اسامہ بن زید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسامہ بن زید
(عربی میں: أسامة بن زيد بن حارثة ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 615  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 678 (62–63 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد زید بن حارثہ[2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ام ایمن  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں سریہ اسامہ بن زید،  غزوہ حنین  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


صحابی۔ کنیت ابو محمد اور لقب الحب بن الحب(محبوب بن محبوب) تھا۔ ہجرت سے سات سال قبل مکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد زید بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام اور منہ بولے بیٹے تھے۔ ابتدائی جنگوں میں کم عمری کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے۔ بعد میں بہت سے غزوات میں حصہ لیا۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ہمراہ ایک ہی اونٹ پر سوارتھے۔ حضرت عثمان کے دور خلافت میں سیاست سے کنارہ کش ہو گئے اور حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کی لڑائیوں میں بھی غیر جانبدار رہے۔ سپہ سالار سریہ اسامہ بن زید حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا آخری سریہ ہے بروز پیر 26 صفر 11ھ کو روانہ کیا گیاجو آپ نے اپنی وفات اقدس سے صرف چند دن پہلے رومیوں سے جنگ کے لیے اپنی علالت ہی کے دوران اپنے دست مبارک سے جنگ کا جھنڈا باندھااوراسامہ بن زید کو سپہ سالار بنایا۔

نام ونسب[ترمیم]

اسامہ نام،ابومحمد کنیت،حب رسول اللہ ﷺ یعنی محبوب ِرسول لقب،والد کا نام زید تھا، اسامہ بن زید بن حارثہ بن شرجیل بن کعب بن عبدالعزی بن زید امرؤالقیس بن عامر بن نعمان بن عامر بن عبدودبن عوف بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ بن زید اللات بن رفیدہ بن ثور بن کلب بن وبرہ کلبی۔

پیدائش ،اسلام اور ہجرت[ترمیم]

۷ھ بعثت میں مکہ میں پیدا ہوئے،ان کے والد زید آنحضرتﷺ کے محبوب غلام اورمنہ بولے بیٹے تھے اوران کی ماں برکہ آنحضرتﷺ کی کھلائی تھیں،اس لیے ان کو ماں اورباپ دونوں کی طرف سے رسول اللہ کی محبوبیت کا شرف ورثہ میں ملا تھا، انہوں نے آنکھ کھولتے ہی اسلام کے گہوارہ میں پرورش پائی تھی، اس لیے ان کی زندگی کا کوئی حصہ کفر و شرک کی آلودگیوں سےملوث نہ ہوا، ہجرت کا شرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ حاصل کیا۔ [4]

غزوات[ترمیم]

ہجرت عظمیٰ کے بعد مغازی اور سرایا کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا،لیکن ابتدائی لڑائیوں میں کم سنی کے باعث شریک نہ ہوسکے ،سریہ حرقہ سے میدان جنگ میں آنے کی ابتدا معلوم ہوتی، (گواسکی تصریح نہیں ملتی لیکن قیاس یہی چاہتا ہے )صحیح بخاری اورحدیث کی دوسری کتابوں میں اس سریہ کانام سریہ حرکات لکھا ہے ،اہل سیر کہتے ہیں کہ یہ وہی سریہ ہے جس کے امیر غالب لیثی تھے اور جو۷ھ میں واقع ہوا تھا ؛لیکن حاکم نے اکلیل میں لکھا ہے کہ یہ دوسرا سریہ تھا،جو ۸ھ میں ہوا، ان دونوں سریوں کے الگ الگ ہونے کی اس امر سے بھی شہادت ملتی ہے کہ سر یہ غالب کے امیر حضرت غالب ؓ تھے،اوراس سریہ حرقہ میں امارت وقیادت خود حضرت اسامہ ؓ کے ہاتھ میں معلوم ہوتی ہے ،جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت سے اشارۃ ظاہر ہوتا ہے اورحاکم نے اکلیل میں اس کی تصریح کی ہے،یہ سریہ ۷ھ یا ۸ھ کا واقعہ ہے،اس وقت ان کی عمر زیادہ سے زیادہ ۱۴،۱۵ سال کی تھی، مگران کی فطری استعداد وصلاحیت نے آنحضرت ﷺ سے اس سریہ کی سرداری کا شرف حاصل کیا، مگر ناآزمودہ کار تھے، اس لیے بعض فاش غلطیاں ہوگئیں،جن کو وہ خود اپنی زبان سے بیان کرتے تھے، کہ آنحضرت ﷺ نے ہم لوگوں کو حرقہ کی طرف بھیجا تھا،صبح کو دشمنوں سے مقابلہ ہوا، دشمن ہزیمت کھا کر بھاگ گئے، میں نے اورایک انصاری نے ایک شخص کا تعاقب کیا جب وہ زد میں آگیا تو لاالہ الا اللہ پکار اٹھا، اس کے اس اعلان پر انصاری نے ہاتھ روک لیا، مگر میں نے نیزوں سے کام تمام کردیا، واپسی کے بعد آنحضرت ﷺ کو واقعہ معلوم ہوا تو فرمایا کہ اسامہ تم نے ایک شخص کو کلمہ طیبہ پڑہنے کے بعد بھی قتل کردیا، میں نے عرض کیا، اس نے اپنے بچاؤ کے لیے ایسا کیا تھا،آپ نے یہ عذر ناقابل قبول سمجھا اور بار بار اس جملہ کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ مجھ کو اتنی ندامت ہوئی کہ دل میں کہنے لگا کاش آج کے پہلے اسلام نہ لایا ہوتا۔ [5]

دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اے اسامہ، !تم نے اس کا دل چیز کر کیوں نہ دیکھا یعنی ظاہر اسلام کے لیے زبان کا اقرار کافی ہے، اس سریہ کے متعلق ایک یمانی کی روایت ہے کہ یہ اسامہ کے میدانِ جنگ میں قدم رکھنے کا پہلا موقع تھا، اس سے معلوم ہوا کہ اس کے قبل کسی غزوہ میں نہیں شریک ہوئے اوراسی سے ان کی جنگ آزمائی کی ابتدا ہوئی۔

فتح مکہ[ترمیم]

فتح مکہ اسلام کی فتح وشکست کاآخری معرکہ تھا، اسامہ اس میں شریک تھے اور فتح مکہ کے بعد بیت اللہ میں اس شان سے داخل ہوئے کہ آنحضرت ﷺ کی سواری پر آپ کے ساتھ سوار تھے اورحضرت بلالؓ وعثمانؓ بن طلحہ جلو میں تھے،خانہ کعبہ کھلنے کے بعد چاروں آدمی ساتھ داخل ہوئے ان کے داخلہ کے بعد دروازہ بند کرلیا گیا۔ [6]

امارت سریہ[ترمیم]

آنحضرت ﷺ نے ایک سے زائد سریے اسامہؓ کی سرکردگی میں بھیجے،ان میں سب سے اہم وہ سریہ تھا، جس میں ان کو اجلۂ صحابہ پر شرف امارت عطا ہوا، اس کا واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سفیر حضرت حارث بن عمیرؓ ازدی شاہ بصری کے دربار سفارت کی خدمت انجام دے کر واپس آرہے تھے، کہ مقام موتہ میں شرجیل بن عمر وغسانی نے ان کو شہید کردیا، آنحضرت ﷺ نے اس کے انتقام میں حضرت زید کی زیر قیادت ایک سریہ روانہ کیا،لیکن یہ بھی شہید ہوئے اوران کے ساتھ اکابر صحابہ میں حضرت جعفر طیارؓ اورحضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے بھی جام شہادت پیا، آنحضرت ﷺ کو ان بزرگوں کی شہادت کا بڑا قلق ہوا، چنانچہ اپنی وفات کے کچھ دنوں پہلے ان شہدا کے انتقام کے لیے ایک اور سریہ روانہ کیا اورچونکہ حضرت اسامہ ؓ کے والد حضرت زید شہید ہوئے تھے، اس لیے اس سریہ کا امیراسامہؓ کو بنایا، اس میں ان کی دلد ہی بھی مدِ نظر تھی، اور والد کی شہادت کی وجہ سے انتقام کا جو جذبہ ان میں ہوسکتا تھا وہ دوسرے میں ممکن نہ تھا۔ چنانچہ صفر۱۱ھ میں آنحضرت ﷺ نے سریہ کی تیاری کا حکم دیااور اسامہؓ کو بلاکر اس کے متعلق ضروری ہدایات فرمائیں، لیکن ابھی یہ سریہ روانہ نہ ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ کو بیماری کی علامات شروع ہوگئیں، مگر آپ پر حضرت زیدؓ اورجعفر کی شہادت کا اتنا اثرتھا، کہ اس کی روانگی ملتوی نہ فرمائی اوراسی بیماری کی حالت میں اپنے دست مبارک سے علم مرحمت فرمایا اور سریہ روانہ ہوگیا، پہلی منزل مقام جرف میں کی، اس سریہ میں حضرت عمرابوعبیدہ بن جراح،سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور قتادہ بن نعمان رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے کبار صحابہ سب اسامہؓ کی ماتحتی میں تھے، بعض لوگوں کو یہ ناگوار ہوا اورانہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑکے کو مہاجرین اولین پر امیر بنایا ہے،آپ کو اس کی خبر ہوئی تو اس سے بہت تکلیف پہنچی اوراسی بیماری کی حالت میں سر میں پٹی باندھے ہوئے نکلے اور منبر پر چڑھ کر ایک مختصر تقریر فرمائی کہ اسامہ بن زید کو امیر بنانے میں بعض لوگوں نے جونکتہ چینیاں کی ہیں، اس کی اطلاع مجھ کو ملی، اسامہ کی امارت پر یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، تم لوگ اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کرچکے ہو، خدا کی قسم وہ افسری کا سزاوار تھا اوراس کے بعد اس کا لڑکا افسری کا سزاوار ہے، وہ مجھ کو بہت محبوب تھا، اوریہ بھی ہر حسن ظن کے لائق ہے اس لیے تم لوگ اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آیا کرو کہ وہ تمہارے بہتر لوگوں میں ہے، اس تقریر کے بعد آپ کا شانہ اقدس میں تشریف لے گئے۔

