سعد بن عبادہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سعد بن عبادہ
(عربی میں: سعد بن عبادة ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 1 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 636 (35–36 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الشیخ سعد،  حوران  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد،  غزوہ خندق،  غزوہ حنین،  فتح مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سعد بن عبادہ قبیلہ خزرج کے سردار اور ابتدائی صحابہ میں شمار ہوتا ہے۔

نام ونسب[ترمیم]

سعد نام، ابو ثابت وابو قیس کنیت، سید الخزرج لقب، قبیلۂ خزرج کے خاندان ساعدہ سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے:سعد بن عبادہ بن ولیم بن حارثہ بن حزام بن خزیمہ بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج اکبر۔ والدہ کا نام عمرہ بنت مسعود تھا اورصحابیہ تھیں۔ سعدکے دادا ولیم قبیلۂ خزرج کے سرداراعظم تھے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

عرب کے قاعدہ کے مطابق تیر اندازی اور تیراکی سکھائی گئی، اگرچہ انصار میں ایک آدمی بھی لکھنا نہیں جانتا تھا، محمد صل للہ علیہ والہ وسلم)لیکن سعدکی تعلیم میں جو اہتمام ہوا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ جاہلیت میں ہی نہایت عمدہ عربی لکھ لیتے تھے ان تینوں چیزوں میں اس درجہ کمال بہم پہنچایا کہ استاد ہو گئے اسی بنا پر لوگوں نے "کامل" کا لقب دیا۔[1]

اسلام[ترمیم]

بیعت عقبہ ثانیہ میں اسلام قبول کیا اوران کا شمار بلند پایہ صحابہ میں کیا گیا؛ چنانچہ بخاری میں ہے وقان ذا قدم فی الاسلام یعنی بڑے پایہ کے مسلمان تھے۔[2]

غزوات میں شرکت[ترمیم]

میں بدر کا معرکہ پیش آیا، سعدنے غزوہ کا سامان کیا تھا؛ لیکن کتے نے کاٹ کھایا اور وہ اپنے ارادے سے باز آئے، محمد صل للہ علیہ والہ وسلم نے سنا تو فرمایا کہ افسوس ان کو شرکت کی بڑی حرص تھی، تاہم مال غنیمت میں حصہ لگایا اوراصحاب بدر میں شامل کیا۔[3]

  • غزوہ احد میں مشرکین اس سروسامان سے آئے تھے کہ مدینہ والوں پر خوف طاری ہو گیا تھا، شہر میں تمام رات جمعہ کی شب پہرہ رہا اس موقع پر سعد چند اکابر انصار کے ساتھ مسجد نبوی میں ہتھیار لگائے محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کے مکان کی حفاظت کر رہے تھے۔ خزرج کا علم سعد بن عبادہ کے سپرد کیا ۔
  • خندق کے معرکہ میں بھی انصار کا علم سعدبن عبادہ کے پاس تھا۔
  • میں محمد صل للہ علیہ والہ وسلم نے نمابہ پر حملہ کیا اور سعد کو 300 آدمیوں کا افسر مقرر کرکے، مدینہ کی حفاظت کے لیے چھوڑ گئے۔
  • میں غزوہ حدیبیہ اور بیعت رضوان پیش آئی وہ دونوں میں موجود تھے۔
  • غزوہ خیبر (7ھ) میں اسلامی لشکر میں تین جھنڈے تھے جن میں سے ایک سعد کے پاس تھا۔
  • فتح مکہ میں خود محمد صل للہ علیہ والہ وسلم کا رایت (جھنڈا) سعدکے پاس تھا،
  • فتح مکہ کے بعد حنین کا معرکہ ہوا اس میں قبیلہ خزرج کا علم سعد کے پاس تھا۔[4]
  • ان غزوات کے علاوہ بھی جو غزوات یا مشاہد عہد نبوی میں پیش آئے ان میں حضرت سعدؓ کی نمایاں شرکت رہی، میدان جنگ میں انصار کے وہی علمبردار ہوتے تھے۔

سقیفہ بنی ساعدہ[ترمیم]

