عبد اللہ بن حذافہ سہمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن حذافہ سہمی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سفارت کار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن حذافہ السہمی ان کی کنیت ابوالحارث ہے، ایک صحابی ہیں جو بدر میں شریک ہوئے۔
بخاری شریف میں ہے ان کے باپ کے متعلق لوگ شک کرتے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جو پوچھنا چاہتا ہے پوچھ لے اللہ کی قسم! جب تک میں اس جگہ یعنی اس منبر پر ہوں تم مجھ سے جو بھی بات پوچھو گے میں اس کا جواب دوں گا، عبد اﷲ بن حذافہ نے کھڑے ہو کر عرض کی کہ میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: حذافہ، پھر حضور ﷺ بار بار فرماتے رہے: مجھ سے پوچھو!مجھ سے پوچھو! [1]

نام ونسب[ترمیم]

عبداللہ نام،ابوحذیفہ کنیت، سلسلۂ نسب یہ ہے،عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی بن سعد بن سہم بن عمروبن حصیص بن کعب بن لوی قرشی سہمی۔ [2]

اسلام وہجرت[ترمیم]

عبداللہ دعوتِ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مشرف باسلام ہوئے،اسلام لانے کے بعد عرصہ تک آنحضرتﷺ کے ساتھ رہے، پھر مہاجرین کے دوسرے قافلہ کے ساتھ ہجرت کرکے حبشہ گئے۔ [3]

سفارت[ترمیم]

۶ھ میں جب آنحضرتﷺ نے قرب وجوار کے سلاطین کے پاس دعوت اسلام کے خطوط بھیجے تو شہنشاہ ایران کے پاس دعوت نامہ لے جانے کی خدمت ان کے سپرد ہوئی کہ اس کو ایرانی گورنر متعینہ بحرین تک پہنچادیں اور وہ اس کو دربار ایران بھیج دے،انہوں نے اس کو امیر البحرین کے پاس بحفاظت پہنچادیا۔ [4]

مغازی[ترمیم]

بدر کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،حضرت ابو سعید خدریؓ بدری بتاتے ہیں،لیکن موسیٰ بن عقبہ اورابن اسحق وغیرہ تمام اس کے مخالف ہیں۔

امارت سریہ[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے ان کو ایک سریہ کا امیر بناکر بھیجا اور ماتحتوں کو ہدایت فرمادی کہ کسی بات میں ان کی عدول حکمی نہ کرنا، منزل مقصود پر پہنچ کر عبداللہ کو کسی بات پر غصہ آگیا اورمجاہدین سے کہا کیا تم لوگوں کو آنحضرتﷺ نے میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے،سب نے کہا ہاں دیا ہے،کہا اچھا! لکڑیاں جمع کرکے اس میں آگ دیدو اورپھاند پڑو، سب نے لکڑیاں جلائیں اورپھاند نے کو تھے کہ دفعۃً کسی خیال سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بعض لوگوں نے کہا کہ ہم نے آگ سے بچنے کے لیےرسول اللہﷺ کی پیروی کی ہے اورپھر خود ہی آگ میں کودیں ،یہ مباحثہ یہاں تک جاری رہا کہ آگ ٹھنڈی ہوگئی اوراس درمیان میں ان کی آتش غضب بھی سرد پڑگئی،واپس آکر سب نے آنحضرتﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا،اگر تم لوگ آگ میں گس گئے ہوتے تو پھر کبھی نہ نکلتے،اطاعت صرف ان ہی چیزوں میں واجب ہے جس کی اللہ نے اجازت دی ہے۔ [5]

خلفاء کا عہد[ترمیم]

عہد فاروقی میں فتوحاتِ شام میں شریک تھے،سواتفاق سے ایک معرکہ میں رومیوں نے گرفتار کرلیا،رومیوں کا قاعدہ تھا کہ جب وہ کسی کے سامنے اپنا مذہب پیش کرتے اوروہ انکار کرتا تو اس کو ایک عظیم الجثہ تانبے کی گائے کے جوف میں جس میں زیتون کا تیل کھولتا ہوتا تھا، ڈال لیتے ؛چنانچہ انہوں نے ان کے سامنے اپنا مذہب پیش کرکے کہا، اگر تم اس کو نہیں قبول کروگے تو تم کو گائے پر قربان کردیا جائے گا، مگر اس سے مطلق خوفزدہ نہ ہوئے اور قبول مذہب سے انکار کردیا، ان جلادوں نے ان کی عبرت پذیری کے لیے ایک دوسرے مسلمان قیدی کو بلا کر عیسویت کی دعوت دی،اس نے بھی انکار کیا تو اس کو زیتون کے کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا،وہ کشتہ حق جل بھن کر کباب ہوگیا، یہ منظر دکھا کر بولے،اگر نہیں قبول کرتے تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا؛لیکن جذبہ حق اس سے زیادہ آزمائش کے لیے تیار تھا،پھر انکار کردیا، حکم ہوا ڈال دو، آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، رومیوں نے کہا آخر ڈر کر رونے لگے،فرمایا میں اپنے انجام پر نہیں روتا ؛بلکہ اپنی کم مائگی پرآنکھیں اشکبار ہیں کہ صرف ایک جان اللہ کی راہ میں کام آئے گی، کاش ایک جان کے بجائے میرے ہر موئے بدن میں ایک مستقل جان ہوتی اور یہ سب راہ خدا میں نثار ہوتیں،یہ قوت ایمانی دیکھ کر وہ لوگ دنگ رہ گئے اوراس شرط پر رہا کردینے کے لیے تیار ہوگئے کہ شاہ روم کی پیشانی کا بوسہ دیں ؛لیکن اس پر ستار حق کا لب ایک صلیب پرست کی بوسہ ستانی سے آلودہ نہیں ہوسکتا تھا اس سے انکار کیا اس انکار پر انہوں نے مال و دولت اورحسن ورعنائی کے سبز باغ دکھائے،آپ نے ان دل فریبوں کو بھی نہایت حقارت سے ٹھکرادیا، آخر میں ان سے کہا، اگر میری پیشانی کو چوم لو تو تمام مسلمان قیدی چھوڑدیے جائیں گے، مسلمانوں کی جان سب سے زیادہ عزیز تھی،اس لیے اس پر آمادہ ہوگئے اورایک بوسہ کے صلہ میں اسی مسلمانوں کی گراں بہا جانیں بچ گئیں، جب واپس آئے تو حضرت عمرؓ نے فرط مسرت سے ان کی پیشانی چوم لی، بعض صحابہؓ آپ سے مزاحاً کہتے کہ تم نے ایک بے دین کی پیشانی کا بوسہ دیا، جواب دیتے ہاں چوما، لیکن اس کے بدلہ میں اسی مسلمانوں کی جانیں بچ گئیں۔ [6]