اس سریہ کی پہلی منزل گاہ،جرف مدینہ کے قریب ہی تھی، اس لیے جانے والوں کا سلسلہ برابر جاری تھا، لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آتے تھے اور رخصت ہوکر جاتے تھے، اسامہؓ آنحضرتﷺ کو بیمار چھوڑ کر گئے تھے، اس لیے وہ بھی دیکھنے آجاتے تھے اتوار کے دن آنحضرت ﷺ کا مرض زیادہ بڑھ گیا، اسامہؓ منزل گاہ سے مزاج پرسی کے لیے آئے اس وقت آپ پر غفلت طاری تھی، اسامہؓ نے آکر بوسہ دیا، آپ بالکل خاموش تھے، تاہم اسامہؓ کی دعا کے لیے دست مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اوراسامہؓ پر رکھتے تھے، اسامہؓ دیکھ کر واپس گئے اور دوسرے دن صبح کو پھر دیکھنے آئے، اس دن افاقہ تھا،آپ نے اسامہ کو روانگی کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے فوج کو کوچ کا حکم دے دیا ؛لیکن قبل اس کے کہ اسامہؓ جرف سے روانہ ہوں، ان کی ماں ام ایمن کا آدمی ملاکہ رسول اللہ ﷺ کا وقت آخر ہے،فوراً مدینہ چلے آؤ،چنانچہ اسامہؓ، عمرؓ، اورابوعبیدہؓ اسی وقت مدینہ پہنچے، اس وقت آنحضرت ﷺ اس دنیائے فانی کو چھوڑ رہے تھے، آپ کی وفات کے بعد پوری فوج جرف سے مدینہ آگئی اوریہ مہم اس وقت ملتوی ہوگئی اور اسامہ بن زیدؓ آنحضرت ﷺ کی تجہیز و تکفین میں مشغول ہوگئے اورجسم مبارک کو قبرانور میں اتارنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔

