ابن العدیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مؤرخ حلب، شام
امام کمال الدین عمر بن احمد ابن العدیم
پیدائش عمر بن احمد بن ھبۃ اللہ

ماہِ ذوالحجہ 588ھ/ ماہِ دسمبر 1192ء

حلب، ایوبی سلطنت، موجودہ محافظہ حلب، شام
وفات جمعہ 29 جمادی الاول 660ھ/ 21 اپریل 1262ء
(عمر: 71 سال 6 ماہ قمری)

قاہرہ، سلطنت مملوک، موجودہ مصر
آخری آرام گاہ القرافہ، جبل المقطم، شمال مشرقی قاہرہ، موجودہ مصر
نمایاں کام بغیة الطلب فی تاریخ حلب
زبدة الحلب في تاریخ حلب

ابن العدیم (پیدائش: دسمبر 1192ء– وفات: 21 اپریل 1262ء) بلاد الشام کے عظیم ترین مؤرخین میں سے ایک ہیں۔ ابن العدیم کی وجہ شہرت اُن کی تصانیف بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب اور زبدۃ الحلب فی تاریخ حلب ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

ابن العدیم کا مکمل نام کمال الدین ابو القاسم عمر بن احمد بن ابی جرادۃ ابن العدیم العقیلی الحنفی ہے۔ آداب اللغۃ میں غالبًا ابن الشحنۃ نے روضۃ المناظر کے تتبع میں ابن العدیم کا نام عمر بن عبدالعزیز بن احمد لکھا ہے۔ صاحب کشف الظنون حاجی خلیفہ چلبی نے نام عمر بن ابی جرادۃ عبد العزیز لکھا ہے۔[1]

صاحب البدایۃ والنہایۃ علامہ ابن کثیر الدمشقی نے ابن العدیم کا نسب یوں بیان کیا ہے :

امام عمر بن احمد بن ھبۃ اللہ بن محمد بن ھبۃ اللہ بن احمد بن یحییٰ بن زُہیر بن ہارون بن موسیٰ بن عیسیٰ بن عبداللہ بن محمد بن ابی جرادۃ عامر بن ربیعہ بن خویلد بن عوف بن عامر بن عقیل الحلبی الحنفی ابوالقاسم الامیر الوزیر الرئِس الکبیر ابن العدیم۔[2]

ابن العدیم کا حیثیت و مقام[ترمیم]

ابن العدیم عرب ہیں۔[3] سوانح نگار اور مورخ حلب ہیں۔[4] ابن العدیم محدث، مورخ حلب، روساء کے ایک جلیل القدر عالی مرتبت خاندان بنو جرادۃ کے بلند پایہ منکسر المزاج انسان تھے۔ علامہ ابن کثیر الدمشقی نے محدث ابن العدیم کے متعلق لکھا ہے :

" آپ نے حدیث کا سماع کیا اور حدیث بیان کی، فقہ سیکھا اور فتویٰ دیا۔ درس دیا اور تصنیف کی۔ آپ فنون کثیرہ میں اِمام تھے۔ آپ نے متعدد بار خلفاء اور ملوک سے خط کتابت کی۔ آپ بہت اچھا لکھتے تھے اور تقریبًا چالیس جلدوں میں حلب کی مفید تاریخ لکھی۔ آپ حدیث کی بہت اچھی معرفت رکھتے تھے۔ فقراء اور صالحین سے حسن ظن رکھتے تھے اور اُن سے بہت حسن سلوک کرتے تھے اور آپ نے حکومت الناصریہ متاخرہ دمشق میں قیام اور مصر میں وفات پائی۔ " [5]

ولادت[ترمیم]

