کان من الشجعان ویسبق الفرس عدوا "یعنی وہ بہادروں میں سے ایک تھے اور دوڑ میں گھوڑوں سے مقابلہ کرتے تھے اوران سے آگے بڑھ جاتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہتر سواروں میں ابوقتادہؓ اوربہتر پیادوں میں سلمہ بن اکوعؓ ہیں، اس تعریف کے بعدآپ کو دو حصے دیے، سوارکا الگ اورپیدل کا الگ۔ [16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مستدرک حاکم:3/562
  2. مسلم:2/98،99،
  3. (الفتح:۲۴)
  4. (مسلم:۲/۹۸،۹۹،مطبوعہ مصر)
  5. بخاری، جلد 2، کتاب المغازی باب غزوۂ ذی قروہ
  6. مسند احمد بن حنبل:4/51
  7. الاستیعاب:2/584
  8. مستدرک:3/562
  9. اصابہ:3/118
  10. (تہذیب الکمال:۱۴۸)
  11. (تہذیب التہذیب تذکرہ سلمہ بن اکوع)
  12. (ابن سعدجز۴،قسم۲:۴۰)
  13. (ابن سعد،جز۴،قسم۲:۴۰)
  14. (ابن سعدجز۴،قسم۲:۴۰)
  15. (اصابہ:۳/۱۱۸)
  16. (ابن سعدجز۴،ق۲،:۳۹)