ثعلبہ بن حاطب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ثعلبہ بن حاطب غزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ میں شامل ہیں۔

نسب[ترمیم]

ان کا نسب ثعلبہ بن حاطب بن عمرو بن عبيد بن امیہ بن زيد بن مالك بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالك بن الاوس الانصاری الأوسی ہے بدر اور احد میں شامل ہوئے انہوں نے کثرت مال کی دعا کرائی تھی [1][2]

وسعت رزق کی دعا[ترمیم]

ثعلبہ بن حاطب نامی ایک شخص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کشائش رزق کی درخواست کی آپ نے ارشاد فرمایا۔ ویحک یا ثعلبۃ قلیل تؤدی شکرہ خیر من کثیر لا تطیقہ افسوس اے ثعلبہ (کس فکر میں ہے) تھوڑا مال جس پر خدا کا شکر کرے اس کثیر مال سے بہت بہتر ہے جس کے تو حقوق نہ کرسکے۔ اس نے پھر یہی درخواست کی اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا : اما ترضی ان تکون مثل نبی اللہ لو شءت ان تسیر معی الجبال ذھبا لسارت۔ اے ثعلبہ کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ تو فقرا اور درویشی میں اللہ کے نبی کے طریقہ پر چلے میں اگر چاہوں تو یہ پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلنے لگیں۔ ثعلبہ نے کہا خدا کی قسم میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میں مالدار ہو گیا تو اس کے حقوق ادا کردوں گا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا فرمادی خدا تعالیٰ نے اس کی بکریوں میں اس قدر برکت دی کہ وہ کیڑوں کی طرح بڑھنے لگیں اور اس کے پاس اتنا ریوڑ ہو گیا کہ وہ مدینہ میں نہ سما سکا نا چار مدینہ چھوڑ کر باہر کسی گاؤں میں جا بسا اور رفتہ رفتہ جمعہ اور جماعت کے لیے بھی آنا چھوڑ دیا کچھ دنوں کے بعد حضور انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے محصل بھیجا تو ازراہ غرور کہنے لگا کہ زکوٰۃ اور جزیہ میں کیا فرق ہے اور زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کر دیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ فرمایا یا ویح ثعلبۃ۔ افسوس اے ثعلبہ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. اصحاب بدر،صفحہ 136،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  3. تفسیر قرطبی ص 209 ج 8