[7] چونکہ آنحضرت ﷺ آخری وقت تک برابر اسامہؓ کو روانگی کی تاکید فرماتے رہے تھے، اس لیے حضرت ابوبکرؓ نے مسندِ خلافت پر قدم رکھتے ہی اسامہ ؓ کو روانگی کا حکم دیا اور بریدہ حصیب علم کو لے کر جرف پہنچ گئے،لیکن اسی درمیان میں ارتداد کا فتنہ اٹھ کھڑا ہوا، لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ فی الحال اس مہم کو روک دیجئے خود حضرت اسامہؓ نے عرض کیا کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ کو سکون کی حالت میں بھیجا تھا؛ مگر اب حالات دوسرے ہیں اس لیے فی الحال یہ مہم ملتوی کردیجئے ،لیکن آپ نے جواب دیا کہ خواہ مجھ کو پرندے نوچ کھائیں ،لیکن میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کو پورا کیے بغیر نہیں رہ سکتا، [8] بہر حال آپ اس مہم کو روکنے پر آمادہ نہ ہوئے،اور فوج کو روانگی کا حکم دیا۔ پہلی مرتبہ گو آنحضرت ﷺ کی فہمائش سے لوگوں نے اسامہ کی امارت منظور کرلی تھی، لیکن دل سے سب ناپسند کرتے تھے، اس لیے دوبارہ جب حضرت ابوبکرؓ نے اسامہؓ کو روانگی کا حکم دیا تو انصار کی جماعت نے آپ کے پاس حضرت عمرؓ کو بھیجا کہ اسامہؓ کے بجائے کسی سن اورمعمر شخص کو امارت کا عہدہ دیا جائے، یہ پیام سن کرآپ بہت برہم ہوئے اورفرمایا، ابن خطاب !جس شخص کو رسول اللہ ﷺ نے امیر بنایا ہے تم مجھ سے اس کے معزول کرنے کی خواہش کرتے ہو !اور بلاکسی قسم کی تبدیلی کے بعینہ وہی فوج روانہ کی اور تھوڑی دور خود پیادہ پارخصت کرنے کے لیے گئے،اسامہؓ نے عرض کیا یا خلیفہ رسول اللہ!آپ سوار ہو کر چلیں ،ورنہ ہم لوگ سواریوں سے اتر پڑیں گے، فرمایا نہ مجھ کو سوار ہونے کی ضرورت ہے، نہ تم کو اترنے کی، میرے پیروں کو اللہ کی راہ میں غبار آلود ہونے دو، [9] غرض حضرت ابوبکرؓ نے اس شان سے جیش اسامہؓ کو رخصت کیا، اوراسامہؓ نے منزل مقصود پر پہنچ کر دشمنوں سے نہایت کامیاب مقابلہ کیا اوراپنے والد بزرگوار کے قاتل کو واصل جہنم کیا اورحضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں فتح کا مژدہ بھیجا، آپ اس فتح سے اس قدر مسرور ہوئے کہ اسامہ ؓ کی واپسی پر مہاجرین وانصار کو لے کر مدینہ سے باہر ان کے استقبال کو نکلے، اسامہؓ نہایت شاندار طریقہ سے مدینہ میں داخل ہوئے، آگے آگے بریدہ بن عصیب پرچم لہرارہے تھے اوراس کے پیچھے اسامہ ؓ اپنے والد کے سبحہ نامی گھوڑے پر سوار تھے، مدینہ آتے ہی انہوں نے مسجد میں دورکعت نماز پڑھی اور نماز پڑھ کر گھر گئے۔ [10]

عہد فاروقی[ترمیم]

حضرت اسامہؓ انحضرت ﷺ کو محبوب تھے، اس لیے آپ کے جانشین بھی ان کا بہت لحاظ رکھتے تھے، حضرت عمرؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں ہمیشہ ان کا خیال رکھا؛ چنانچہ جب آپ نے تمام صحابہؓ کے وظائف مقرر کیے تو اپنے صاحبزادہ عبداللہ کا ڈھائی ہزار اوراسامہؓ کا تین ہزار مقرر کیا، عبداللہ نے عرض کیا اس تفریق کا کیا سبب ہے،جب کہ میں تمام غزوات میں اسامہؓ کے دوش بدوش رہا اورآپ ان کے والد زید سے کبھی پیچھے نہ رہے، فرمایہ یہ سچ ہے، لیکن آنحضرت ﷺ ان کو تم سے اوران کے والد کو تمہارے باپ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ [11]

عہد عثمانی[ترمیم]

حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں فتنہ وفساد کے خیال سے ملکی معاملات میں علانیہ کوئی حصہ نہیں لیا، لیکن خیر خواہ مسلمان کی حیثیت سے قیام نظم اورانسداد مفاسد پر حضرت عثمانؓ سے خفیہ طورپر گفتگو کرتے تھے،لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ حضرت عثمان ؓ سے فتنوں کے فرو کرنے کے متعلق گفتگو کیجئے جواب دیا، تم لوگ علانیہ مجھ کو درمیان میں ڈالنا چاہتے ہو اورمیں ان سے خفیہ گفتگو کرتا ہوں کہ مبادامیری علانیہ گفتگو سے نیا فتنہ نہ اُٹھ کھڑا ہو اوراس کی ساری ذمہ داری مجھ پر عائد ہوجائے۔ [12]

عہد معاویہؓ وعلیؓ[ترمیم]

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جب زیادہ شورش بڑھی تو اسامہ بالکل علیحدہ ہوگئے، [13] حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کی معرکہ آرائیوں میں بالکل کنارہ کش رہے اور حضرت علیؓ کے پاس کہلا بھیجا کہ اگر آپ شیر کی داڑھ میں گھستے تو میں بخوشی گھس جاتا،لیکن اس معاملہ میں حصہ لینا پسند نہیں کرتا، [14] گووہ مسلمانوں کی خونریزی کے خوف سے ان لڑائیوں میں غیر جانبدار تھے،تاہم حضرت علیؓ کو حق پر جانتے تھے اورآخر دم تک اس غیر جانبداری پر کف افسوس ملتے تھے ،ابراہیم کی روایت ہے کہ اسامہؓ حضرت علیؓ کو امداد نہ کرنے پر اس درجہ نادم رہے کہ آخر میں توبہ کی۔ [15]

