عبد اللہ بن ام مکتوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن ام مکتوم
(عربی میں: عبد الله بن أم مكتوم ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Shrine of Abd-Allah ibn Umm-Maktum.jpg
مزار عبد اللہ بن ام مکتوم

معلومات شخصیت
پیدائش مکہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 636  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ اندھا پن[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مؤذن  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل دعوہ  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں قادسیہ کی لڑائی  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن ام مکتوم اصحاب صفہ میں شامل ہونے والے نابینا صحابی هہیں۔
امام ابونعیم اصبہانی نے ابن ام مکتوم کو صفہ کے طالب علموں میں گردانتے ہوئے کہا کہ ابن ام مکتوم کے شاگرد ابورزین اسدی سے منقول ہے کہ عبد اللہ بن ام مکتوم جنگِ بدرکے کچھ ہی دن بعد مدینہ منورہ تشریف لائے اور صفہ میں طلبۂ صفہ کے ساتھ قیام پزیر ہوئے ،پھرمحسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ’’دار الغذاء‘‘۔ جو مخرمہ بن نوفل کا گھر تھا- میں ٹھہرایا ۔[2] دربارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن عبد اللہ بن ام مکتوم مشہور جلیل القدر صحابی ہیں ۔

نام ونسب[ترمیم]

حضرت ابن ام مکتوم کی کنیت اتنی مشہور ہوئی کہ ان کا اصلی نام بالکل چھپ گیا ؛چنانچہ ارباب سیر نے ان کے مختلف نام لکھے ہیں بعض عبداللہ کہتے ہیں اور بعض عمرو بتاتے ہیں باپ کا نام قیس تھا؛لیکن ماں کی نسبت سے ابن ام مکتوم مشہور ہوئے،سلسلہ نسب یہ ہے عمربن قیس بن زائدہ بن اصم بن ہرم بن رواحہ بن حجر بن عدی ابن معیص بن عامر بن لوئی القرشی،ماں کانام عاتکہ تھا، نانہالی شجرہ عاتکہ بنت عبداللہ ابن عنکشہ بن عامر بن محزوم ہے۔ [3]

اسلام[ترمیم]

ابتدائے بعثت میں سرزمین مکہ میں مشرف باسلام ہوئے ،ابن ام مکتومؓ گوظاہری آنکھوں کی روشنی سے محروم تھے،مگر چشم دل کھلی تھی،اس لیے مکہ میں جیسے ہی اسلام کا نور چمکاوہ کفر کی تاریکی سے باہر نکل آئے اور ذات نبویﷺ سے ایک خاص قرب واختصاص حاصل ہوگیا؛چنانچہ اکثر آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہواکرتے تھے، مکہ کے مغرورامراء اوررؤساء بھی مجلس نبویﷺ میں آیا کرتے تھے ،جو ابن ام مکتومؓ کی ظاہری نابینائی اورغربت وافلاس کی وجہ سے ان کو ذلیل سمجھتے تھے اورآنحضرتﷺ سے کہتے تھے کہ ہماری مجلس میں ایسے لوگ برابر نہ بیٹھا کریں،آنحضرتﷺ کے دل میں یہ لگن تھی کہ کسی طرح قریش کے روساء دعوت حق قبول کرلیں،اس لیے آپ ان کی خاطر داری کرتے تھے،ایک مرتبہ آنحضرتﷺ روسائے قریش میں تبلیغ فرمارہے تھے کہ اس درمیان میں حضرت ابن ام مکتومؓ آگئے اور کچھ مذہبی مسائل پوچھنا شروع کردیے، آنحضرتﷺ کو ان کی یہ بے موقع گفتگو اس لیے ناگوار ہوئی کہ اس سے روسائے قریش کی تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہوتی اوران کے دلوں میں تاثر کے بجائے تکدرپیداہوتا،اس لیے ابن ام مکتومؓ کی طرف التفات نہ فرمایا اوربدستور سلسلہ گفتگوجاری رکھا، آنحضرتﷺ کا طرز عمل گو تبلیغ حق اوردعوت اسلام کی سچی خواہش پر مبنی تھا؛تاہم اللہ کے دربار میں ناپسندیدہ ہوا اوراس پر یہ آیت نازل ہوئی: [4] عَبَسَ وَتَوَلَّى ، أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى ، أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَى ، أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَى ، فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى،وَمَاعَلَيْكَ أَلَّايَزَّكَّى،وَأَمَّامَنْ جَاءَكَ يَسْعَى،وَهُوَيَخْشَى،فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّى [5] (پیغمبرنے) منہ بنایا اور رخ پھیر لیا،اس لیے کہ اُن کے پاس وہ نابینا آگیاتھا،اور(اے پیغمبر) تمہیں کیاخبر؟شاید وہ سدھر جاتا،یا وہ نصیحت قبول کرتا اور نصیحت کرنا اسے فائدہ پہنچاتا،وہ شخص جو بے پرواہی دکھارہا تھا،اس کے تو تم پیچھے پڑتے ہو ،حالانکہ وہ نہ سدھرے تو تم پر کوئی ذمہ داری نہیں آتی،اور وہ جو محنت کرکے تمہارے پاس آیا ہے اور وہ دل میں اللہ کا خوف رکھتا ہے، اس کی طرف سے تم بے پروائی برتتے ہو۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اکرم ﷺ خاص طور پر ابن ام مکتومؓ کا لحاظ رکھتے تھے اور کاشانۂ نبوی میں ان کی بڑی خاطر مدارات ہوتی تھی،حضرت عائشہ صدیقہؓ آپ کو لیموں اور شہد کھلایا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ نزول آیت کے بعد یہ ابن ام مکتومؓ کاروزینہ تھا۔ [6]

