ابو الہیثم بن تیہان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو الہیثم بن تیہان
معلومات شخصیت
پیدائشی نام مالک بن تیہان
مقام وفات مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو الہیثم
عملی زندگی
نسب الاوسی الأنصاری
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی

مالک بن تیہان غزوہ بدر میں شامل انصاری صحابی ابو الہیثم بن تیہان سے مشہور ہیں

نام ونسب[ترمیم]

مالک نام، ابوالہیثم کنیت، قبیلہ اوس سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے مالک بن التیھان بن مالک بن عتیک بن عمرو بن عبدالاعلم بن عامر بن زعورا بن جثم بن حارث بن خزرع بن عمرو بن مالک بن اوس۔

زعورا، عبدالاشہل کا بھائی تھا، اس بنا پر ابو الہیثم اسید بن حضیر کے ابن عم ہیں، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عبدالاشہل سے محض حلیفانہ تعلق تھا ،دراصل وہ خاندان بلی کے ایک فرد تھے،ابن سعد کی یہی رائے ہے،لیکن کثرت رائے پہلی روایت کی جانب ہے۔

اسلام[ترمیم]

وہ جاہلیت ہی میں توحید کے قائل تھے،ابن سعد میں ہے: وكان أسعد بن زرارة وأبو الهيثم بن التيهان يتكلمان بالتوحيد بيثرب [1] یعنی مدینہ میں اسعد بن زرارہؓ اورابو الہیثم بن تیہان،توحید کا خیال ظاہر کرتے تھے۔ [2] اسعد بن زرارہؓ ۶ آدمیوں کے ساتھ جب مکہ سے مسلمان ہوکر آئے تو ابوالہیثم سے اپنا مسلمان ہونا بیان کیا اور اسلام کی تعلیم پیش کی،ابوالہیثم پہلے ہی دین الفطرت کے متلاشی تھے فوراً اس صدا کو لبیک کہا۔ اس کے ایک سال بعد ۱۲ آدمیوں کا جو وفد مکہ گیا، ابوالہیثم اس میں شامل تھے آنحضرتﷺ کے دست مقدس پر بیعت کی،دوسرے سال ۷۰ آدمیوں کے ساتھ گئے اور بیعت حرب میں شریک ہوئے، کہتے ہیں کہ اس میں سب سے پہلے بیعت کے لئے جس شخص نے ہاتھ بڑھایا وہ ابوالہیثم تھے،بنو عبدالاشہل کا یہی بیان ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے امام زہری سے یہی نقل ہے۔ اس بارہ میں بیانات مختلف ہیں، بنو نجا، اسعد ؓ بن زرارہ کے تاج عظمت پر طرہ لگاتے ہیں، بنو سلمی کعبؓ بن مالک کو پیش کرتے ہیں اور بعض لوگ ان سب کے علاوہ براء ابن معرور کا نام لیتے ہیں۔ [3] بیعت کے بعد نقیبوں کا انتخاب ہوا، بنو عبدالاشہل میں اسید بن حضیر اور ابو الہیثم اس منصب کے لئے پیش کئے گئے۔

غزوات[ترمیم]

عثمان بن مظعون جو بڑے پایہ کے مہاجر تھا،ان سے رشتہ اخوت قائم ہوا، غزوات عہد نبوت میں کسی غزوہ کی شرکت سے محروم نہیں رہے۔

وفات[ترمیم]

حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت 20ھ میں وفات پائی، بعض لوگوں کا قول ہے کہ حضرت علیؓ کے عہدِ خلافت تک زندہ تھے اور صفین میں ان کی طرف سے لڑکر شہید ہوئے؛ لیکن یہ صحیح نہیں ،واقدی نے صاف تصریح کی ہے کہ صفین میں ان کی شرکت کی خبر بے بنیاد ہے، اس کے ماسوا ۲۰ھ میں فوت ہونے پر زہری، صالح بن کسان اورحاکم جیسے جلیل القدر محدثین کی روایتیں موجود ہیں،ان کے مقابلہ میں ایک مشکوک اور بے سند روایت کہاں تک قابل اعتبار ٹھہر سکتی ہے؟

فضل و کمال[ترمیم]