وفات[ترمیم]

امیر معاویہؓ کے آخر زمانہ امارت ۵۴ھ میں مدینہ میں وفات پائی، [16] اس وقت ساٹھ سال کی عمر تھی۔

اہل و عیال[ترمیم]

اسامہؓ نے متعدد شادیاں کیں اور کثرت سے اولادیں ہوئیں، پہلی شادی ۱۴ سال کی عمر میں خود آنحضرت ﷺ نے زینب بنت حنظلہ کے ساتھ کردی تھی، مگر اسامہؓ نے ان کو طلاق دے دی، دوسری شادی نعیم بن عبداللہ الخام نے آنحضرت ﷺ کے ایما سے اپنے یہاں کردی، ان کے بطن سے ابراہیم بن اسامہؓ تھے، اس کے علاوہ خود اسامہؓ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں، ان سے حسب ذیل اولادیں ہوئیں:

نام ازواج[ترمیم]

ہندبنت فاکہہ ، درہ بنت عدی ، فاطمہ بنت قیس ، ام حکم بنت عتبہ بنت ابی ہمدان سہمی ، برزہ بنت ربعی۔

نام اولاد[ترمیم]

محمد ، ہندہ ، جبیر ، زید، عائشہ ، حسن ، حسین

ذریعہ ٔمعاش[ترمیم]

دربار خلافت سے ۳ہزار وظیفہ ملتا تھا، اس کے علاوہ وادی القری میں کچھ جائیداد تھی، جس کے انتظام کے لیے اکثر جایا کرتے تھے۔ [17]

فضائل اخلاق[ترمیم]

