ثوبان بن بجدد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ثوبان بن بجددرسول اللہ ﷺ کی خدمت پر مامور صحابی تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

ثوبان نام،ابوعبداللہ کنیت، خاندانی تعلق یمن کے مشہور حمیری خاندان سے تھا، ان کے والد بجدد یا جحدر تھے ابتدا میں غلام تھے،آنحضرت نے خرید کر آزاد کر دیا،اورفرمایا دل چاہے اپنے خاندان والوں کے پاس چلے جاؤ اور دل چاہے میرے ساتھ رہو، میرے ساتھ رہوگے تو اہل بیت میں شمار ہوگا، انہوں نے خدمت نبویﷺ کی حاضری کو اہل خاندان پر ترجیح دی اورزندگی بھر خلوت وجلوت میں آپ کے ساتھ رہے۔

شام میں قیام[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے کچھ دنوں بعد تک مدینہ ہی میں رہے؛لیکن آقا کے سانحہ رحلت نے گلشن مدینہ کو خاربنادیا، اس لیے یہاں کا قیام چھوڑ کر رملہ شام میں اقامت اختیار کرلی اورمصر کی فتوحات میں شریک ہوتے رہے،پھر رملہ سے منتقل ہوکر حمص میں گھر بنالیا اور یہیں 45ھ میں وفات پائی۔ کتب احادیث میں 127 احادیث آپ سے مروی ہیں۔[1][2]

اخلاق وعادات[ترمیم]

ان کو احترام نبوی میں اتنا غلو تھا کہ غیر مسلموں سے بھی کوئی لفظ ایسا نہیں سن سکتے تھے جس سے ذرا بھی نبوت کے احترام کو صدمہ پہنچتا ہو، ایک مرتبہ ایک یہودی عالم نے آکر السلام علیک یا محمدﷺ! کہا ثوبان بگڑ گئے اوراس زور سے اس کو دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا، اس نے سنبھل کر اس برہمی کا سبب پوچھا، بولے تونے یا رسول اللہ!کیوں نہ کہا وہ بولا، اس میں کیا گناہ تھا کہ میں نے ان کا خاندانی نام لیا، آنحضرت نے فرمایا ہاں میرا خاندانی نام محمدﷺ ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،ابن اثیر جلد دوم، صفحہ 357 المیزن پبلیکیشنز لاہور
  2. مستدرک حاکم:5/481
  3. مستدرک حاکم:3/481