ہجرت[ترمیم]

اذنِ ہجرت کے بعد حضرت ابن ام مکتومؓ بھی ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے ،اس وقت تک آنحضرتﷺ نے ہجرت نہیں فرمائی تھی،(ابن سعدجز۴،ق۱،صفحہ:۱۵۰) آپ کی ہجرت کے بعد موذنی کے جلیل القدر منصب پر مامور ہوئے ،رمضان میں ان کی اذان اختتام سحر کا اعلان ہوتی تھی ،اس کے بعد لوگ کھانا پینا بند کردیتے تھے۔ [7]

غزوات[ترمیم]

ہجرت مدینہ کے بعد غزوات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا؛لیکن ابن ام مکتومؓ اپنی مجبوری کے باعث جہاد کی شرکت سے معذور رہا کرتے تھے،جب یہ آیت نازل ہوئی: لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ [8] یعنی وہ مسلمان جو گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں وہ رتبہ میں مجاہدین فی سبیل اللہ کے برابر نہیں ہیں۔ اور آنحضرتﷺ کا تب وحی حضرت زید بن ثابتؓ سے اس کو لکھانے لگے تو ابن ام مکتومؓ بھی پہنچ گئے اور عرض گذار ہوئے یا رسول اللہﷺ اگر مجھ کو جہاد کرنے کی قدرت ہوتی اوراس کے لائق ہوتا تو میں بھی شرف جہاد حاصل کرتا، ان کی یہ پر حسرت آرزو بارگاہ خداوندی میں اتنی پسند ہوئی کہ وحی الہی نے ان کو اوران کے جیسے تمام مجبوراشخاص کو اس حکم کے ذریعہ سے: لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ [9] یعنی ضرررسیدہ لوگوں کے علاوہ مسلمان جو گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں وہ مرتبہ میں ان مجاہدین فی سبیل اللہ کی برابر نہیں ہیں جو اپنے جان و مال سے جہاد کرتے ہیں۔ مستثنیٰ کردیا،[10] اور تمام مجبوراشخاص پر سے شرکت جہاد کا فرض ساقط ہوگیا؛لیکن اس حکم سے ان کا ولولہ جہاد کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا؛چنانچہ نابینا ہونے کے باوجود کبھی کبھی جنگ میں شریک ہوتے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے کہ مجھ کو علم دے کر دونوں صفوں کے درمیان کھڑا کردو میں نابینا ہوں اس لیے بھاگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے،[11] اللہ اللہ یہ جوش فدویت وجاں نثاری کہ ظاہری آنکھیں بے نور ہیں،ایک قدم چلنا مشکل ہے؛لیکن جہادفی سبیل اللہ میں کٹنے کے لیے رگ جاں تڑپ رہی ہے اور حقیقت یہی وہ کمال اخلاص تھا، جس نے ذات خداوندی کو متوجہ کرلیا تھا اور یہی ولولہ تھا جس نے اسلام کی قوت کا لوہا ساری دنیا سے منوالیا تھا۔ گو حضرت ابن ام مکتومؓ اپنی معذوری کے باعث اکثر جہاد کے شرف سے محروم رہتے تھے؛لیکن اس سے بڑھ کر شرف یہ حاصل ہوتا تھا کہ جب آنحضرتﷺ بہ نفس نفیس اکابر مہاجرین وانصار کے ساتھ کہیں باہر تشریف لے جاتے تو ابن ام مکتومؓ کو جو معذوری کی وجہ سے مدینہ ہی میں رہتے تھے،امامت کی نیابت کا شرف عطا فرماتے تھے،چنانچہ غزوۂ ابوار،بواط ،ذوالعسیر،جہینہ،سویق،غطفان،حمراء الاسد،نجران،ذات الرقاع وغیرہ میں ان کو یہ جلیل القدر منصب عطا ہوا،بدر میں بھی کچھ دنوں اس منصب کے حامل رہے؛لیکن چند روز کے بعد یہ شرف ابو لبابہ کی جانب منتقل ہوگیا،[12] مجموعی حیثیت سے ان کو ۱۳ مرتبہ آنحضرتﷺ کی نیابت کا شرف حاصل ہوا۔ [13]

