واقعہ افک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

افک کے معنی[ترمیم]

افک کے لغوی معنی بات کو الٹ دینا ہے۔ حقیقت کے خلاف کچھ بنا دینا اسی مناسبت سے اس کا معنی جھوٹ اور افتراء کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ الزام کسی حوالہ سے بولا جائے تو اس کا معنی بہتان بن جاتا ہے بدترین قسم کا جھوٹ جو حق کو باطل سے اور باطل کو حق سے بدل دے پاکدامن کو فاسق سے اور فاسق کو پاکدامن بنا دے افک کہلاتا ہے۔[1]

واقعہ افک کی تفصیل[ترمیم]

غزوہ بنی مصطلق سے جب رسول اللہ ﷺ واپس مدینہ آنے لگے تو ایک مقام پر پڑاؤ کیا۔ اس غزوہ میں آپ کے ساتھ ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر بھی تھی جو ایک ہودج میں سفر کرتی تھیں اور چند مخصوص آدمی اس ہودج کو اونٹ پر لادنے اور اتارنے پر مقرر تھے۔ حضرت عائشہ لشکر کے روانگی سے کچھ پہلے لشکر سے باہر رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئیں ، جب واپس ہوئیں تو دیکھا کہ ان کے گلے کا ہار کہیں ٹوٹ کر گر گیا ہے۔ وہ دوبارہ اس ہار کی تلاش میں لشکر سے باہر چلی گئی اور واپس آنے میں کچھ دیر لگ گئی اور لشکر روانہ ہو گیا۔ آپ کا ہودج لادنے والوں نے خیال کیا آپ اند تشریف فرما ہیں کیونکہ آپ کی عمر مبارک اتنی زیادہ نہ تھی تو وزن محسوس نہیں ہوتا تھا انہوں نے ہودج لاد دیا اور پورا قافلہ منزل سے روانہ ہو گیا۔ آپ منزل پر واپس آئیں تو کوئی آدمی موجود نہیں تھا ، تنہائی اور اندھیری رات سے سخت گھبرائیں اور اکیلا سفر کرنا بھی مشکل تھا اس لیے آپ یہ سوچ کر لیٹ گئیں کہ جب اگلی منزل پر مجھے نہ پائیں گے تو میری تلاش میں ضرور یہاں آئیں گے۔ آپ لیٹی لیٹی سو گئیں ایک صحابی صفوان بن معطل ہمیشہ لشکر کے پیچھے اس خیال سے چلا کرتے تھے کہ لشکر کا گرا ہوا سامان اٹھاتے چلیں ، جب اس مقام پر پہنچے تو حضرت عائشہ کو دیکھا چونکہ آپ آیت پردہ سے پہلے ام المومنین کو دیکھ چکے تھے تو پہچان گئے اور انہیں مردہ سمبھ کر "انا للہ وانا اعلیہ راجعون" پڑھا۔ اس آواز سے حضرت عائشہ جاگ اٹھیں تو حضرت صفوان نے اپنے اونٹ کو ان کے قریب جا کر بیٹھا دیا جس پر آپ بغیر کوئی بات کیے سوار ہو گئیں اور حضرت صفوان نے اونٹ کی مہار پکڑ کر پیدل چلتے ہوئے اگلی منزل پر حضور ﷺ کے پاس پہنچ گئے۔ [2]

منافقوں کی شرارت اور بعض مسلمانوں کی غلط فہمی[ترمیم]

منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی نے اس واقعہ کو حضرت عائشہ پر تہمت لگانے کا ذریعہ بنا لیا اور خوب خوب اس تہمت کا چرچا کیا اور مدینہ میں اس منافق نے اس شرمناک تہمت کو اس قدر اچھالا اور اتنا شور و غل مچایا کہ مدینہ میں ہر طرف اس فتراء اور تہمت کا چرچا ہونے لگا اور بعض مسلمان مثلاً حسان بن ثابت ، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش نے بھی اس تہمت کو پھیلانے میں کچھ حصہ لیا ، حضور اقدس ﷺ کو اس شر انگیز تہمت سے بے حد رنج و صدمہ پہنچا۔ [3] اس موقع پر عبد اللہ بن ابی نے کئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر صدیق کی عزت پر حملہ کیا۔ دوسری طرف اس نے اسلامی تحریک کے بلند اخلاق کو گرانے کی کوشش کی۔ تیسری طرف اس نے ایک چنگاری پھینکی کہ اگر اسلام اپنے پیروکاروں کی کایا پلٹ نہ کر چکا ہوتا تو مہاجرین اور انصار آپس میں لڑ پڑتے کیونکہ حضرت عائشہ کے حوالے سے جس شخص پر الزام لگ رہا تھا یعنی صفوان بن معطل کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔[4]

عصمت عائشہ پر صحابہ کرام کی شہادتیں[ترمیم]

حضور نبی کریم ﷺ کو عائشہ صدیقہ کی پاکدامنی پر پورا پورا یقین تھا لیکن چونکہ بیوی کا معاملہ تھا اس لیے آپ نے اپنی طرف براءت کا اعلان کرنے کی بجائے وحی الہی کا انتظار فرمانے لگے اور اس درمیان میں اپنے مخلص اصحاب سے مشورہ کرنے لگے۔

حضرت عمر فاروق عرض کیا یا رسول اللہ منافق یقیناً جھوٹے ہیں اس لیے کہ جب اللہ تعالی کو یہ گوار نہیں ہے کہ آپ کے جسم اطہر پر ایک مکھی بھی بیٹھ جائے کیونکہ مکھی نجاستوں پر بیٹھتی ہے تو بھلا جو عورت ایسی برائی کی مرتکب ہو خداوند قدوس کب اور کیسے برداشت فرمائے گا کہ وہ آپ کی زوجیت میں رہ سکے۔

حضرت عثمان بن عفان نے کہا کہ یا رسول اللہ! ﷺ جب اللہ تعالی نے آپ کے سایہ کو زمین پر نہیں پڑنے دیا تا کہ کسی کا پاؤں نہ پڑ سکے تو بھلا اس معبود برحق کی غیرت کب گوارا کرے گی کہ کوئی انسان آپ کی زوجہ محترمہ کے ساتھ ایسی قباحت کا مرتکب ہو۔

حضرت علی بن ابی طالب نے یہ گزارش کی کہ یا رسول اللہ! ﷺ ایک مرتبہ آپ کے نعلین مبارک میں نجاست لگ گئی تھی تو اللہ تعالی نے جبرائیل کو بھیج کر آپ کو خبر دی کہ آپ نعلئن اقدس اتار دیں اس لیے بی بی عائشہ معاذاللہ اگر ایسی ہوتی تو ضرور اللہ تعالی آپ پر وحی نازل فرما دیتا کہ آپ ان کو زوجیت سے نکال دیں۔

حضرت ابو ایوب انصاری نے جب اس تہمت کی خبر سنی تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اے بیوی سچ بتا اگر صفوان بن معطل کی جگہ میں ہوتا تو کیا تو یہ گمان کر سکتی ہے کہ میں حضور کی حرم پاک کے ساتھ ایسا کرتا تھا؟ تو ان کی بیوی نے جواب دیا کہ اگر حضرت عائشہ کی جگہ میں رسول اللہ کی بیوی ہوتی تو خدا کی قسم! میں کبھی ایسی خیانت نہیں کر سکتی تھی تو پھر حضرت عائشہ تو مجھ سے لاکھوں درجے بہتر ہیں اور حضرت صفوان جو بدرجہا تم سے بہتر ہیں بھلا کیونکر ممکن ہے کہ یہ دونوں ایسی خیانت کر سکتے ہیں۔

جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت بریرہ جو حضرت عائشہ کی لونڈی تھی اس سے سوال کیا تو انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے کہ میں نے بی بی عائشہ میں کوئی عیب نہیں دیکھا ، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ابھی کمسن ہیں وہ گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر کھا ڈالتی ہے۔

