اولیاء چلبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اولیاء چلبی
Evliya Çelebi
Image illustrative de l'article اولیاء چلبی

معلومات شخصیت
پیدائش 25 مارچ 1611[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
استنبول   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1682 (70–71 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
دیگر نام Tchelebi فرانسیسی
Tchalabi/Chalabi انگریزی
عملی زندگی
پیشہ کھوج،مؤرخ،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عثمانی ترک زبان[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

اولیاء چلبی (پیدائش:25 مارچ 1611ء – انتقال:1682ء) مشہور سیاح تھے جنہوں نے عثمانی سلطنت کے تمام حصوں اور اس کی پڑوسی ریاستوں میں 40 سال تک سیاحت کی۔

1611ء میں استنبول میں پیدا ہونے والے اولیاء عثمانی دربار سے وابستہ ایک جوہری کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ابتداء میں استنبول میں گھومے پھرے اور اہم عمارات، بازاروں، ملبوسات اور ثقافت کے بارے میں لکھنے کے بعد انہوں نے 1640ء میں شہر کے باہر کا پہلا سفر کیا۔ ان کے سفر کی روداد 10 جلدوں پر مشتمل ہے جو سیاحت نامہ کہلاتی ہے۔ ان کی اس تصنیف کو 17 ویں صدی کی عثمانی سلطنت کے ثقافتی پہلو اور طرزِ زندگی سمجھنے کے لیے انتہائی کارآمد سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد استنبول جبکہ آخری جلد قاہرہ کے بارے میں ہے۔

ان کی اس تصنیف کا مکمل انگریزی ترجمہ آج تک نہيں ہوا تاہم 1834ء میں آسٹریا کے ایک مستشرق جوزف وان ہیمر نے ان کی ابتدائی دو جلدوں کا انگریزی ترجمہ کیا جو استنبول اور اناطولیہ کے بارے میں ہیں۔ یہ مکمل طور پر ناقص ترجمہ تھا اس لیے اس لیے زیادہ مقبول نہ ہو سکا تاہم چند جامعات کے کتب خانوں میں اب بھی مل سکتا ہے جس میں مصنف کا نام "اولیاء آفندی" دکھایا گیا ہے۔

اس سفر نامے کا کارآمد تعارف امریکہ کی جامعہ شکاگو کے ایک پروفیسر رابرٹ ڈینکوف نے 2003ء میں کیا جس کا نام اولیاء چلبی کی دنیا: ایک ذہین عثمانی ہے۔

اولیاء چلبی کا انتقال 1682ء میں ہوا تاہم اس بارے میں علم نہیں کہ ان کا انتقال استنبول میں ہوا یا قاہرہ میں۔

  1. ذکر شدہ : ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121017610 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: open data platform — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ذکر شدہ : مربوط مقتدرہ ملفجی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/11890390X — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  3. درآمد شدہ از: ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121017610 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: open data platform — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