ثوبان بن بجدد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ثوبان بن بجدد
معلومات شخصیت
مقام پیدائش حجاز  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 674  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حمص  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ثوبان بن بجددرسول اللہ ﷺ کی خدمت پر مامور صحابی تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

ثوبان نام،ابوعبداللہ کنیت، خاندانی تعلق یمن کے مشہور حمیری خاندان سے تھا، ان کے والد بجدد یا جحدر تھے ابتدا میں غلام تھے،آنحضرت نے خرید کر آزاد کر دیا،اورفرمایا دل چاہے اپنے خاندان والوں کے پاس چلے جاؤ اور دل چاہے میرے ساتھ رہو، میرے ساتھ رہوگے تو اہل بیت میں شمار ہوگا، انہوں نے خدمت نبویﷺ کی حاضری کو اہل خاندان پر ترجیح دی اورزندگی بھر خلوت وجلوت میں آپ کے ساتھ رہے۔

شام میں قیام[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے کچھ دنوں بعد تک مدینہ ہی میں رہے؛لیکن آقا کے سانحہ رحلت نے گلشن مدینہ کو خاربنادیا، اس لیے یہاں کا قیام چھوڑ کر رملہ شام میں اقامت اختیار کرلی اورمصر کی فتوحات میں شریک ہوتے رہے،پھر رملہ سے منتقل ہوکر حمص میں گھر بنالیا اور یہیں 45ھ میں وفات پائی۔ کتب احادیث میں 127 احادیث آپ سے مروی ہیں۔[1][2]

اخلاق وعادات[ترمیم]

ان کو احترام نبوی میں اتنا غلو تھا کہ غیر مسلموں سے بھی کوئی لفظ ایسا نہیں سن سکتے تھے جس سے ذرا بھی نبوت کے احترام کو صدمہ پہنچتا ہو، ایک مرتبہ ایک یہودی عالم نے آکر السلام علیک یا محمدﷺ! کہا ثوبان بگڑ گئے اوراس زور سے اس کو دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا، اس نے سنبھل کر اس برہمی کا سبب پوچھا، بولے تونے یا رسول اللہ!کیوں نہ کہا وہ بولا، اس میں کیا گناہ تھا کہ میں نے ان کا خاندانی نام لیا، آنحضرت نے فرمایا ہاں میرا خاندانی نام محمدﷺ ہے۔[3]نبوت کا احترام تو بڑی چیز ہے،ثوبانؓ آپ کے ساتھ اپنی غلامی کی نسبت کا بھی احترام کرتے تھے،اگر کوئی شخص اس میں ذراکمی کرتا تو متنبہ کرتے تھے،حمص کے قیام کے زمانہ میں بیمار ہوئے،یہاں کا والی عبداللہ بن قرط ازدی عیادت کرنے نہیں آیا، آپ نے اس کو ایک رقعہ لکھوایا کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ کا غلام تمہارے یہاں ہوتا، تو تم اس کی عیادت کرتے ،والی کو یہ رقعہ ملا تو اس بدحواسی کے ساتھ گھر سے نکلا کہ لوگ سمجھے کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آگیا ہے، [4] اسی حالت میں آپ کے گھر پہنچا اور دیر تک بیٹھا رہا۔ [5]

فضل وکمال[ترمیم]