ابن العدیم کی ولادت ماہِ ذوالحجہ 588ھ مطابق ماہِ دسمبر 1192ء میں حلب شام میں ہوئی۔ سال ولادت کی یہ تاریخ خود ابن العدیم نے بیان کی ہے جبکہ معجم الادباء میں یاقوت الحموی نے اور ابن کثیر الدمشقی نے بھی یہی بیان کی ہے۔ ابن شاکر نے فوات الوفیات میں 586ھ لکھی ہے جو غلط معلوم ہوتی ہے۔[6] علامہ ابن کثیر الدمشقی نے بھی سال ولادت 586ھ لکھا ہے جو صحیح معلوم نہیں ہوتا۔[2]

ابتدائی حالات[ترمیم]

ابن العدیم کے جد امجد موسیٰ طاعون کی وباء کے باعث سنہ 200ھ مطابق 815ء کے قریب قریب بنو عقیل کے دوسرے افراد کے ساتھ ہجرت کرکے شام چلے آئے تھے۔ یہ بات قابل تعجب ہے کہ اِس خاندان کو بنو عدیم کیوں کہا جاتا ہے؟ اِس کی وجہ کوئی مورخ یا سوانح نگار نہیں بتا سکا اور نہ کوئی اِس کی توجیہ کرسکا۔ ابن العدیم ایک حنفی قاضی کے فرزند تھے اور یہ عہدہ اُن کے خاندان میں موروثی طور پر چار پشت سے چلا آ رہا تھا۔

تحصیل علم[ترمیم]

ابن العدیم نے اولًا اپنے آبائی شہر حلب میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں وہ یروشلم چلے گئے جہاں اُن کے والد دو بار یعنی 603ھ/ 1206ء-1207ء میں اور 608ھ مطابق 1211ء- 1212ء میں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ پہلے سفر یروشلم میں ابن العدیم کی عمر 15 سال اور دوسرے سفر یروشلم میں عمر 20 سال تھی۔ 608ھ مطابق 1212ء کے بعد وہ دمشق، عراق اور حجاز میں تحصیل علم کے واسطے سفر کرتے رہے اور اِس کے بعد وہ حلب کے مدرسہ شاد بخت میں معلم مقرر ہوئے۔ بعد ازاں وہ قاضی کے عہدہ پر فائز ہوئے جس عہدے پر اُن کا خاندان گزشتہ چار پشتوں سے فائز چلا آ رہا تھا۔

سلاطین ایوبیہ تک رسائی اور ہلاکو خان کا طلب کرنا[ترمیم]

ابن العدیم سلاطین ایوبیہ کے ادوارِ حکومت میں وزارت پر فائز رہے۔ ایوبی سلطان الملک العزیز کے عہدِ حکومت 613ھ تا 634ھ مطابق 1216ء تا 1236ء میں اور سلطان الملک الناصر کے عہدِ حکومت 634ھ تا 658ھ مطابق 1236ء تا 1260ء میں وزیر کے عہدہ پر فائز تھے۔ اِن دو سلاطین مذکورہ کے حکم سے کئی بار ابن العدیم بغداد اور قاہرہ میں سفیر کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ تاتاری حکمران ہلاکو خان بھی ابن العدیم کی شخصیت سے متاثر ہوئے نہ رہ سکا۔، جب 9 صفر 658ھ مطابق 25 جنوری 1260ء کو تاتاریوں نے حلب شہر کو فتح کر کے تباہ و برباد کیا تو ابن العدیم سلطان الملک الناصر کے ہمراہ مصر چلے گئے، جبکہ تاتاری حکمران ہلاکو خان نے اُنہیں قاضی القضاۃ کے عہدے پر واپس شام طلب کیا لیکن حکم کی تعمیل سے قبل ہی ابن العدیم جمادی الاول 660ھ مطابق اپریل 1262ء کو فوت ہو گئے۔ 1260ء میں اُنہیں منگولوں کے خلاف فوجی امداد کی طلبی کی خاطر مصر بھیجا گیا تھا۔[7]

وفات[ترمیم]

ابن العدیم 71 سال 6 ماہ کی عمر میں بروز جمعۃ المبارک 29 جمادی الاول 660ھ مطابق 21 اپریل 1262ء کو قاہرہ میں فوت ہوئے اور اُنہیں المقطم قاہرہ میں دفن کیا گیا۔[8][9] ا[10][11][12][13][14][15][16][17][18][19][20][21][22][23][24][25][26][27]

