تاریخ الرسل والملوک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تاریخ الرسل والملوک
مصنفابن جریر طبری
اصل عنوانتاريخ الرسل والملوك
زبانعربی زبان
موضوعHistory of Islam and the Middle East
تاریخ اشاعت
10th century

تاریخ الرسل والملوک جو تاریخ الامم والملوک یا تاریخ طبری کے نام سے مشہور ہے، اہل سنت کے مشہور عالم و محقق محمد ابن جریر الطبری (838ء تا 923ء) کی لکھی ہوئی کتابِ تاریخ ہے، تاریخ اسلام کی مشہور اور مستند کتاب ہے۔ تاریخی سلسلہ میں سب سے جامع اور مفصل کتاب ہے، تاریخ کامل ابن اثیر، تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابوالفداء وغیرہ میں اسی سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ۔[1] بنیادی طور پر یہ عربی میں لکھی گئی تھی مگر اس کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی بیشتر مشہور زبانوں میں ہو چکا ہے۔

اہمیت[ترمیم]

یہ کتاب تاریخ اسلامی کا بہت وسیع ذخیرہ اور تاریخی اعتبار سے ایک شاندار تالیف ہے۔ اس میں مصنف نے بہت عرق ریزی سے کام لیا گیا ہے۔واقعات کو بالاسناد ذکر کیا گیا ہے جس سے محققین کے لیے واقعات کی جانچ پڑتال اور تحقیق سہل ہو گئی ہے۔یہ کتاب سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیر صحابہ وتابعین پر یہ تالیف سند کی حیثیت رکھتی ہے اور سیرت نگاری پر لکھی جانے والی کتب کا یہ اہم ماخذ ہے المختصر سیرت نبوی اور سیرت صحابہ وتابعین پر یہ ایک عمدہ کتا ب ہے۔جس کا مطالعہ قارئین کو ازمنہ ماضیہ کی یاد دلاتا ہےاور ان عبقری شخصیات کے کارہائے نمایاں قارئین میں دینی ذوق ،اسلامی محبت اور ماضی کی انقلابی شخصیات کے کردار سے الفت و یگانگت پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مذہبی شخصیات اور علمائے کرام کے مطابق فحش لٹریچر ،گندے میگزین اور ایمان کش جنسی ڈائجسٹ کی بجائے ایسی تاریخی کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے جو شخصیات میں نکھار ،ذوق میں اعتدال ،روحانیت میں استحکام اور دین سے قلبی لگاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔[2]

حضرت عبد اللہ بن عباس کی مرویات کی تعداد ایک ہزار چھ سو ساٹھ (1660) یاایک ہزار سات سو دس(1710)ہے،یہ ساری روایتیں بخاری شریف اور مسلم شریف کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں بھی ہیں، حدیث شریف کا کوئی بھی مجموعہ ایسا نہیں جس میں آپ کی روایات درج نہ ہوں، کوئی مفسر آپ کے فہمِ قرآن سے بے اعتنائی نہیں کر سکتا،آپ کے اقوال کا بہت بڑا ذخیرہ”جامع البیان فی تفسیر القرآن“ میں ہے۔یہ بھی علامہ ابن جریر طبری کی مرتب کردہ دوسری کتاب ہے، یہ تفسیر کے ذخیرہ میں سب سے پہلی اور مفصل کتاب ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرت النبی از شبلی نعمانی جلد اول صفحہ 19
  2. تاریخ طبری جلد1(873#)
  3. عربی تفاسیرکے ترجمے…تعارف و تجزیہ