ثوبانؓ آنحضرتﷺ کے خادم خاص تھے،اس تقریب سے انہیں استفادہ کے زیادہ مواقع ملتے تھے ؛چنانچہ 127 /احادیث ان کے حافظہ میں محفوظ تھیں، جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں،[6] حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ ثوبانؓ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے حدیثیں محفوظ کیں اور ان کی اشاعت بھی کی، [7]ان کے تلامذہ میں معدان بن طلحہ ،راشد بن سعد، جبیر بن نفیر،عبدالرحمن ابن غنم، ابو ادریس خولاق قابلِ ذکر ہیں، [8]آنحضرتﷺ کے بعد جو جماعت صاحبِ علم وافتا تھی، اس کے ایک رکن ثوبانؓ بھی تھے۔ [9] شائقین حدیث فرمایش کرکے ان سے حدیثیں سنتے تھے، ایک مرتبہ لوگوں نے حدیث سنانے کی درخواست کی انہوں نے یہ حدیث سنائی کہ جو مسلمان خدا کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے،خدا اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اوراس کی خطاؤں سے درگزر کرتا ہے، [10] ان کے معاصرین دوسروں سے سنی ہوئی حدیثوں کی تصدیق ان سے کراتے تھے،معدان بن طلحہ نے حضرت ابو درداؓ سے ایک حدیث سنی تو ثوبان سے اس کی تصدیق کی۔[11]آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد جو جماعت صاحب علم وافتاء تھی اس کے ایک رکن یہ بھی تھے۔ [12] ان کے تلامذہ کا دائرہ بھی وسیع تھا، معدان بن طلحہؓ ،راشد بن سعدؓ،جیربن نضیرؓ،عبدالرحمن بن غنم،ابوادریس خولانی،آپ کے خوشہ چینوں میں تھے۔ [13]

پاس فرمان رسولﷺ[ترمیم]

آقائے نامدار کی حیات میں اور وفات کے بعد دونوں زمانوں میں یکساں فرمان نبوی پیش نظر رہتا تھا، ایک مرتبہ زبان مبارک سے جو کچھ سن لیا وہ ہمیشہ جان کے ساتھ رہا، جس چیز میں آقا کے حکم کی خلاف ورزی کا ادنی سا پہلو نکلتا تھا، اس سے ہمیشہ محترز رہے، ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ کبھی کسی سے سوال نہ کرتا، اس فرمان کے بعد کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ ہوا اور اس شدت سے اس پر عمل رہا کہ اگر سواری کی حالت میں کوڑا ہاتھ سے چھوٹ کر گر جاتا تھا، تو خود اتر کر اٹھاتے تھےاور کسی سے سوال نہ کرتے تھے ۔ [14]

غلامی کی نسبت کا احترام[ترمیم]

نبوت کا احترام تو مذہبی فرض ہے،ثوبانؓ اپنی غلامی کی نسبت کا احترام بھی ضروری سمجھتے تھے اورجو شخص اس میں کمی کرتا تھا، اس کو متنبہ کرتے تھے، حمص کے زمانہ قیام میں بیمار پڑے، عبد اللہ بن قط ازدی والی حمص اُن کی عیادت کو نہ آیا، اس کی اس غفلت پر اس کو یہ رقعہ لکھوایا، اگر موسیٰ ؑ اورعیسیؑ کا غلام تمہارے یہاں ہوتا تو تم اس کی عیادت کرتے یہ رقعہ جب عبد اللہ کو ملا تو اسے اپنی کوتاہی پر ندامت ہوئی اوروہ اس کی تلافی کے لیے اس عجلت اور بدحواسی کے ساتھ نکلا کہ لوگ سمجھے کہ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آگیا ہے،غرض وہ بے تابانہ حضرت ثوبانؓ کے گھر آیا اور دیر تک بیٹھا رہا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،ابن اثیر جلد دوم، صفحہ 357 المیزن پبلیکیشنز لاہور
  2. مستدرک حاکم:5/481
  3. مستدرک حاکم:3/481
  4. (مسند احمد بن حنبل:۵/۲۸۰)
  5. (مسند احمد بن حنبل:۵/۲۸۰)
  6. (تہذیب الکمال)
  7. (استیعاب :1/86)
  8. (تہذیب التہذیب:3/31)
  9. (اعلام الموقعین :1/15)
  10. (مسند احمد بن حنبل:5/276)
  11. (ابوداؤد:1/237)
  12. (اعلام الموقعین :۱/۹۵)
  13. (تہذیب التہذیب :۲/۳۱)
  14. (مسند احمد بن حنبل:5/277)