تصانیف[ترمیم]

ابن العدیم کی نہایت مشہور و اہم تصنیف "" بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب "" ہے جو اُن کے آبائی وطن کے مشاہیر کی تاریخ ہے۔ یہ کتاب عین خطیب بغدادی اور ابن عساکر کی تاریخ کے نمونہ پر بترتیب حروف تہجی مرتب کی گئی ہے۔ کچھ حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کی چالیس جلدیں لکھی گئی تھیں مگر اب یہ کتاب اصل کتاب کے تیسرے حصہ جتنی بھی باقی نہیں رہ گئی۔ اِس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اِس کتاب کا مبیضہ کبھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا نتیجتًا امیر تیمور کی زیر قیادت مغلوں کے حملوں سے قبل ہی اِس کتاب کے مختلف اجزاء ہر جانب منتشر ہوچکے تھے، حتیٰ کہ ابن الشحنہ کو بھی اِس کتاب کی ایک جلد کا علم ہو سکا۔ اِس کتاب کا ایک خلاصہ خود ابن العدیم نے " زبدۃ الحلب فی تاریخ حلب" کے نام سے تاریخی ترتیب کے ساتھ تیار کیا تھا مگر اِس کتاب کا بھی مبیضہ مکمل کرنے سے قبل وہ فوت ہو گئے۔

اِس کتاب کے مختلف مخطوطے کئی کتب خانوں میں محفوظ ہیں حو یہ ہیں :

کتاب خانہ اھلیہ پیرس، شمارہ 2138 پیرس۔ اِس نسخے کی ایک نقل سینٹ پیٹرز برگ میں بھی ہے جو قلمی نسخہ ہے جو 1881ء کے عدد نمبر 160 ص 98 میں درج ہوچکا ہے۔

موزہ بریطانیہ حصہ 2، شمارہ 1290 لندن، برطانیہ۔

آیا صوفیہ شمارہ 3036، اِستنبول ترکی۔

برلن 10:60، عدد نمبر 51 برلن جرمنی۔

زبدۃ الحلب فی تاریخ حلب کا ایک نسخہ ایک فرانسیسی وزیر جین بیپٹسٹ کالبرٹ Jean-Baptiste Colbert (پیدائش 29 اگست 1619ء- وفات 6 ستمبر 1683ء) کی ذاتی لائبریری میں موجود تھا جو بعد ازاں فرانس کی قومی لائبریری Bibliothèque nationale de France کو منتقل ہو گیا۔ اِس نسخے کے چند مفید اِقتباسات کو 1819ء میں لاطینی ترجمہ مع عربی متن و حواشی کے ساتھ جرمن مستشرق جارج فرائیتاغ Georg Freytag (پیدائش 19 ستمبر 1788ء - وفات 16 نومبر 1861ء) نے Selecta ex Historia Halebi کے نام سے پیرس سے شائع کیا۔

عربی متن کے ساتھ فرانسیسی ترجمہ 1896ء میں صفحہ نمبر 509 تا 565 شائع ہوا۔ 1897ء میں صفحہ نمبر 146 تا 235 شائع ہوا۔ 1898ء میں صفحہ نمبر 37 تا 107 شائع ہوا۔ مزید اِس کے آگے 6 ربیع الثانی 951ھ مطابق 27 جون 1544ء تک کا خلاصہ محمد ابن الحنبلی متوفی 971ھ مطابق 1564ء نے " در الحبب فی تاریخ اعیان حلب" کے نام سے لکھا تھا جو اب موزہ برطانیہ میں عدد نمبر 334 کے تحت مخطوطے کی شکل میں محفوظ ہے۔