رسول اللہ نے اپنی بیوی ام المومنین زینب بنت جحش سے دریافت فرمایا جو حسن و جمال میں حضرت عائشہ کے مثل تھیں تو انہوں نے قسم کھا کر یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنے کان اور آنکھ کی حفاظت کرتی ہوں خدا کی قسم! میں تو حضرت بی بی عائشہ کو اچھی ہی جانتی ہوں۔ [5]

رسول اللہ ﷺ کی تکلیف[ترمیم]

ایک دن رسول اکرم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے فرمایا کہ اس شخص کی طرف سے مجھے کون معزور سمجھے گا یا میری مدد کرے گا جس نے میری بیوی پر بہتان تراشی کر کے میری دل آزاری کی ہے۔ خدا کی قسم! میں اپنی بیوی کو ہر طرح کی اچھی جانتا ہوں۔ اور ان لوگوں (منافقوں) نے (اس بہتان میں) ایک ایسے مرد (صفوان بن معطل) کا ذکر کیا ہے جس کو میں بالکل اچھا ہی جانتا ہوں۔ [6]

عائشہ صدیقہ پر صورت حال کا انکشاف[ترمیم]

ام المومنین عائشہ صدیقہ مدینہ پہنچتے ہی سخت بیمار ہو گئیں ، پردہ نشنین تو تھیں ہی صاحب فراش ہو گئیں انہیں اس تہمت تراشی کی بالکل خبر ہی نہیں ہوئی۔ جب آپ کو مرض سے کچھ صحت ہوئی تو ایک رات ام مسطح صحابیہ کے ساتھ رفع حاجت کے لیے صحرا میں تشریف لے گئیں تو ان کی زبانی آپ نے اس دلخراش اور روح فرسا خبر کو سنا۔ جس سے انہیں بڑا دھچکا لگا اور شدت رنج و غم سے نڈھال ہوگئیں چنانچہ آپ کی بیماری میں مزید اضافہ ہو گیا اور دن رات بلک بلک کر روتی رہیں۔ آخر جب آپ سے صدمہ برداشت نہ ہو سکا تو رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئیں اور اس منحوس خبر کا تذکرہ اپنی ماں سے کیا ، ماں نے تسلی و تشقی دی ھگر یہ برابر روتی رہیں۔

رسول اللہ ﷺ ابو بکر صدیق کے گھر[ترمیم]

ایک دن رسول اللہ اچانک تشریف لائے اور فرمایا کہ اے عائشہ! تمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر اڑائی گئی ہے اگر تم پاکدامن ہو اور یہ خبر جھوٹی ہے تو عنقریب خداوند تعالی تمہاری براءت بذریعہ وحی اعلان فرما دے گا۔ ورنہ توبہ و استغفار کر لو کیونکہ جب کوئی خدا سے توبہ کرتا ہے اور بخشش مانگتا ہے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ حضور کی یہ گفتگو سن کر حضرت عائشہ کے آنسو بالکل تھم گئے اور اور انہوں نے اپنے والد ابو بکر صدیق سے کہا کہ آپ نبی کریم کا جواب دیجیے۔ تو انہوں نے کہا فرمایا خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ حضور کو کیا جواب دوں؟ پھر انہوں نے ماں سے جواب دینے کی درخواست کی تو ان کی ماں نے بھی یہی کہا پھر خود حضرت بی بی عائشہ نے حضور کو یہ جواب دیا کہ لوگوں نے جو ایک بے بنیاد بات اڑائی ہے اور یہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے اور کچھ لوگ اس کو سچ سمجھ چکے ہیں اس صورت میں اگر میں کہوں کہ میں پاک دامن ہوں تو لوگ اس کی تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں برائی کا اقرار کر لوں تو سب مان لیں گے حالانکہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں اس الزام سے بری ہوں اور پاک دامن ہوں اس وقت میری مثال حضرت یوسف (اسلام) کے باپ (حضرت یعقوب علیہ اسلام) جیسی ہے لہذا میں وہی کہتی ہوں جو انہوں نے کہا تھا یعنی

فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوْنَ○

یہ کہتی ہوئی انہوں نے کروٹ بدل کر منہ پھیر لیا اور کہا اللہ تعالی جانتا ہے کہ میں اس تہمت بری اور پاک دامن ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی ضرور میری براءت کو ظاہر فرما دے گا۔ [7]

براءت بذریعہ وحی[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر صدیق کے گھر میں موجود تھے اور ابھی تمام لوگ اپنی جگہ پر بیٹھے تھے کہ اچانک حضور پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ پر نزول وحی کے وقت کی بے چینی شروع ہو گئی۔ شدید سردی کے موسم میں آپ کے بدن مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکنے لگے۔ وحی اترنے کے بعد رسول اللہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اے عائشہ! تم خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی حمد کرو کہ اس نے تمہاری براءت اور پاکدامنی کا اعلان فرما دیا اور پھر آپ نے قرآن کی سورہ نور میں سے دس آیتوں کی تلاوت فرمائی جو آیت نمبر گیارہ سے شروع ہو کر بیس پر ختم ہوتی ہیں۔ ان آیات کے نزول کے بعد منافقوں کا منہ کالا ہو گیا اور ام المومنین عائشہ کی پاک دامنی کا آفتاب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس طرح چمک اٹھا کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے دلوں کی دنیا میں نور ایمان سے اجالا ہو گیا۔ [8]

حد قذف کا جاری کرنا[ترمیم]

حضور ﷺ نے مسجد نبوی میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس کے بعد سورہ نور کی آیتیں تلاوت فرما کر مجمع عام سنا دیں اور تہمت لگانے والوں میں سے حضرت حسان بن ثابت ، مسطع بن اثاثہ ، حمنہ بنت جحش اور رائیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ان چاروں کو حد قذف کی سزا میں اسی اسی درے (کوڑے) مارے گئے۔[9]

ام المومنین عائشہ کا دائمی اعزاز[ترمیم]

حضرت یوسف پر الزام لگا تو ایک بچے نے ان کی پاک دامنی کی شہادت دی۔ حضرت مریم علیہا اسلام پر تہمت لگی تو ان کی پاک دامنی کا اعلان ان کے بیٹے سے کروایا گیا۔ جب حضرت عائشہ پر تہمت لگی تو اللہ تعالی نے خود دس آیتیں نازل فرما کر آپ کی پاک دامنی ثابت کی۔ اب ان آیات کی تلاوت رہتی دنیا تک ہوتی رہے گی۔[10]

شارخ بخاری علامہ کرمانی نے فرمایا ہے کہ حضرت بی بی عائشہ کی براءت اور پاک دامنی قطعی و یقینی ہے جو قرآن سے ثابت ہے اگر کوئی اس میں شک کرے تو وہ کافر ہے۔

دوسرے تمام فقہا امت کا بھی یہی مسلک ہے۔[9]

ابو بکر صدیق کی قسم[ترمیم]

حضرت ابو بکر صدیق کو حضرت مسطح بن اثاثہ پر بڑا غصہ آیا۔ یہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے اور بچپن میں ہی ان کے والد وفات پا گئے تھے تو ابو بکر صدیق نے ان کی پرورش بھی کی تھی اور ان کی مفلسی کی وجہ سے ہمیشہ آپ ان کی مالی امداد فرماتے رہتے تھے مگر اس کے باوجود حضرت مسطح بن اثاثہ نے بھی اس تہمت تراشی اور اس کا چرچا کرنے میں کچھ حصہ لیا تھا اس وجہ سے ابو بکر صدیق نے غصہ میں بھر کر یہ قسم کھا لی کہ اب میں مسطح بن اثاثہ کی کبھی بھی کوئی مالی امداد نہیں کروں گا ، اس موقع پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ:

اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ تعالی کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم اس اسے پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہاری بخشش کرے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ (النور)

اس آیت کو سن کر ابو بکر صدیق نے اپنی قسم توڑ ڈالی اور پھر مسطح بن اثاثہ کا خرچ بدستور سابق عطا فرمانے لگے۔[11]