محمد صل للہ علیہ والہ وسلم نے وفات پائی تو سقیفۂ بنی ساعدہ میں جو انصار کا دارالندوہ اورسعد بن عبادہ کی ملکیت تھا لوگ جمع ہوئے، سعدبیمار تھے، انصار نے ان کی خلافت پر بیعت کا ارادہ کیا تھا۔

وفات[ترمیم]

سعد بن عبادہ نے15ھ میں وفات پائی۔[5]

اولاد[ترمیم]

تین اولادیں چھوڑیں ،قیس (بہت بڑے صحابی ہیں) سعید ،اسحاق بیوی کا نام فکیہہ تھا،صحابیہ تھیں اور چچازاد بہن ہوتی تھیں۔ [6]

مکان اورجائداد[ترمیم]

جائداد بہت تھی، جب مدینہ چھوڑا تو بیٹوں پر تقسیم کردی ایک لڑکا پیٹ میں تھا جس کا حضرت سعدؓ نے حصہ نہیں لگایا تھا، جب پیدا ہوا تو حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ نے قیس ؓ سے کہا کہ اپنے باپ کی تقسیم فسخ کردو، کیونکہ ان کے فوت ہونے کے بعد لڑکا پیدا ہوا ہے، قیس نے کہا باپ نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا اس کو بدستور قائم رکھوں گا، میرا حصہ موجود ہے اس کو وہ لے سکتا ہے۔ [7] حضرت سعدؓ کا مکان بازار مدینہ کی انتہا پر واقع تھا اور جرار سعد کہلاتا تھا ایک مسجد اور چند قلعے بھی تھے ایک مکان بنو حارث میں بھی ان کی ملکیت تھا۔ [8]

فضل وکمال[ترمیم]

حدیث کے ساتھ غیر معمولی اعتنا کیا،صحابہؓ کے زمانہ میں کتابت اگرچہ عام ہو گئی تھی اور قرآن مجید لکھا جاچکا تھا، تاہم حدیث لکھنے کا رواج نہ تھا ،حضرت سعدؓ نے حدیث لکھی تھی ،مسند بن حنبل میں ہے: عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ وَجَدُوا فِي كُتُبِ أَوْ فِي كِتَابِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ یعنی انہوں نے حضرت سعدؓ کی کتابوں یا کتاب میں پایا ہے۔ حدیث لکھنے کے ساتھ اس کی تعلیم کے ذریعہ سے اشاعت بھی کی،چنانچہ ان کے بیٹےحضرت عبد اللہ بن عباسؓ، امامہ بن سہل، سعید بن مسیبؓ وغیرہ ان سے حدیثیں روایت کرتے ہیں۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