بہت سے فضائل بیشتر صحابہؓ میں مشترک ہیں؛ لیکن اکابر صحابہ میں منفرد طور پر بعض مخصوص فضائل ایسے ہیں جو ان کی خصوصیات شمار کیے جاتے ہیں، مثلاً ابن عمرؓ اور ابوذر غفاریؓ کی اکثر صفات میں اشتراک ہے،لیکن عبداللہ بن عمر کا علم و فضل اور ابوذرؓ غفاری کا زہد و تقویٰ، ایک کو دوسرے سے ممتاز کرتا تھا اوریہی صفات ان کی زندگی کے روشن ابواب کہے جاسکتے ہیں، اسی طرح اسامہ بن زیدؓ کی بارگاہ نبوت میں پذیرائی اور ان کی محبوبیت ان کا مخصوص طغرائے امتیاز تھا، جو بلا استثنا کسی صحابی کو حاصل نہ تھا۔ آنحضرت ﷺ نے بارہا اپنی زبان مبارک سے اس کا اظہار فرمایا ہے، اور اسامہؓ کے ساتھ آپ کا طرز عمل بھی اس کا شاہد ہے،آنحضرت ﷺ کو اپنے متعلقین میں حضرت حسنینؓ سے زیادہ کسی سے محبت نہ تھی، لیکن اسامہؓ بن زید وہ شخص ہیں جو اس محبت میں بھی شریک و سہیم تھے،آنحضرت ﷺ ایک زانو پر اسامہؓ کو بٹھاتے اورایک پر حسنؓ کو اوردونوں کو ملاکر فرماتے کہ خدایا میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں اس لیے تو بھی رحم فرما [18] دوسری روایت میں ہے کہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اس لیے تو بھی محبت فرما، [19] حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اسامہؓ مجھ کو سب لوگوں میں محبوب تر ہے۔ [20] ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ اس کا باپ مجھ کو سب سے زیادہ محبوب تھا، اب یہ سب سے عزیز ہے۔ [21] ایک مرتبہ اسامہؓ چو کھٹ پر گرپڑے اورپیشانی پر زخم آگیا،آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اس کا خون صاف کردو، آپ کو کراہت معلوم ہوئی تو خود اُٹھ کر صاف کرکے لعاب دہن لگایا۔ [22] کبھی کبھی وفور محبت میں مزاح بھی فرماتے تھے،ایک مرتبہ اسامہؓ کا شانہ نبویﷺ میں بیٹھے تھے، حضرت عائشہ بھی تشریف فرما تھیں، آپ اسامہؓ کی طرف دیکھ کر مسکرائے اورفرمایا کہ اگر یہ بیٹی ہوتی تو میں ان کو خوب زیور پہناتا اوربناؤ سنگار کرتا، تاکہ ان کا چرچا ہوتا اورہر جگہ سے پیام آتے۔ [23] بارگاہِ نبوت میں اسامہؓ کے رسوخ کا اس سے اندازہ ہوگا کہ جب کوئی ایسی سفارش آنحضرت ﷺ سے کرنی ہوتی جس میں ام المومنین حضرت عائشہ ججھکتیں تو وہ اسامہؓ کے سپرد کی جاتی، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی لوگوں نے کہا اس کے بارے میں کون شخص آنحضرت ﷺ سے سفارش پر آمادہ ہوتا ہے، اسامہؓ کے علاوہ کسی کی ہمت نہ پڑی، انہوں نے جاکر آپ سے گفتگو کی؛ لیکن حدود اللہ کا معاملہ تھا، اس لیے آنحضرت ﷺ نے نہ سنی؛بلکہ آپ کو ناگوار ہوا اورفرمایا اگر بنی اسرائیل میں کوئی شریف آدمی چوری کرتا تھاتو اس کو چھوڑ دیتے تھے اوراگر معمولی آدمی اس کا مرتکب ہوتا تھا تو اس کے ہاتھ کاٹتے تھے،خدا کی قسم اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔ [24] اسامہؓ آنحضرت ﷺ کے محرم راز اور معتمد علیہ تھے اوران کی حیثیت اہل بیت میں ممبر خاندان کی تھی، آپ اہم سے اہم اورنازک سے نازک خانگی امور تک میں بھی ان سے مشورہ لیتے تھے،افک جیسے نازک اوراہم معاملہ میں جس میں منافقین نے ناموس نبوت پر حرف لانا چاہا تھا اورجس کی صفائی خود زبان وحی والہام نے دی، اسامہؓ بھی حضرت علیؓ کے ساتھ شریک مشورہ تھے، چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب افک والوں نے اتہام لگایا تو آنحضرت ﷺ نے علیؓ اور اسامہؓ بن زید سے اپنی اہل خانہ کی علحدگی کے بارہ میں مشورہ کیا اوران سے حالات دریافت کئے۔ [25] چونکہ آنحضرت ﷺ اسامہؓ کو محبوب رکھتے تھے، اس لیے صحابہؓ کرام بھی ان کو بہت مانتے تھے، عمرؓ کا واقعہ اوپر گذر چکا ہے،صحابہؓ کرام نہ صرف اسامہؓ ؛بلکہ ان کی اولاد تک کا احترام کرتے تھے، ایک دن ابنِ عمرؓ نے ایک شخص کو مسجد کے گوشہ میں دیکھا، لوگوں سے کہا، دیکھو کون شخص ہے، کسی نے کہا ابو عبدالرحمن ،تم اس کو نہیں پہچانتے ،یہ اسامہؓ کے بیٹے محمد ہیں، آپ نے یہ سن کر سرجھکا لیا اور زمین کرید کر کہنے لگے کہ آنحضرت ﷺ ان کو دیکھتے تو محبوب رکھتے ۔ [26]

اس غیر معمولی محبت کی وجہ سے قدرۃ کچھ منافق اسامہؓ کے حاسد بھی پیدا ہوگئے تھے یہ لوگ اسامہؓ کو ذلیل اورآنحضرت ﷺ کے کبیدہ خاطر کرنے کے لیے کہتے کہ اسامہؓ زیدؓ کے نطفہ سے نہیں ہیں، آنحضرت ﷺ کو اس سے تکلیف پہنچتی ؛لیکن ان کے خاموش کرنے کا کوئی طریقہ نہ تھا، عربوں میں قیافہ شناسی کا ملکہ بہت تھا ،قائف کی بات عام طورپر ہم پایہ وحی سمجھی جاتی تھی،اتفاق سے ایک دن مجرزمدبحی جس کو قیافہ شناسی میں خاص مہارت تھی،آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت زیدؓ اوراسامہؓ دونوں سر سے پیر تک ایک چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے،صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے اس نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے پیدا ہیں، یہ سن کر آنحضرت ﷺ کو بہت مسرت ہوئی،آپ حضرت عائشہؓ کے پاس ہنستے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا تم کو کچھ معلوم ہے،مجرز نے ابھی اسامہؓ کے پاؤں دیکھ کر کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے پیدا ہیں، [27] اس واقعہ میں یہ بات لحاظ رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت ﷺ کو قائف کے کہنے پر محض اس وجہ سے مسرت ہوئی کہ اس سے دشمنوں کی زبان بند ہوگئی ورنہ شان نبوت اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کاہنوں ،منجموں اورقائفوں کی بات کا یقین کرے۔ آنحضرت ﷺ کے پاس جو چیز اچھی اوربیش قیمت ہوتی اس کو اسامہؓ کو دیتے،ذی یزن نے حالت شرک میں حکیم بن حرام کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں ہدیۃً ایک بیش قیمت حلہ پیش کیا، آپ نے فرمایا میں مشرک کا ہدیہ نہیں قبول کرتا،لیکن اب چونکہ تم لاچکے ہو اس لیے قیمتاً لے لوں گا، چنانچہ پچاس دینار میں خرید لیا اورایک مرتبہ پہن کر اسامہؓ کو دیدیا۔ [28] دحیہ کلبی نے کتان کا کپڑا آنحضرتﷺ کو ہدیہ دیا تھا، آپ نے اسامہؓ کو پہنادیا، انہوں نے اپنی بیوی کو دیدیا، ایک دن آپ نے پوچھا ، کتان کیوں نہیں پہنتے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بیوی کو دیدیا، فرمایا اچھا اس سے کہدو کہ نیچے سینہ بند پہن لے ورنہ بدن دکھائی دے گا، [29] غرض آپ اپنے اہل وعیال اوراسامہؓ میں کوئی تفریق نہیں کرتے تھے۔

