اصحاب الرس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اصحاب الرس اَصْحٰبُ الرَّسِّ لفظ رس عربی زبان میں مختلف معنی کے لئے آتا ہے، مشہور معنی یہ ہیں کہ کچے کنویں کو رس کہا جاتا ہے، جو اینٹ پتھر وغیرہ سے پختہ نہ کیا گیا ہو،
اصحاب الرس سے مراد قوم ثمود کے باقی ماندہ لوگ ہیں جو عذاب کے بعد باقی رہے، ضحاک وغیرہ مفسرین نے ان کا قصہ یہ لکھا ہے کہ جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم (ثمود) پر عذاب آیا تو ان میں سے چار ہزار آدمی جو حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے وہ عذاب سے محفوظ رہے، یہ لوگ اپنے مقام سے منتقل ہو کر حضرموت میں جا کر مقیم ہوگئے، حضرت صالح (علیہ السلام) بھی ان کے ساتھ تھے، ایک کنویں پر جا کر یہ لوگ ٹھہر گئے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی وفات ہوگئی، اسی لئے اس جگہ کا نام حضرموت (یعنی موت حاضر ہوگئی) ہے، یہ لوگ یہیں رہ پڑے، پھر ان کی نسل میں بت پرستی شروع ہوگئی، ان کی اصلاح کے لئے حق تعالیٰ نے ایک نبی کو بھیجا، جس کو انہوں نے قتل کر ڈالا، ان پر خدا تعالیٰ کا عذاب آیا، ان کا کنواں جس پر ان کی زندگی کا انحصار تھا وہ بیکار ہوگیا اور عمارتیں ویران ہوگئیں، قرآن کریم نے اسی کا ذکر دو بار فرمایا ہے ۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر معارف القرآن، مفتی محمد شفیع صاحب،ق،92