حضرت سعدؓ کے مرقع اخلاق میں جو دو سخا کے خال وخط نہایت نمایاں ہیں،اسماء الرجال کے مصنف جب ان کا تذکرہ کرتے ہیں تو لکھتے ہیں ،وکان کثیر الصدقات جدا۔ حضرت سعدؓ مشہور فیاض آدمی تھے اور تمام عرب میں یہ بات صرف انہی کو حاصل تھی کہ ان کی چار پشتیں جو دو سخا میں نام آور ہوئیں ان کے دادا ولیم باپ (عبادہ) خود،بیٹا (قیس ) اپنے زمانہ کے مشہور مخیر تھے۔ ولیم کے زمانہ میں خوانِ کرم اس قدر وسیع تھا کہ معمولا قلعہ پر سے ایک شخص پکارتا جس کو گوشت اورروغن اور اچھا کھانا مطلوب ہو ہمارے ہاں قیام کرے اس سخاوت عام نے آل ساعدہ کو مدینہ کا حاتم بنا رکھا تھا، ولیم کے بعد حضرت سعدؓ رضی اللہ عنہ تک یہی رسم قائم رہی اوران کے بعد قیس نے اس کو اسی طرح باقی رکھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ایک دفعہ حضرت سعدؓ کے مکان کی طرف سے گذرے ،قلعہ نظر آیا، تو نافع سے کہا دیکھو یہ سعد کے دادا کا قلعہ ہے جن کے سخاوت وجود کی تمام مدینہ میں دھوم تھی۔ حضرت سعدؓ کی فیاضی افسانہ بزم وانجمن ہے، بہت سے قصے مشہور ہیں، ہم چند صحیح واقعات اس مقام پر درج کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت سعدؓ کے ہاں سے برابر کھانا آتا تھا، اصابہ میں ہے، کانت جفنۃ سعد تدور مع النبی ﷺ فی بیوت ازواجہ۔ صحابہؓ میں اصحاب صفہ کی ایک جماعت تھی،جو دوردراز ملکوں سے ہجرت کرکے مدینہ آئی تھی،یہاں اس کا منشا صرف تحصیل علم اورتکمیل مذہب ہوتا تھا، رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو ذی مقدرت صحابہ کے متعلق کردیتے تھے،چنانچہ اور لوگ ایک دو آدمی اپنے ہاں لے جاتے تھے،لیکن حضرت سعدؓ 80 آدمیوں کو برابر شام کے کھانے میں مدعو کرتے تھے۔ فطری سخاوت ہر جگہ نمایاں ہوتی تھی، ماں نے انتقال کیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں مگر کیا صورت ہو؟ آپ نے فرمایا کہ پانی پلواؤ،سقایہ آل سعد جو مدینہ میں ہے، اسی صدقہ کا نتیجہ ہے۔ [9] حمیت قومی انتہائی درجہ تک پہنچی ہوئی تھی ،قضیہ افک میں آنحضرتﷺ نے منبر پر فرمایا کہ ابن ابی نے میرے گھر والوں (حضرت عائشہؓ ) کو تہمت لگائی جس سے مجھے سخت تکلیف پہونچی کوئی ہے جو اس کا تدارک کرنے پر آمادہ ہو؟ سعد بن معاذؓ کہ اوس کے سردار تھے، بولے کہ میں حاضر ہوں ،جو حکم ہو بجالاؤں،اگر قبیلۂ اوس کا آدمی ہے تو ابھی گردن ماردی جائے اورخزرج کا ہے تو جو فرمائیے بجالانے کو تیار ہوں(خزرج اور اوس میں دیرینہ عداوت تھی، جاہلیت میں بڑے معرکے کی لڑائیاں ہوچکی تھیں، اسلام نے صلح کرائی،تاہم دلوں میں کدورت باقی تھی، اس بنا پر حضرت سعدؓ بن معاذ کی یہ درخواست کہ خزرج کے معاملہ میں ہم آپ کے حکم کے منتظر ہیں ،یہ معنی رکھتی تھی کہ اس پر غلبہ پانے کی ایک صورت نکل آئے ،جو یقیناً خزرج کے لیے ناقابل برداشت تھی) سعدؓ بن عبادہ سردار خزرج نے اٹھ کر کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو تم خزرج کو کبھی نہیں قتل کرسکتے اور نہ اس پر قادر ہو اگر تمہارے خاندان (اشہل) کا معاملہ ہو تا تو زبان سے ایسی بات نہ نکالتے، اسیدؓ بن حضیر نے حضرت سعدؓ بن معاذ کے ابن عم تھے جواب دیا کہ تم یہ کیا کہتے ہو، رسول اللہ ﷺ حکم دیں تو ہم ضرور ماریں گے، تم منافق ہو اور منافق کی طرف سے لڑ رہے ہو ،اتنا کہنا تھا کہ دونوں قبیلے جوش میں اٹھ کھڑے ہوئے،آنحضرتﷺ منبر پر تھے، آہستہ آہستہ دھیما کیا، یہاں تک کہ حمیت کا غلغلہ پست ہو گیا۔ [10] حب رسول کا یہ حال تھا کہ اپنے قبیلہ کی پوشیدہ باتیں جو رسول اللہ ﷺ سے متعلق ہوتیں پہنچا دیتے تھے،غزوہ ہوازن میں آنحضرتﷺ نے قریش اورسردارانِ قریش کو غنیمت کی بڑی بڑی رقمیں دی تھیں اور انصار کو کچھ نہ دیا تھا، بعض نوجوانوں کو اس ترجیع پر رنج ہوا، اورکہا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہم قوموں کو دیتے ہیں اور ہم کو محروم کرتے ہیں، حالانکہ قریش کا خون ہماری تلواروں سے اب تک ٹپک رہا ہے حضرت سعدؓ بن عبادہ نے جاکر رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ یہ خیالات ہیں، فرمایا تم کیا کہتے ہو؟ عرض کیا گو میں انصاری ہوں، لیکن یہ خیال نہیں ارشاد ہوا کہ جاؤ اور لوگوں کو فلاں خیمہ میں جمع کرو، اعلان ہوا تو مہاجرین اور انصار دونوں آئے، حضرت سعدؓ نے مہاجرین کو چھانٹ دیا، آنحضرتﷺ نے آکے خطبہ دیا جس کا ایک فقرہ یہ تھا کہ کیا تم لوگ راضی نہیں کہ تمام لوگ مال و دولت لے کر جائیں اور تم خود مجھ کو اپنے ہاں لے چلو، تمام لوگ روپڑے اور باتفاق کہا کہ آپ کے مقابلہ میں ساری دنیا کی دولت ہیچ ہے۔ [11] غزوہ احد میں تمام مدینہ خطرہ میں پڑ گیا تھا لوگ شہر میں پہرہ دے رہے تھے اس وقت حضرت سعدؓ نے اپنا مکان چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کے مکان کا پہرہ دیا تھا۔ آنحضرتﷺ کو ان سے جو محبت تھی اس کا یہ اثر تھا کہ ان کے مکان پر تشریف لے جاتے تھے، ایک مرتبہ ان کے لیے دعا کی تو فرمایا، اللھم اجعل صلواتک ورحمتک علی آل سعدؓ بن عبادہ۔ ایک مرتبہ فرمایا خدا انصار کو جزائے خیر دے، خصوصا عبد اللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہؓ کو۔ صدقات کے افسروں کی ضرورت ہوئی تو ان کو بھی منتخب کیا، لیکن جب امارت کی ذمہ داریوں سے واقف ہوئے تو عرض کیا کہ میں اس خدمت سے معذور ہوں، آنحضرتﷺ نے عذر قبول فرمایا۔ [12] ایک مرتبہ بیمار پڑے تو آنحضرتﷺ صحابہ کو لے کر عیادت کے لیے تشریف لائے درد سے بے ہوش تھے کسی نے کہہ دیا کہ ختم ہو گئے بعض بولے ابھی دم باقی ہے، اتنا سننا تھا کہ آنحضرتﷺ روپڑے اور ساتھ ہی تمام مجلس میں ماتم پڑ گیا۔ [13] نرمی طبع اورامن پسندی ذیل کے واقعہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ ان کی عیادت کو تشریف لا رہے تھے راستہ میں ابن ابی بیٹھا تھا، اس نے آنحضرتﷺ سے سخت کلامی کی صحابہ کو طیش آگیا اور فریقین لڑنے پر آمادہ ہو گئے، آنحضرتﷺ نے سب کو اس ارادہ سے باز رکھا اور حضرت سعدؓ کے مکان چلے آئے، فرمایا سعد! تم نے کچھ سنا آج ابو حباب (ابن ابی) نے مجھے ایسا کہا، عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا قصور معاف کیجئے، بات یہ ہے کہ اسلام سے قبل لوگوں کا خیال تھا کہ اس کو مدینہ کا بادشاہ بنائیں ،لیکن جب اللہ نے آپ کو حق وصداقت کے ساتھ مبعوث کیا تو وہ خیال بدل گیا، یہ اس غم و غصہ کا بخار ہے، آپ نے یہ سن کر معاف کر دیا۔ [14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تہذیب التہذیب:3/475
  2. بخاری
  3. فتح الباری:224
  4. طبقات ابن سعد، حصہ مغازی
  5. اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 896 حصہ چہارم،مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  6. (استیعاب:2/538)
  7. (ایضا:539)
  8. (خلاصہ الوفاء:88)
  9. (مسند:5/285)
  10. (بخاری:7/335،فتح الباری:8/321)
  11. (بخاری، :2/620،ومسند:3/76)
  12. (مسند:5/285)
  13. (بخاری،1/174)
  14. (بخاری:2/656)