فضل وکمال[ترمیم]

اس لحاظ سے کہ حضرت اسامہؓ نے آنحضرت ﷺ کے دامنِ تربیت میں پرورش پائی تھی،آپ کو سراپا علم ہونا چاہئے تھا، لیکن آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت آپ کی عمر صرف اٹھارہ سال یا زیادہ سے زیادہ بیس سال کی تھی، اس لیے سن شعور کو پہنچنے کے بعد صحبت نبویﷺ سے فیضیاب ہونے کا زیادہ موقع نہ ملا؛ تاہم اس مدت میں جو کچھ بھی آپ نے حاصل کرلیا، اس کو کم نہیں کہا جاسکتا، اقوال نبویﷺ ﷺ کا کافی ذخیرہ ان کے سینہ میں محفوظ تھا، بعض مرتبہ کبار صحابہ کو جس چیز کا علم نہ ہوتا، اس میں وہ ان کی طرف رجوع کرتے، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو جب طاعون کے متعلق کوئی حکم نہ ملا تو آپ نے اسامہؓ سے دریافت کیا کہ تم نے آنحضرت ﷺ سے طاعون کے بارہ میں کیا سنا ہے، انہوں نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ طاعون ایک قسم کا عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک خاص طبقہ پر بھیجا گیا تھا، اس لیے جب تم سنو کہ فلاں جگہ طاعون پھیلا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور خود تمہارے یہاں یہ وبا پھیلے وہاں سے بھاگنے کی نیت سے نہ نکلو۔ [30]

آپ کے عمل سے دوسرے لوگ سند لاتے تھے، حضرت میمونہ ؓ نے اپنے ایک عزیز کا ازار بہت نیچا دیکھا تو اس کو ملامت کی،انہوں نے کہا میں نے اسامہؓ بن زید کو نیچا ازار پہنے دیکھا ہے ،میمونہ نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو، یہ ممکن ہے کہ ان کا پیٹ بھاری تھا،اس لیے اس پر نہ ٹھہرتا رہا ہو اور نیچے کھسک جاتا ہو۔ [31] آپ کی ذات سے حدیث کا معتدبہ حصہ اشاعت پذیر ہوا، ان کی مرویات کی تعداد ۱۲۸ ہے،جن میں سے ۱۵ متفق علیہ ہیں، ان کے علاوہ مزید دو دو بخاری اورمسلم میں ہیں، [32] حسن محمد ابن عباسؓ، ابوہریرہؓ کریب ،ابوعثمان نہدی،عمروبن عثمان بن عفان، ابووائل ،عامر بن سعد حسن بصری وغیرہم نے آپ سے روایتیں کی ہیں۔

اخلاق وعادات[ترمیم]

چونکہ اسامہؓ نے آنحضرت ﷺ کے دامنِ تربیت میں پرورش پائی تھی، اس لیے ان پر قدرۃ تعلیمات نبویﷺ کا خاصا اثر پڑا تھا۔ [33]

خدمتِ رسولﷺ[ترمیم]