شیعہ امامیہ کا نظریہ[ترمیم]

شیعہ امامیہ کا یہ نظریہ ہے کہ

  • تمام انبیا کی ازواج پاکدامن ہوتی ہیں
  • علی بن ابی طالب نے طلاق کا مشورہ نہیں دیا

ازواج انبیا[ترمیم]

تمام انبیا کی بیویاں پاکدامن ہوتی ہیں کبھی ان کا دامن اس گناہ کی آلودگی سے داغدار نہیں ہو سکتا۔ وہ کافر ہوسکتی ہیں جیسے نوح اور لوط کی بیویاں تھیں۔ کیونکہ کفر لوگوں کو کبھی نبی سے متنفر نہیں کر سکتا مگر ان کا دامن عفت اس معاشرتی عیب سے عیب دار نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ بات شان نبو ت کے سراسر منافی ہے کہ ان کے گھر کوئی فاحشہ عورت ہو اور وہ اسے برداشت کریں، کیونکہ یہ لوگوں کو نبی سے متنفر کرتی ہے، چنانچہ ابن عباس سے مروی ہے کہ مازنت امراۃ نبی قط۔ کبھی کسی نبی کی بیوی نے بدکاری نہیں کی۔ (مجمع البیان) لہٰذا نبی کا ہر اس عیب سے منزہ ہونا ضروری ہے جو اس سے لوگوں کی نفرت کا باعث ہوا۔ اگر شیعان علی کو اس ام المومنین سے کوئی اصولی اختلاف ہے تو وہ بغض علی اور ان سے جنگ کرنے اور بے قصور مسلمانوں کو قتل کرانے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ کوئی شیعہ مسلمان کسی حالت میں بھی چہ جائیکہ اس قرآنی برأت کے بعد پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ کے بارے میں اس قسم کے گھٹیا الزام و اتہام کی سچائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

طلاق کا مشورہ[ترمیم]

بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس معاملہ میں علی سے مشورہ کیا تھا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ تو انہوں نے ام المومنین کو طلاق دینے کا مشورہ دیا تھا۔ اے معاذ اللہ ! یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی یہ روایات بوجوہ ناقابل اعتماد ہے۔

  • اولا ً : اس لیے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو خود سب سے افضل و اعلیٰ ہیں انہیں کسی سے مشورہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
  • ثانیا ً : انہیں کسی منافق کے افواہ اڑانے سے اپنی زوجہ کے بارے میں شک کرنے کا جواز کیا تھا؟
  • ثالثا ً : کیا ان کو یقین نہیں تھا کہ خدائے علیم و حکیم کوئی فاحشہ عورت ان کے حبالہ عقد میں نہیں دے سکتا؟
  • رابعا ً : اگر بفرض محال شک تھا تو کیا خدا سے براہ راست رابطہ قائم کر کے اس کا ازالہ نہیں کرسکتے تھے؟

ہاں البتہ اس کے برعکس برادران اسلامی کے مفسر جناب اسماعیل حقی نے اپنی تفسیر روح البیان میں یہ روایت لکھی ہے کہ جب حضرت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سلسلہ میں علی (علیہ السلام) سے مشورہ کیا تو آپ نے کہا کہ جب آپ ؐ کا جوتا نجاست سے پاک ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ کس طرح اس نجاست سے آلودہ ہوسکتی ہے۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہو گئے۔ ( روح البیان)[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انوار القران اسلامیات اختیاری بی اے پرچہ الف صفحہ 225
  2. سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ311 اور 312
  3. سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ 312
  4. انوار القران اسلامیات اختیاری بی اے پرچہ الف صفحہ 227
  5. سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ 313 تا 315
  6. سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ 315 اور 316
  7. سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ 317 اور 318
  8. سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ 318
  9. ^ ا ب سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ 320
  10. انوار القران اسلامیات اختیاری بی اے پرچہ الف صفحہ 229
  11. سیرت مصطفی از علامہ عبد المصطفی اعظمی صفحہ 319
  12. تفسیر فیضان الرحمن شیخ محمد حسین النجفی