انطاکیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

انطاکیہ (انگریزی: Antioch، ترکی:Antakya) ترکی کے جنوب مشرقی صوبہ حطائے کا صدر مقام ہے جو بحیرۂ روم سے 20 میل دور دریائے آسی کے کنارے واقع ہے۔ 2000ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 144،190ہے۔

یہ شہر 4 صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کے ایک جرنیل سلیوکس اول نے قائم کیا تھا۔ 638ء میں بازنطینی شہنشاہ ہراکلیس کے دور حکومت میں مسلمانوں نے اسے فتح کیا لیکن وہ اناطولیہ میں زیادہ آگے نہ جا سکے اور انطاکیہ کی حیثیت دو عظیم طاقتوں کے درمیان سرحدی علاقے کے ایک قصبے کی ہو گئی جو اگلے 350 سالوں تک دونوں سلطنتوں کے ٹکراؤ کا نشانہ بنتا رہا۔

انطاکیہ شہر کا ایک دلکش منظر

969ء میں مائیکل بورزا اور پیٹر دی یونوچ نے اسے دوبارہ بازنطینی سلطنت کا حصہ بنایا۔ 1084ء میں سلجوقیوں سے اس شہر کو فتح کیا لیکن یہ صرف 14 سال ان کے قبضے میں رہا اور صلیبی جنگیں شروع ہو گئیں۔

پہلی صلیبی جنگ کے دوران عیسائیوں نے شہر کا 9 ماہ طویل محاصرہ کیا اور شہر پر قبضہ کرکے پوری مسلم آبادی کو ختم کر ڈالا۔ اس عظیم قتل عام کے بعد اس شہر کو عیسائی امارت انطاکیہ کا صدر مقام قرار دیا گیا اور اگلی 2 صدیوں تک یہ شہر عیسائیوں کے قبضے میں رہا۔ بالآخر 1268ء میں مملوک سلطان رکن الدین بیبرس نے انطاکیہ کو فتح کرکے صلیبیوں کا خاتمہ کر دیا۔ بعد ازاں یہ شہر سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا۔

جنگ عظیم اول اور ترک جنگ آزادی کے بعد ترک جمہوریہ قائم ہوئی، اُس وقت یہ شہر فرانس کے زیر انتظام شام میں شامل ہوا۔

لیکن ترکوں کا دعویٰ تھا کہ یہ ترکی کے علاقے ہیں۔ یہاں کی آبادی ترکوں، عربوں اور ارمنی باشندوں پر مشتمل تھی۔ لیکن ترکوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ شام بھی ان اضلاع کا دعویدار تھا۔ اس اختلاف کی وجہ سے انطاکیہ اور اسکندرون کے علاقوں میں مئی 1937ء میں ایک نیم خود مختار حکومت قائم کردی گئی تھی۔ اس حکومت کی منتخب مجلس کے 40 میں سے 22 ارکان ترک تھے۔ اس مجلس نے اتفاق رائے سے ترکی سے الحاق کا فیصلہ کیا اور 23 جولائی 1939ء کو یہ دونوں اضلاع ترکی میں شامل ہو گئے۔ انطاکیہ کا نام بدل کر حطائے (Hatay) کر دیا گیا لیکن یہ آج بھی انطاکیہ کے نام سے ہی مشہور ہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]