ہابیل و قابیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہابیل اور قابیل آدم اور حوا کے دو بیٹوں کے نام ہیں۔ کتاب مقدس میں اُن کا ذکر کتاب پیدائش میں آیا ہے۔ جبکہ قرآن میں آپ کا ذکر سورۃ المائدہ کی آیت 27 میں بغیر نام لیے آیا ہے۔ کتاب مقدس میں قابیل کو قائن کے نام سے پکارا گیا ہے۔
واقعہ یہ ہیکہ آدم و حوا سے جو لڑکے اور لڑکی صبح و شام پیدا ہوتیں انکی شادی ایک دوسرے سے جائز نہیں تھی بلکہ صبح والی لڑکی کی شادی شام والے لڑکے سے ہوتی اور شام والی لڑکی کی صبح والے لڑکے سے قابیل کے حصے میں جو لڑکی آتی ہے وہ اس کے معیار کے مطابق خوبصورت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ ہابیل کا قتل کر دیتا ہے چونکہ وہ لڑکی ہابیل کے زوج میں آجاتی ہے۔ بعض لوگ یادنہیں رکھ پاتے کہ ہابیل اور قابیل میں سے قاتل ہو تھا۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ قاتل اور قابیل ملتے جلتے لفظ ہیں۔ قتل کرنے والا بھی قابیل یا قائن ہی تھا۔

ہابیل[ترمیم]

ہابیل حضرت آدم اور حضرت حوا کا چھوٹا بیٹا تھا جسے قابیل نے قتل کر دیا۔ پیشے کے لحاظ سے ہابیل بھیڑ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اور

قابیل[ترمیم]

قابیل یا قائبل حضرت آدم اور حضرت حوا کا پہلا بیٹا تھا، اس کے ساتھ ساتھ اسے پہلا قاتل بھی تھا۔ پیشے کے لحاظ سے قابیل کاشت کار تھا اور زمین میں سبزیاں اگاتا تھا۔

کتاب مقدس میں ذکر[ترمیم]

"قابیل نے ہابیل کو مارا", Gustave Doré کی جانب سے برادر کشی کی گئی ایک منظر کشی۔ (”ہمیں کھیت کو جانا چاہیے۔” اس لیے قابیل اور ہابیل کھیت کو چلے گئے۔ اور وہاں پر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل پر حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا۔[1]).

کتاب پیدائش: باب نمبر 4 میں ہابیل و قابیل کا قصہ درج ہے جو اس طرح سے ہے۔

(1) اور آدم اپنی بیوی کے پاس گیا اور وہ حامِلہ ہوئی اور اسکے قائِن پَیدا ہُؤا۔ تب اُس نے کہا مُجھے خُداوند سے ایک مرد مِلا۔(2) پھِر قائِن کا بھائی ہابل پَیدا ہُؤا اور ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائِن کِسان تھا۔(3) چند روز کے بعد یُوں ہُؤا کہ قائِن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خُداوند کے واسطے لایا۔(4) اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کُچھ پہلوٹھے بچّوں کا اور کُچھ اُن کی چربی کا ہدیہ لایا اور خُداوند نے ہابل کو اور اُس کے ہدیہ کو منظور کِیا۔(5) پر قائِن کو اور اُس کے ہدیہ کو منظور نہ کِیا اِس لیے قائِن نہایت غضب ناک ہُؤا اور اُس کا مُنہ بِگڑا۔(6) اور خُداوند نے قائِن سے کہا تُو کیوں غضب ناک ہُؤا؟ تیرے مُنہ کیوں بگڑا ہُؤا ہے؟۔(7) اگر تُو بھلا کرے تو کیا مقبول نہ ہوگا؟ اور اگر تُو بھلا نہ کرے تو گُناہ دروازہ پر دبکا بَیٹھا ہے اور تیرا مُشتاق ہے پر تُو اُس پر غالِب آ۔(8) اور قائِن نے اپنے بھائی ہابل کو کُچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یُوں ہُؤا کہ قائِن نے اپنے بھائی ہابل پر حملہ کِیا اور اُسے قتل کر ڈالا۔(9) تب خُداوند نے قائِن سے کہا کہ تیرا بھآئی ہابل کہاں ہے؟ اُس نے کہاں مُجھے معلُوم نہیں۔ کیا میں اپنے بھائی کا مُحافِظ ہُوں؟۔(10) پھر اُس نے کہا کہ تُونے یہ کیا کِیا؟ تیرے بھائی کا خُون زمِین سے مُجھ کو پُکارتا ہے۔(11) اور اب تُو زمِین کی طرف سے لعنتی ہُؤا۔ جِس نے اپنا مُنہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خُون لے۔(12) جب تُو زمِین کو جوتے گا تو وہ اب تجھے اپنی پَیداوار نہ دیگی اور زمِین پر تُو خانہ خراب اور آوارہ ہوگا۔(13) تب قائِن نے خُداوند سے کہا کہ میری سزا برداشت سے باہر ہے۔(14) دیکھ آج تُونے مُجھے رُویِ زمِین سے نِکال دِیا ہے اور مَیں تیرے حضور سے رُوپوش ہوجاؤنگا اور زمِین پر خانہ خراب اور آوارہ رہُونگا اور اَیسا ہوگا کہ جو کوئی مُجھے پائے گا قتل کر ڈالے گا۔(15) تب خُداوند نے اُسے کہا نہیں بلکہ جو قائِن کو قتل کرے اُس سے سات گُنا بدلہ لِیا جائے گا اور خُداوند نے قائِن کے لِئے ایک نشان ٹھہرایا کہ کوئی اُسے پاکر مار نہ ڈالے۔(16) سو قائِن خُداوند کے حضور سے نِکل گیا اور عدن کے مشرق کی طرف نُود کے علاقہ میں جا بسا۔

قرآن میں ذکر[ترمیم]

قرآن کریم میں ہابیل و قابیل کا قصہ سورۃ المائدہ میں آیا ہے۔ Ra bracket.png وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ Aya-27.png La bracket.png
اور ذرا انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم و کاست سنا دو جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی اُس نے کہا "میں تجھے مار ڈالوں گا" اس نے جواب دیا "اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے
Ra bracket.png لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لَأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ Aya-28.png La bracket.png
اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں
Ra bracket.png إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاء الظَّالِمِينَ Aya-29.png La bracket.png
میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے"
Ra bracket.png فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ Aya-30.png La bracket.png
آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں
Ra bracket.png فَبَعَثَ اللّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءةَ أَخِيهِ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءةَ أَخِي فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ Aya-31.png La bracket.png
پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتا یا

قتل کی وجوہات[ترمیم]

ہابیل کے قتل کی وجہ قابیل کا نبوت کے لیے منتخب نہ ہوتا تھا۔ بعض روایات میں یہ لکھا ہوا کہ ہے قتل کسی عورت کی وجہ سے ہوا۔ قرانی مفکر محمد اکبر نے اپنے ایک مضمون ہابیل و قابیل میں ایسی روایات کو رد کیا ہے کہ قتل کسی عورت کی وجہ سے تھا۔ کتاب مقدس اور قرآن کریم سے صاف پتہ چلتا ہے کہ قتل کی وجہ نبوت کا نہ ملنا یا قربانی کا قبول نہ ہونا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Holy Bible ERV-UR Version -"۔ BibleGateway.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 اپریل 2018۔