کاشانہ نبویﷺ میں کثرت سے آتے جاتے تھے،اور اکثر سفر میں بھی ہمرکابی کاشرف حاصل ہوا تھا، اس لیے خدمت نبویﷺ کا زیادہ موقع ملتا تھا، اکثر وضو وغیرہ کے وقت پانی ڈالنے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ [34]

پابندی سنت[ترمیم]

سنت کی پابندی شدت سے کرتے تھے،آخر عمر میں جبکہ قویٰ ریاضت جسمانی کے متحمل نہ تھے، اس وقت بھی مسنون روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے،ایک مرتبہ ایک غلام نے کہا اب آپ کی عمر ضعف وناتوانی کی ہے،آپ کیوں دوشنبہ اورپنجشنبہ کے روزہ کا التزام کرتے ہیں،کہا آنحضرت ﷺ ان دونوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ [35]

اطاعتِ والدین[ترمیم]

والدین کی خوشنوی کا بہت زیادہ لحاظ رکھتے تھے اوراس میں بڑی مالی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے، محمد بن سیرین روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں کھجور کے درختوں کی قیمت ایک ہزار تک پہنچ گئی تھی،اس زمانہ میں اسامہؓ نے ایک درخت کی پیڑی کھو کھلی کرکے اس کا مغز نکالا،لوگوں نے پوچھا یہ کررہے ہو،آج کل درختوں کی قیمت اس قدر بڑھی ہوئی ہے اورتم اس کو ضائع کرتے ہو، کہا میری ماں نے فرمائش کی تھی اوروہ جس چیز کی فرمائش کرتی ہیں، اگر اس کا حصول میرےامکان میں ہوتا ہے تو اس کو میں ضرور پوری کرتا ہوں۔ [36]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Усама ибн Зейд
  2. عنوان : Усама ибн Зейд
  3. عنوان : Зейд ибн Хариса
  4. (ابن سعد ،جز۴،قسم۱صفحہ:۶۴)
  5. (مزید تفصیل کے لیے دیکھو زرقانی:۲۸۸،۲۸۹/۳)
  6. (صحیح مسلم کتاب الایمان)
  7. (طبقات ابن سعد حصہ مغازی:۱۳۶،۱۳۷، جسم مطہر کو قبر میں اتارنے کا واقعہ طبقات ،جلد۲،ق۲،صفحہ:۶۷ میں ہے، مختصرا اس سریہ کا ذکر بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ زید بن حارثہ باب بعثت النبی ﷺ اسامہ بن زید میں بھی ہے)
  8. (تاریخ الخلفاء سیوطی:۷۱)
  9. (تاریخ الخلفاء سیوطی:۷۱)
  10. (ابن سعد حصہ مغازی:۱۳۷)
  11. (مستدرک حاکم:۵۵۹/۳)
  12. (بخاری:۴۶۲/۱)
  13. (اصابہ:۲۹/۱)
  14. (بخاری:۵۳/۲)
  15. (استیعاب:۲۹/۱)
  16. (استیعاب:۲۹/۱)
  17. (ابن سعد حزو۴،ق اول، صفحہ:۵۰)
  18. (مسند احمد بن حنبل:۲۰۵/۵)
  19. (بخاری،جلد۲،کتاب المناقب اسامہ بن زیدؓ)
  20. (مستدرک :۵۹۶/۳)
  21. (بخاری کتاب المغازی،باب بعث اسامہؓ)
  22. (ابن سعد جزء۴،ق۱،صفحہ:۴۳)
  23. (ابن سعد،جز۴،ق۱،صفحہ:۴۳)
  24. (بخاری،جلد۲،کتاب المناقب ذکر اسامہؓ وطبقات ابن سعد)
  25. (بخاری ،جلد۱،کتاب الشہادت وجلد۲ ،کتاب الاعتصام باب قولہ تعالی وامرہم شوری بینہم)
  26. (بخاری،جلد۱،کتاب المناقب ذکر اسامہؓ)
  27. (بخاری،جلد۲کتاب الفرائض باب القائف)
  28. (ابن سعد جزو۴،قسم اول،صفحہ:۴۵)
  29. (ابن سعد جزو۴،ق۱،صفحہ:۴۵)
  30. (بخاری:۴۴۹/۱)
  31. (ابن سعد،جزو۴،ق۱،صفحہ:۴۹)
  32. (تہذیب الکمال:۲۶)
  33. (تہذیب التہذیب ۲۰۸/۱)
  34. (بخاری،جلد۱،کتاب الوضوباب الرجل یوضی صاحبہ)
  35. (مسند احمد بن حنبل:۳۰۰/۵)
  36. (ابن سعد،جزو۴،ق۱،صفحہ:۴۹)