حدیث کی بعض کتابوں میں چند روایتیں مذکور ہیں، لیکن ان کی صحت پر مشکل سے یقین کیا جاسکتا ہے،امام ابن عسقلانی لکھتے ہیں: الروايات عن أبي الهيثم كلها فيها نظر وليست تأتي من وجه يثبت وذلك لتقدم موته [4]

اخلاق[ترمیم]

حب رسول پر ذیل کا واقعہ شاہد عدل ہے۔ ایک روز محمد صل للہ علیہ والہ وسلم خلاف معمول باہر تشریف لائے ،حضرت ابوبکرؓ بھی پہنچے،پوچھا ابوبکر اس وقت کیسے آئے، عرض کی حضور کی زیارت کو،تھوڑی دیر میں حضرت عمر بھی آ گئے،ان سے بھی یہی سوال ہوا، انہوں نے کہا یا رسول اللہ اس وقت بھوک یہاں لائی ارشاد ہوا میں بھوکا ہوں ،یہ تینوں بزرگ ابولہثیم کے یہاں چلے ابو الہیثم کے پاس کھجور کے باغات اور بکریوں کے ریوڑ تھے،لیکن کوئی نوکر نہ تھا اور تمام کام خود انجام دیتے تھے، اس وقت وہ گھر میں موجود نہ تھے، مکان پہنچ کر آواز دی ان کی بیوی نے کہا پانی بھرنے گئے ہیں ،تھوڑی دیر میں مشک لیے ہوئے آتے دکھائی دیے محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کو دیکھ کر مشک رکھ دی اور آپ سے لپٹ کر نہایت ذوق و شوق سے کہنے لگے میرے ماں باپ آپ پر فدا، اس کے بعدا پنے باغ میں لے گئے بیٹھنے کے لیے کوئی چیز بچھادی اورخود چھوہاروں کی ایک شاخ کاٹ لائے،محمد صل للہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا پکے چھوہارے لائے ہوتے،عرض کیا اس میں پکے،گدر ہر قسم کے ہیں، جو مرغوب خاطر ہوں، آپ اس کو نوش فرمائیں، چھوہارے کھانے کے بعد پانی پلایا ،پانی نہایت صاف اورشیریں تھا، محمد صل للہ علیہ والہ وسلم نے کھانے کے بعد فرمایا، دیکھو، کتنی نعمتیں ہیں ،سایہ ،عمدہ چھوہارے،ٹھنڈا پانی، خدا کی قسم ان کا قیامت کے دن سوال ہوگا ،ابو الہیثم اپنے معزز مہمانوں کو باغ میں چھوڑ کر مکان آئے اور کھانے کا سامان کیا، محمد صل للہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دودھ دینے والی بکری ذبح نہ کرنا، انہوں نے ایک بچہ ذبح کرایا اوراس کو بریاں کرکے حضور کی خدمت میں لائے،محمد صل للہ علیہ والہ وسلم نے کھانے کے بعد پوچھا تمہارے پاس نوکر ہے، عرض کیا نہیں، فرمایا جب میرے پاس قیدی آئیں تو آنا اس اثنامیں دو قیدی آئے، ابو الہیثم سے ارشاد ہوا کہ ایک کو پسند کرلو، انہوں نے محمد صل للہ علیہ والہ وسلم پر چھوڑا، آپ نے ایک کو اس بنا پر منتخب کیا کہ وہ نماز پڑھتا تھا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس سے اچھا برتاؤ کرنا غلام کو لے کر گھر آئے اوربیوی سے یہ قول نقل کیا۔ بیوی بھی نہایت سمجھدار ملی تھی بولیں فرمان نبوی کی تعمیل منظور ہے، تو ان کو آزاد کر دو، انہوں نے ایسا ہی کیا ،محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کو خبر ملی تو نہایت مسرور ہوئے اور میاں بیوی کی مدح فرمائی۔[5][6][7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (طبقات الکبری لابن سعد،باب ذكر دعاء رسول الله، صلى الله عليه وسلم ، الأوس والخزرج:/۲۱۸)
  2. (طبقات،جلد۱،قسم۱،صفحہ:۱۴۶)
  3. (اسد الغابہ:۴/۱۷۴)
  4. (الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،القسم الاول،جزء۳،صفحہ:۴۲۴)
  5. جامع ترمذی:391
  6. اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 80 حصہ ہشتم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  7. اصحاب بدر، صفحہ 189، قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور