واقعہ افک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

واقعہ افکام المؤمنین عائشہ صدیقہ پر بہتان لگانے کا واقعہ۔

واقعہ افک کے معنی[ترمیم]

غزوہ بنو مصطلق سے واپسی کے وقت منافقین نے ایک اہم فتنہ سر کھڑا کر دیا جس کی وجہ سے رسول اﷲﷺ کو سخت اذیت ہوئی ،یہ واقعہ افک کہلاتا ہے، افک کے معنی ہیں جھوٹ بنانا،، کذب و بہتان، دروغ کامل، کسی چیز کو الٹ دینااور اس کی جہت پھیر دینا۔

واقعہ کی تفصیل[ترمیم]

مشہور یہ ہے کہ یہ واقعہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ سے متعلق ہے۔ واقعہ کی راوی خود عائشہ ہیں۔ فرماتی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر پر نکلتے تو اپنی زوجات میں سے قرعے کے ذریعے ایک کا انتخاب کر کے اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ ایک غزوہ کے موقع پر قرعہ میرے نام نکلا۔ یہ واقعہ حکم حجاب نازل ہونے کے بعد کا تھا۔ مجھے اپنے ہودے میں اٹھایا اور بٹھایا جاتا تھا۔ واپسی پر جب مدینہ کے نزدیک پہنچے تو رات کو چلنے کا اعلان ہوا تو میں اٹھ کر رفع حاجت کے لیے لشکر سے دور نکل گئی۔ جب میں واپس آئی تو پتہ چلا کہ میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر گر گیا ہے۔ میں اس ہار کو تلاش کرنے میں لگ گئی۔ ادھر قافلہ والوں نے میرے ہودے کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا۔ ان کا خیال تھا میں ہودے کے اندر موجود ہوں۔ اس زمانے میں عورتیں غذا کی کمی وجہ سے ہلکی ہوتی تھیں اس لیے انہیں محسوس نہ ہوا کہ میں اس میں نہیں ہوں۔ جب میں واپس پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ میں اپنی چادر اوڑھ کر وہیں لیٹ گئی اور سوچ لیا کہ وہ جب انہیں ہودے میں نہیں پائیں گے تو خود ہی تلاش کرنے آجائیں گے۔ اتنے میں مجھے نیند آگئی۔ صبح کے وقت صفوان بن معطل سلمی کا وہاں سے گزر ہوا۔ انہوں نے مجھے پہچان لیا چونکہ حجاب کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے کئی بار دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے اپنا اونٹ میرے پاس بٹھا دیا۔ دوپہر کے قریب ہم نے لشکر کو جا لیا۔ اس پر کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ پر بہتان تراشنا شروع کیا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد شہر میں اس بہتان کی خبریں ہر طرف پھیل گئیں۔[1]

عبد اللہ بن ابی کا کردار[ترمیم]

یہ منظر دیکھا تو کچھ لوگ میرے بارے میں پراپیگنڈہ کرنے لگے اور اپنے آپ کو ( عذاب الٰہی میں گرفتار کر کے ) ہلاکت میں ڈالنے لگے، اس تہمت طرازی میں عبد اللہ بن ابی سلول نے سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ھتا۔[2] منافقین نے جن کا سرغنہ عبد اللہ بن ابی تھا ایک طوفان کھڑا کر دیا اور یہاں تک کہہ کر بخدا یہ بچ کر نہیں آئیں۔ رات غیر شخص کے پاس گزاری اور اب وہ شخص علی الاعلان اسے یہاں لا رہا ہے۔ یہ بہتان باندھنے والے اور طوفان برپا کرنے والوں میں عبد اللہ بن ابی اور دیگر منافقین پیش پیش تھے اور بعض خالص مسلمان بھی کسی درجہ میں اس میں شریک ہو گئے تھے جنہوں نے بعد توبہ کرلی اور اپنا معاملہ اللہ اور رسول سے صاف کر لیا مدینہ پہنچ کر ام المومنین بیمار ہوگئیں اور وہیں ان افواہوں کی ان کے کان میں بھنک پڑی جس سے ان کی بیماری اور پریشانی میں اور اضافہ ہو گیا۔ خود حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس افواہ سے بہت غمگین ہوئے اور سراسیمگی و پریشانی کی کیفیت اس وقت تک برقرار رہی یہاں تک کہ خدا نے یہ آیتیں نازل کر کے برات فرما دی اور اس طرح منافقین کا اٹھایا ہوا طوفان تھما اور یہ فتنہ فرو ہوا۔ عبد اللہ کے بارے میں تو اختلاف ہے کہ اس پر حد قذف جاری ہوئی یا نہ ہوئی؟ البتہ دوسرے لوگوں پر یہ حد جاری کی گئی جو اس تہمت لگانے اور اس کی تشہیر کرنے میں ملوث تھے۔

