حنظلہ بن صفوان (پیغمبر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حنظلہ بن صفوام
ولادت آذربائیجان
مزار محافظہ حضرموت
نسب حنظلہ بن صفوان بن رس

حنظلہ بن صفوان ایک پیغمبر تھے جنہیں بعض روایات کے مطابق اللہ نے اصحاب الرس کی جانب بھیجا تھا۔ گوکہ ان کا تذکرہ قرآن اور احادیث میں صراحتاً نہیں ملتا تاہم ابن کثیر نے اپنی کتاب قصص الانبیاء میں ان کا ذکر کیا ہے۔ سب سے پہلے حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب تاریخ دمشق میں شہر دمشق کی تعمیر کے ذیل میں ان کا ذکر کیا، وہ لکھتے ہیں کہ "اللہ نے حنظلہ بن صفوان کو اپنا پیغام دے کر اصحاب الرس کے پاس روانہ کیا لیکن انہوں نے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا اور انہیں قتل کر دیا۔ بعد ازاں عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح اپنی اولاد کے ساتھ یہاں سے کوچ کر گئے اور احقاف میں سکونت اختیار کی، اللہ تعالی نے اصحاب الرس کو ہلاک کر دیا۔ عاد کی اولاد نے یمن میں بود و باش اختیار کیا۔ بالآخر جیرون بن سعد بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح دمشق کی سرزمین پر پہنچے اور وہاں نیا شہر بسایا۔ اللہ نے ہود بن عبد اللہ بن رباح بن خالد بن حلود بن عاد کو اپنا پیغمبر بنا کر عاد کی اولاد کے پاس احقاف بھیجا لیکن انہوں نے بھی پیغمبر کو جھٹلا دیا چنانچہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہوا اور وہ ہلاک ہو گئے۔[1] لیکن ابن عساکر کی ذکر کردہ اس روایت کی سند نہیں ملتی اس لیے اس کی صحت مشکوک ہے۔

تفصیلات[ترمیم]

ایک روایت میں ہے کہ اصحاب الرس حنظلہ بن صفوان کی قوم تھی۔ قرآن میں اللہ نے سورہ ق میں اس قوم کا ذکر کیا ہے۔ یہ قوم صنوبر درخت کی پجاری تھی جسے یافث بن نوح نے کسی چشمہ کے کنارے لگایا تھا، اس وقت اس درخت کو "شاہ درخت" کہا جاتا تھا۔ اس قوم کے بارہ گاؤں تھے جو دریا کے ساحل پر آباد تھے۔ ان کے بادشاہ کا نام ترکوذ بن غابور بن یارش بن ساذن بن نمرود بن کنعان تھا۔ یہ وہی نمرود ہے جو پیغمبر ابراہیم کے عہد میں بابل کا حاکم تھا۔[2]

تاہم یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے کہ حنظلہ انہی اصحاب الرس کے پیغمبر تھے، کیونکہ بعض روایات میں اس قوم کو انطاکیہ کا بتایا گیا ہے جنہوں نے حبیب النجار کو قتل کر کے کنویں میں پھینک دیا تھا۔ اس قصہ کا ذکر سورہ یس میں ملتا ہے:Ra bracket.png وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلاً أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ إِذْ جَاءهَا الْمُرْسَلُونَ Aya-13.png إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ Aya-14.pngقَالُوا مَا أَنتُمْ إِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَمَا أَنزَلَ الرَّحْمن مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ تَكْذِبُونَ Aya-15.pngقَالُوا رَبُّنَا يَعْلَمُ إِنَّا إِلَيْكُمْ لَمُرْسَلُونَ Aya-16.pngوَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِينُ Aya-17.pngقَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ Aya-18.pngقَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ أَئِن ذُكِّرْتُم بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ Aya-19.pngLa bracket.png[3] وہب بن منبہ کا خیال ہے کہ اصحاب الرس درحقیقت قوم شعیب ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قصص الأنبياء لإبن كثير ، الجزء الأول ، باب ذكر أمم أهلكوا بعامة ، ومنهم أًصحاب الرس .
  2. قصة اصحاب الرس ، منتدى إسلام ويب ، قصص القرآن . وثق شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2017 در وے بیک مشین
  3. القرآن الكريم ، سورة يس ، الآيات 13 - 19
  4. جواب حول سؤال : من هم أصحاب الرَّس ، ومَن ھو النبي الذي أرسل إليهم؟ ، موقع فتوى إسلام أون لاين ، سؤال أو فتوى رقم 2094 . وثق شدہ بتاریخ 18 جنوری 2018 در وے بیک مشین