ابن سعد بغدادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ابن سعد سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
محمد ابن سعد ابن المنی الہاشمی
(عربی میں: محمد بن سعد البغدادي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 784[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بصرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات پیر، 5 جمادی الثانی 230ھ/ 16 فروری 845ء
بغداد، خلافت عباسیہ، موجودہ عراق
بغداد[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاذ یحییٰ بن معین،  والواقدی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ کاتب،  ومحدث،  ومؤرخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تاریخ،  وعلم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں طبقات ابن سعد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر الواقدی
P islam.svg باب اسلام

ابن سعد بغدادی (پیدائش: 784ء 146ھ— وفات: 16 فروری 845ء 230ھ) محدث اور مؤرخ تھے اور ان کی تاریخ کی کتاب معروف ہے۔

سوانح[ترمیم]

پورا نام ابوعبد اللہ محمد بن سعدبن منیع البصری الزہری۔ مشہور مورخ الواقدی کا شاگرد اور کاتب تھا۔ بصرہ میں پیدا ہوا۔ لیکن سکونت بغداد میں اختیار کی۔ اپنی تالیف کتاب الطبقات طبقات ابن سعد (جو طبقات الرجال پر مستند کتاب ہے)کی وجہ سے مشہور ہوا۔ اس کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد سے لے صحابہ کرام اور تابعین مولف نے اپنے زمانے تک کی اہم شخصیات کے تذکرے ہیں اور اس سے ہر نئے آنے والے مؤرخ نے استفادہ کیا۔ حاجی خلیفہ ان کی ایک کتاب طبقات الصغیر کا بھی ذکر کیا انہوں نے حدیث ہشیم سفیان بن عیینہ ابن علیہ الولید بن مسلم اورمحمد بن عمر الواقدی سے پڑھی ابوبکر بن ابی الدنیا اوردیگر محدثین نے ان سے روایت کی[4] ایک اور شخصیت ابن سعد اندلسی بھی ابن سعد کے نام سے معروف ہے۔ ۔ یہ بصرہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد بغداد آ گئے۔ یہ زمانہ ہارون الرشید کا تھا جو علم و ہنر کا بہترین زمانہ تھا۔ بغداد اور حجاز میں جا کر بڑے علما و محدثین سے استفادہ کیا اس کے بعد محمد بن عمر واقدی کے شاگرد ہوئے اور آخر عمر تک ان سے وابستہ رہے ابن سعد "کاتب الواقدی "کہلاتے ہیں۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119181118 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. اجازت نامہ: CC0
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120457879 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. دائرہ معارف اسلامیہ جلد اول صفحہ545 جامعہ پنجاب لاہور
  5. طبقات ابن سعد، صفحہ 6 نفیس اکیڈمی لاہور