شیعہ امامیہ کا نظریہ[ترمیم]

شیعہ امامیہ کا یہ نظریہ ہے کہ

  • تمام انبیا کی ازواج پاکدامن ہوتی ہیں
  • علی بن ابی طالب نے طلاق کا مشورہ نہیں دیا

ازواج انبیا[ترمیم]

تمام انبیا کی بیویاں پاکدامن ہوتی ہیں کبھی ان کا دامن اس گناہ کی آلودگی سے داغدار نہیں ہو سکتا۔ وہ کافر ہوسکتی ہیں جیسے نوح اور لوط کی بیویاں تھیں۔ کیونکہ کفر لوگوں کو کبھی نبی سے متنفر نہیں کر سکتا مگر ان کا دامن عفت اس معاشرتی عیب سے عیب دار نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ بات شان نبو ت کے سراسر منافی ہے کہ ان کے گھر کوئی فاحشہ عورت ہو اور وہ اسے برداشت کریں، کیونکہ یہ لوگوں کو نبی سے متنفر کرتی ہے، چنانچہ ابن عباس سے مروی ہے کہ مازنت امراۃ نبی قط۔ کبھی کسی نبی کی بیوی نے بدکاری نہیں کی۔ (مجمع البیان) لہٰذا نبی کا ہر اس عیب سے منزہ ہونا ضروری ہے جو اس سے لوگوں کی نفرت کا باعث ہوا۔ اگر شیعان علی کو اس ام المومنین سے کوئی اصولی اختلاف ہے تو وہ بغض علی اور ان سے جنگ کرنے اور بے قصور مسلمانوں کو قتل کرانے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ کوئی شیعہ مسلمان کسی حالت میں بھی چہ جائیکہ اس قرآنی برأت کے بعد پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ کے بارے میں اس قسم کے گھٹیا الزام و اتہام کی سچائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

طلاق کا مشورہ[ترمیم]

بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس معاملہ میں علی سے مشورہ کیا تھا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ تو انہوں نے ام المومنین کو طلاق دینے کا مشورہ دیا تھا۔ اے معاذ اللہ ! یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی یہ روایات بوجوہ ناقابل اعتماد ہے۔

  • اولا ً : اس لیے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو خود سب سے افضل و اعلیٰ ہیں انہیں کسی سے مشورہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
  • ثانیا ً : انہیں کسی منافق کے افواہ اڑانے سے اپنی زوجہ کے بارے میں شک کرنے کا جواز کیا تھا؟
  • ثالثا ً : کیا ان کو یقین نہیں تھا کہ خدائے علیم و حکیم کوئی فاحشہ عورت ان کے حبالہ عقد میں نہیں دے سکتا؟
  • رابعا ً : اگر بفرض محال شک تھا تو کیا خدا سے براہ راست رابطہ قائم کر کے اس کا ازالہ نہیں کرسکتے تھے؟

ہاں البتہ اس کے برعکس برادران اسلامی کے مفسر جناب اسماعیل حقی نے اپنی تفسیر روح البیان میں یہ روایت لکھی ہے کہ جب حضرت پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سلسلہ میں علی (علیہ السلام) سے مشورہ کیا تو آپ نے کہا کہ جب آپ ؐ کا جوتا نجاست سے پاک ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ کس طرح اس نجاست سے آلودہ ہوسکتی ہے۔ اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خوش ہو گئے۔ ( روح البیان)[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر الکوثر محسن علی نجفی
  2. تفسیر نمونہ ،علامہ سید صفدر حسین نجفی
  3. تفسیر فیضان الرحمن شیخ محمد حسین النجفی