حنین بن اسد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حُنين بن أسد
حُنين بن أسد بن ہاشم بن عبد مناف
حنین بن اسد

معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ (قبل از بعثت نبوی)
مقام وفات مکہ
مدفن مکہ (قبل از اعلان نبوت)
شریک حیات سخطي بِنْت عَبْد عوف بْن عَبْدِ الْحَارِث الزُّهْرِيّ
اولاد عَبْد الرَّحْمَن بن حنین

عبد الله بن حنین

رشتے دار والد:اسد بن ہاشم
والدہ:فاطمہ بنت قیس بن ہرم
عملی زندگی
نسب قریشی ہاشمی
خصوصیت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کے ماموں
پیشہ تاجر

حنین بن اسد القرشي الھاشمی (عربی: حُنين بن أسد) امیر المؤمنین علی بن ابی طالب کے ماموں، سیدہ فاطمہ بنت اسد کے بھائی ، عبد المطلب کے بھتیجے اور اسد بن ہاشم کے فرزند تھے۔ حنین معززین قریش میں سے تھے اور تجارت کے پیشہ سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ فصیح شاعر تھے۔ حنین بن اسد ایک سرکردہ شخصیت تھے، اور قریش کے قافلوں کے ساتھ تجارت کے سفر پر جایا کرتے تھے۔

نام و نسب[ترمیم]

"حنین بناسد بن ہاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرہ بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالک بن نضر بن كنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان "
حنین کی والدہ "فاطمہ بنت قیس بن هرم بن رواحة [1] اور والد اسد بن ہاشم تھے۔ بعض نے ان کی والدہ کا نام سمیعہ یا ماریہ الرومیہ (کنیزہ)بھی لکھا ہے۔[2] دوسری جانب عراق کے نسابہ محمد امین نجف نے حنین کا نام "جبیر" لکھا ہے اسد بن ہاشم کی اولاد کی فہرست میں۔[3] اور یہی نام "جبیر بن اسد بن ہاشم بن عبد مناف" تاریخ مدینہ دمشق کی جلد 26 کے صفحہ 337 میں بھی لکھا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

آپ کی پیدائش حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلان نبوت سے قبل ہے، تاریخ دانوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعلان نبوت کے وقت حنین کی عمر تقریباً پچاس برس بتائی ہے۔ حنین اپنے والد کی طرح دین حنیف (دین ابراہیمی) پر تھے۔ واضح رہے حنین کے والد اسد بن ہاشم بھی دین ابراہیمی پر رہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش سے قبل وفات پا گئے تھے۔

قبولیت اسلام[ترمیم]

آپ نے اسلام قبول کیا یا نہیں اس بارے میں کوئی دقیق معلومات میسر نہیں، البتہ قیاس یہی کیا جاتا ہے کہ آپ اعلان نبوت کے سے کچھ وقت بعد یاکچھ عرصے پہلے وفات پا گئے تھے۔ جیسا کے آپ کی بہنوں فاطمہ بنت اسد اور خلدہ بنت اسد قریش کی اولین خواتین میں سے تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا، اسی طرح آپ کے دونوں فرزند بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، لہذا مؤرخین نے نزدیک حنین اعلان نبوت کے وقت زندہ نہیں تھے۔ کیوں کہ حنین کے خاندان میں بت پرستی کی کوئی روایت نہیں ملتی۔ دوسری جانب بنو ہاشم کے سبھی افراد کے ایمان لے آنے کا تذکرہ زیادہ تفصیل سے تاریخ میں نہیں ملتا اس لئے خیال یہی ہے کہ حنین نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور وفات پا گئے تھے، اس لئے تاریخ میں ان کا ذکر زیادہ موجود نہیں۔

اولادو ازواج[ترمیم]

حنین بن اسد نے قریش (بنو زہرہ) کی ایک خاتون "سخطي بِنْت عَبْد عوف بْن عَبْدِ الْحَارِث الزُّهْرِيّ" سے شادی کی جن سے دو بیٹے عَبْد الرَّحْمَن اور عبد اللہ (عمرو) پیدا ہوئے۔ "سخطي بِنْت عَبْد عوف" صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عبد الرحمن بن عوف کی پھوپھی تھیں۔

عبد الرحمن بن حنین[ترمیم]

عَبْد الرَّحْمَن صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے، آپ کے پہلے نام سے متعلق تفصیل موجود نہیں، البتہ آپ کا یہ نام "عَبْد الرَّحْمَن" حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تبدیل کیا تھا۔ عَبْد الرَّحْمَن کی زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیل تاریخ میں موجود نہیں۔ عَبْد الرَّحْمَن کی ایک بیٹی جس کی شادی "المثلّم بْن جبار الفزاري" نامی شخص سے ہوئی اور آپ کے ایک فرزند "عبد الرحیم" تھے۔ جس کا مختصر احوال یہی ملتا ہے کہ آپ رؤسا مکہ سے تھے اور تجارت کے پیشے سے منسلک تھے۔

عبد اللہ بن حنین[ترمیم]

علامہ حجر عسقلانی(المتوفی 1449ء)نے عبد اللہ بن حنین کو اپنی کتاب "الإصابة في تمييز الصحابة" میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں شمار کیا ہے اور بعض نے انہیں تابعی لکھا ہے۔ عبد اللہ بن حنین سے بہت سی احادیث صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، اورجامع الترمذی، سنن داؤداور سنن ابن ماجہ میں نقل ہوئی ہیں۔ عبد اللہ بن حنین کے استادوں میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب، عبد اللہ بن عباس، ابو ایوب انصاری، عبد اللہ بن عمر، المسوار بن مخرمہ بن نوفل شامل تھے۔ عبد اللہ بن حنین کے ایک فرزند" ابراہیم" جنہیں علامہ الزهري نے "الطبقات الکبیر" میں ثقہ راوی کہا ہے۔ جن کی کنیت "ابو اسحاق" تھی۔ عبد اللہ کی ایک بیٹی جن کی شادی موسی بن سعد بن ابی وقاص سے ہوئی، جن سے دو بیٹے ہارون اور نجاد پیدا ہوئے۔ دوسری جانب علامہ حجر عسقلانی (المتوفی 1449ء)نے عبد اللہ بن حنین کی بیٹی کی شادی مسلم بن عبد اللہ فزاری سے اور کنیت ام ہارون بیان کی ہے۔ عبد اللہ بن حنین 100 ہجری میں اموی حکمران "يزيد بن عبد الملك الأموي " کے شروعاتی دنوں میں مدینہ میں فوت ہوئے اور خیال یہی ہے کہ بقیع میں مدفن ہیں۔

وفات[ترمیم]

حُنين بن أسد کی وفات کے بارے میں کوئی خاطر معلومات میسر نہیں، تاریخ دانوں کا یہی خیال ہے کہ حنین اعلان نبوت سے کچھ سال قبل دین ابراہیمی پر رہتے ہوئے وفات پا گئے تھے اور حجون میں مدفن ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بحث مختصر فی انساب العرب، تالیف محمد نبیل القویلی، جلد سوم، صفحہ99۔
  2. بلاذری، الاانساب الاشراف، جلد 4۔
  3. محمد أمين نجف، تاريخ بغداد، جلد 2، صفحہ412۔