وفات[ترمیم]

آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد سے خلافت فاروقی کے اختتام تک ان کے حالات پردۂ خفا میں ہیں، صرف اس قدر پتہ چلتا ہے کہ جنگ قادسیہ میں علم بلند کیے،زرہ بکتر لگائے میدان کارزار میں کھڑے تھے،واقدی کے بیان کے مطابق ان کی وفات مدینہ میں ہوئی؛لیکن زبیر بن بکار کی روایت کی رو سے قادسیہ میں شہادت پائی،[14] اکثر ارباب سیر اس روایت کو صحیح سمجھتے ہیں۔

جماعت کی حاضری[ترمیم]

نابینا تھے،مسجد نبویﷺ سے گھر دور تھا،راستہ میں جھاڑیاں پڑتی تھیں، کوئی راہ نما بھی نہ تھا، ان تمام دشواریوں کے باوجود ابن ام مکتومؓ ہمیشہ مسجد نبویﷺ میں نماز پڑہتے تھے،ایک مرتبہ آنحضرت سے گھر پر نماز پڑہنے کی اجازت چاہی؛لیکن اذان اور اقامت کی آواز ان کے گھر تک جاتی تھی، اس لیے آپ نے اجازت نہ دی،چنانچہ اسی حالت میں چھڑی سے ٹٹولتے مسجد آتے تھے،حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں ان کو رہنمادیا تھا۔

فضل وکمال[ترمیم]

حضرت ابن ام مکتومؓ کا سب سے بڑا طغرائے امتیاز یہی ہے کہ ان کو ۱۳مرتبہ رسولﷺ کی نیابت کا اعزاز ملا جس میں وہ مسجد نبویﷺ کی امامت کرتے تھے،اس کی علاوہ قرآن مجید کے حافظ تھے اورمدینہ آنے کے بعد لوگوں کو قرأت سکھاتے تھے [15] آنحضرتﷺ کے فیض صحبت سے احادیث سے بھی ان کا دامن خالی نہ تھا؛چنانچہ ان سے انس اورزربن جیش نے احادیث روایت کی ہیں۔ [16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب عنوان : Абдуллах ибн Умм Мактум
  2. حلیۃ الأولیاء: 2/4
  3. (اسد الغابہ:۳/۱۲۷)
  4. (فتح الباری:۸/۵۳۱)
  5. (عبس:۱،۱۰)
  6. (متدرک حاکم:۳/۶۳۴)
  7. (بخاری کتاب الاذان باب اذان قبل الفجر)
  8. (نساء:۹۵)
  9. (نساء:۹۵)
  10. (بخاری کتاب التفسیرباب لا یستوی القاعدون)
  11. (اصابہ واستیعاب ترجمہ ابن ام مکتوم)
  12. (اسد الغابہ:۴/۱۳۷)
  13. (تہذیب الکمال:۲۸۹)
  14. (ابن سعد،جز۴،ق۱:۱۵۶واصابہ:۴/۱۸۴)
  15. (ابن سعد:۱۵۱)
  16. (تہذیب الکمال:۲۸۹)