علاء الدین ابو الحسن علی بن محمد بن سعد المعروف ابن خطیب الناصریہ متوفی 843ھ مطابق 1439ء نے اِس کتاب کا تکملہ بنام " الدر المنتخب فی تکملہ تاریخ حلب" لکھا۔ یہ تصنیف شہر حلب کے بیان اور 659ھ سے ممتاز باشندگان حلب کی سوانح و سیرت پر مبنی ہے۔

موفق الدین ابوالفضل محمد بن الشحنۃ الحلبی متوفی 890ھ مطابق 1485ء نے اِس کتاب کا ذیل بنام " نزھۃ النواظر فی روض المناظر" لکھا۔ اِس ذیل کا مخطوطہ برلن جرمنی میں عدد نمبر 9791 کے تحت محفوظ ہے۔

اِس کتاب سے ابن الشحنۃ کی اولاد میں سے ایک شخص نے 1014ھ اور 1024ھ کے درمیانی عرصہ میں مرتب کیا تھا جس میں اُس شخص نے جا بجا اپنے زمانہ کے کوائف سے متعلق تفصیل سے حواشی تحریر کیے ہیں۔ اِس خلاصہ کو بیروت لبنان سے 1909ء میں جوزف ایلیاس سرکیس نے " الدر المنتخب فی تاریخ مملکۃ حلب" کے نام سے شائع کیا۔

""تاریخ الاخبار المستفادۃ فی ذکر بنی ابی جرادۃ "" : یہ کتاب ابن العدیم نے یاقوت الحموی کے لیے لکھی تھی، اب اِس کے اِقتباسات یاقوت الحموی کی کتاب الارشارالاریب اِلی معرفۃ الادیب میں دیکھے جاسکتے ہیں۔[8]

ابن العدیم کا منظوم کلام میں ایک مرثیہ بھی مشہور ہے جو حلب کی تباہی پر لکھا گیا تھا، اِس مرثیہ کے بعض اشعار ابوالفداء ابن کثیر نے لکھے ہیں۔

"" الدرارِی فی ذکر الذرارِی"" : یہ ایک مکتوب ہے جو ابن العدیم نے سلطان الملک الظاہر کے فرزند کی ولادت پر اُنہیں لکھا گیا تھا۔ یہ مکتوب بصورتِ مخطوطہ مکتبہ نوری عثمانیہ شمارہ 3790 سے نقل کرکے اِستنبول میں 1298ھ میں شمارہ 2 میں شائع کر دیا گیا تھا۔

"" الوصیلۃ اِلٰی الحبیب فی وصف الطیبات و الطیب"": اِس کتاب میں ہر قسم کی خوشبوئیں اور طرح طرح کے عطر تیار کرنے کے طریقہ جات و ہدایات لکھی گئی ہیں۔ اِس کتاب کا متفرق قلمی نسخے موجود ہیں جو برلن جرمنی میں شمارہ 463 میں، موزہ بریطانیہ 1894ء کے تحت اور 1912ء کے تحت صفحہ 56، 62 اور شمارہ 6388 کے تحت موجود ہیں۔ بانکی پور ہندوستان میں جلد 4 ص 146 میں شمارہ 96 کے تحت محفوظ ہے۔

ابن العدیم کا شمار اُس وقت کے خوش نویسوں میں ہوتا تھا اِس کا اندازہ اُن مخطوطوں سے لگایا جا سکتا ہے جو اب سینٹ پیٹرزبرگ روس میں موجود ہیں۔ یاقوت الحموی نے بھی ابن العدیم کی خوشنویسی کا تذکرہ خوب تفصیل میں کیا ہے۔ ابن العدیم کا نثری کتب کے علاوہ نظم کا درک بھی اُنہیں ممتاز علما میں شمار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ابن العدیم کا فرزند مجد الدین عبد الرحم متوفی 677ھ/ 1278ء بھی اپنے عہد کے اکابر علما میں سے تھے۔

