مروج الذہب و معادن الجوہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مروج الذہب و معادن الجوہر
(انگریزی میں: The Meadows of Gold ویکی ڈیٹا پر عنوان (P1476) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مروج الذہب و معادن الجوہر

مصنف مسعودی  ویکی ڈیٹا پر مصنف (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان عربی، انگریزی، فرانسیسی  ویکی ڈیٹا پر کام یا نام کی زبان (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
موضوع تاریخ  ویکی ڈیٹا پر مرکزی موضوع (P921) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف غیر افسانوی ادب  ویکی ڈیٹا پر طرز (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آئی ایس بی این 0-7103-0246-0  ویکی ڈیٹا پر آئی ایس بی این-10 (P957) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
او سی ایل سی 23145342  ویکی ڈیٹا پر او سی ایل سی کنٹرول نمبر (P243) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مروج الذہب و معادن الجواہر جسے مختصرا مروج الذہب اور تاریخ المسعودی بھی کہا جاتا ہے ایک کتاب تاریخ جسے مسعودی نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب کی تصنیف کے لیے مصنف نے بذات خود متعدد ممالک کا سفر کیا اور معلومات اکٹھا کی۔

کتاب کا آغاز ابتدائے آفرینش سے ہوتا ہے اور عباسی خلیفہ مطیع للہ کے دور حکومت پر ختم ہوجاتی ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں تاریخ عالم میں ظاہر ہونے والی اقوام و ملل اور حکومتوں کے احوال قلمبند کرنے کے ساتھ ان کی معاشرتی و ثقافتی حالات کا بھی دقت نظر سے جائزہ لیا ہے۔

مروج الذہب کی پندرہ جلدیں اصلاً دو حصوں پر مشتمل ہیں، تاریخ ما قبل اسلام اور ما بعد اسلام۔

  1. ماقبل اسلام کی تاریخ میں مسعودی نے ابتدا تخلیق، کرہ ارض کے جغرافیائی حالات اور تقسیمیں بیان کی ہیں، انبیاء کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ گذشتہ یہودی، مسیحی، عرب، ایرانی، یونانی، رومی اور ہندی اقوام کی تاریخ تحریر کی ہے۔
  2. مابعد اسلام کی تاریخ کے ذیل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، خلفاء راشدین کے حالات اور بنو امیہ و بنو عباس کے دور خلافت کی تاریخ 336ھ تک تحریر کی ہے۔

کتب تاریخ میں مروج الذہب انتہائی بلند مقام رکھتی ہے اور متعدد عالمی زبانوں میں اس کے تراجم بھی شائع ہوچکے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  • المسعودی، علی بن حسین، الشافعی، (مروج الذھب ومعادن

الجوھر ) دارالاندلس للطباعۃ و النشر : بیروت، سال اشاعت 1985 عیسوی۔ (عربی)

  • کشف الظنون عن ﺃسامی الکتب والفنون، حاجی خلیفۃ،

الناشر : مکتبۃ المثنی - بغداد ودار ﺇحیاء التراث العربی، و دار الکتب الالعلمیہ

بیرونی روابط[ترمیم]