قیصر روم کی پیشکش[ترمیم]

عبد اللہ بن حذافہ سہمی ہرقل روم کی فوجوں نے انہیں گرفتار کر لیا۔ عمر فاروق کا دور خلافت تھا۔ کچھ اور ساتھی بھی گرفتار ہوئے۔ ایک ایک سے انٹرویو لے رہے تھے۔ ان کو ہرقل روم نے دیکھا کہ بڑا خوب صورت اور صحت مند نوجوان ہے۔ قدوقامت بھی خوب ہے اور بات بھی بڑے سلیقے سے کرتا ہے۔ ہرقل نے ان کو کہا برخودار، عزیز! میں روم کا بادشاہ ہوں، ہرقل میرا نام ہے، قیصر میرا لقب ہے، میں تجھے پیشکش کرتا ہوں کہ ازوجک ابنتی واشر کک فی ملکی “ میں تجھے اپنی لڑکی کا رشتہ دوں گا اور اپنے ملک میں تجھے بڑا عہدہ دے دوں گا، وزیر کہے یا وزیر خارجہ، جو بھی تو چاہے گا تو مسیحیت قبول کرلے ”۔ عبد اللہ بن حذافہ سہمی نے کہا دوبارہ کہو تم نے کیا کہا۔ اس نے پھر اپنی بات دہرائی۔ فرمایا تم تو ایک ملک کے بادشاہ ہو صرف روم کے۔ والذی نفسی بیدہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم ساری دنیا کے بادشاہ ہوتے بلاشرکت غیر ے اور پھر تم ساری دنیا کا بادشاہ مجھے بنا دیتے اور تاج میرے سر پر رکھ دیتے تو پھر بھی میرے دل میں ایمان چھوڑنے کا تصور بھی نہیں آ سکتا۔[7]

ایک اور روایت[ترمیم]

ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کر لیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کر دے، اس کے عوض کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لیے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چنانچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چنانچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کر دیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہو گیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لیے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہو جائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کر دیا اور کھانا بند کر دیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لیے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے س رہی کو چوم لو، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتدا کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔[8][9]

وفات[ترمیم]

مصرمیں قیام رہا، وہاں مصر میں ہی 85ھ میں انتقال ہوا۔[10]

نسب کی تحقیق[ترمیم]

ایک مرتبہ آنحضرتﷺ نے جلال کی حالت میں فرمایا کہ تم لوگوں کو جو پوچھنا ہو پوچھو، اس وقت جو بات پوچھو گے بتاؤں گا، آپ نے اُٹھ کر پوچھا میرا باپ کون ہے ،فرمایا ابوحذیفہ: [11] آپ کی ماں نے سنا تو کہا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ سے کتنا خطرناک سوال کیا تھا، اگر خدانخواستہ وہ کچھ اور بتاتے تو میں سب کے سامنے رسوا ہوتی،جواب دیا کہ میں نسب کی تحقیق کرنا چاہتا تھا۔

فضل و کمال[ترمیم]

آپ سے متعدد حدیثیں مروی ہیں، ان میں سے ایک بخاری میں بھی ہے، آپ سے روایت کرنے والوں میں ابو وائل ،سلیمان اورابن یسار قابل ذکر ہیں۔ [12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السوال وتکلف مالا یعنیہ
  2. (اسد الغابہ:۱۴۲/۳)
  3. (اسد الغابہ:۱۴۲/۳)
  4. (بخاری،جلد۲،کتاب المغازی باب النبی ﷺ الی کسری وقیصر)
  5. (بخاری کتاب الاحکام باب السمع والطاعہ لدامام مالم یکن معصیۃً)
  6. (اسد الغابہ:۳/۱۴۳)
  7. تفسیر ذخیرۃ الجنان۔ مفسر: سرفراز خان صفدر
  8. تفسیر فی ظلال القرآن۔ مرتب سید قطب شہید
  9. الاصابہ جلد دوم صفحہ296
  10. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد 5صفحہ821نعیمی کتب خانہ گجرات
  11. (بخاری کتاب الفتن وابن سعد جزو۴،ق۱:۱۳۹)
  12. (تہذیب الکمال:۱۹۴)