ابن العدیم کے خاندان کے دیگر دوسرے افراد کا تذکرہ بھی ملتا ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر نے ابراہیم متوفی 687ھ/ 1385ء کا، احمد بن ابراہیم جو غالبًا 835ھ مطابق 1431ء میں حیات تھے کا تذکرہ کیا ہے۔ امام سخاوی نے الضوء اللامع میں عبد العزیز بن عبد الرحمن متوفی 882ھ مطابق 1477ء کا ذکر بھی کیا ہے۔

مشہور تصانیف[ترمیم]

ابن العدیم کی مشہور تصانیف یہ ہیں :

  • بُغیة الطلب فی تاریخ حلب
  • زُبدة الحَلَبِ فی حلب
  • الدراری فی ذکر الذَراری
  • الوسیلة الی الحبیب فی ذکر الطیِّبات و الطیب
  • بلوغ الآمال مما هوی الکمال
  • الإنصاف و التحرّی فی دفع الظُلم و التجرّی عن أبی العلاء المعرّی
  • الأخبار المستفادة فی ذکر بنی جرادة
  • کتاب فی الخط و علومه و آدابه و وصف ضروبه و أقلامه

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حاجی خلیفہ چلبی: کشف الظنون شمارہ 291۔
  2. ^ ا ب ابن کثیر الدمشقی: البدایۃ والنہایۃ، جلد 13 ص 282۔
  3. John Julius Norwich, Byzantium: The Apogee, (Alfred A. Knopf Inc., 1992), 342
  4. Farhad Daftary, The Isma'ilis: Their History and Doctrines, (Cambridge University Press, 2007), 309
  5. ابن کثیر الدمشقی: البدایۃ والنہایۃ، جلد 13 ص 283۔ تذکرہ حوادث سنۃ 660ھ۔
  6. تلخیص دائرۃ المعارف الاسِلامیۃ [اِنسائیکلوپیڈیا آف اِسلام] : جلد 1 ص 600، طبع لاہور 1384ھ/ 1964ء۔
  7. Ibn al-Adim, David Morray, Medieval Islamic Civilization:An Encyclopedia, Vol. 1, ed. Josef W. Meri, (Routledge, 2006), 342
  8. ^ ا ب یاقوت الحموی: ارشاد الاریب اِلی معرفۃ الادیب، جلد 6 ص 18 تا 46، طبع احمد فرید جلد 15 ص 57۔
  9. ابن کثیر الدمشقی: تاریخ ابن کثیر، جلد 13، ص 236۔
  10. ابن قطلوبغا: طبقات الحنفیہ، جلد 2 طبع لائپزگ 1862ء، شمارہ 143۔
  11. امام جلال الدین السیوطی: حسن المحاضرۃ، جلد 1 ص 220۔
  12. ابن شاکر: فوات الوفیات، جلد 2 ص 101، طبع 1299ھ در بولاق۔
  13. ابوالفداء: تاریخ ابوالفداء، جلد 4 ص 634۔
  14. الیُونینی: ذیل مرآۃ الزمان، طبع اول جلد 1 ص 510۔
  15. ابن ابی الوفاء: جواہر المضیئۃ، جلد 1 ص 386۔
  16. الیافعی: مرآۃ الجنان، جلد 4 ص 158۔
  17. ابن الزِّیات: الکواکب السائرۃ، ص 272۔
  18. ابن تغری بِردی: النجوم الزاہرہ، جلد 7 ص 208۔
  19. حاجی خلیفہ چلبی: کشف الظنون، عمود 249، طبع یالتقایا۔
  20. ابن الوردِی: جلد 2 ص 215۔
  21. الطباخ : اعلام النبلاء، جلد 2 ص 313، مع جلد 4 ص 464۔
  22. مجلۃ المجمع العلمی : جلد 23 ص 251۔
  23. عبد الحئی لکھنوی: الفوائد البیھۃ، ص 174۔
  24. ابن العماد: شذرات الذھب، جلد 5 ص 303۔
  25. الفہرس التمہیدی : ص 564۔
  26. براکلمان: جلد 1 ص 332۔ مع تکملۃ براکلمان: جلد 1 ص 568۔
  27. وُسٹنفلٹ : شمارہ 345۔