عزرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزرا
(عبرانی میں: עֶזְרָא ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
109.Ezra Reads the Law to the People.jpg
عزرا کے ذریعہ شریعت کا پڑھا جانا

معلومات شخصیت
مقام پیدائش بابل  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5ویں صدی ق م  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یہودیہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد باروک بن نیریاہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد شمعون راستباز[2]  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ قس،  کاتب  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کتاب عزرا کے ساتویں باب کے مطابق شاہ فارس ارتخششتا اول نے عزرا کو 457 ق م میں یروشلم بھیجا۔ وہ فارسی حکومت میں اُس محکمہ کے سیکرٹری تھے جو یہودی مذہب کے دیکھ بھال کے ذمہ دار تھے۔ اُن کا کام یہ تھا کہ وہ ہر جگہ یہودی شریعت کو یکساں نافذ کرائیں اور اِس سلسلہ میں اُنہیں یہودی ریاست میں عہدیدار مقرر کرنے کا پورا اختیار حاصل تھا۔ جب وہ یروشلم گئے تو اُن کے ساتھ اسیروں کی بڑی جماعت بھی گئی۔ وہ بادشاہ اور جلاوطن یہودیوں کی طرف سے بیش قیمت تحائف لے گئے۔ وہاں اُنہیں مخلوط شادیوں کے مسئلے کو حل کرنے کو کہا گیا۔ روزے اور دعا کے بعد عزرا نے اور منتخب کمیٹی نے بعض کو اپنی غیر یہودی بیویوں کو چھوڑنے پر آمادہ کر لیا۔[3] اِس کے بعد بائبل میں عزرا کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا جب تک وہ نحمیاہ باب 8 میں توریت پڑھتے ہوئے نظر نہیں آتے (444 ق م) چونکہ بادشاہ نے اُنہیں عارضی کام کے لیے یروشلم بھیجا تھا اس لیے وہ واپس چلے گئے اور اپنی رپورٹ پیش کی۔ لیکن جب شہر کی فصیل ہوئی تو اُنہیں پھر اُسی قسم کے کام کے لیے بھیجا گیا۔ نحمیاہ نبی اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ شہر پناہ کی تقدس کے موقع پر دیوار کے گرد گھمونے میں ایک جماعت کی راہنمائی نحمیاہ نے کی اور دوسرے کی عزرا نے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. باب: 6
  2. باب: 7
  3. عزرا باب 10 آیت 19
  4. نحمیاہ باب 12 آیت 36 مابعد