حکیم لقمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حکیم لقمان ایک شخصیت ہیں جن کا تذکرہ قرآن میں سورۃ لقمان میں آیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ وہ نبی تھے یا نہیں۔ البتہ وہ ایک بہت دانا آدمی تھے اور بہت سی حکایات ان سے منسوب ہیں۔ ان کی حکمت بھی مشہور ہے اور اردو کی مشہور مثل ہے کہ وہم کی دوا تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں۔ یعنی ان کو حکمت کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ حکیم لقمان اللہ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کا ایمان بہت طاقتور تھا۔ قرآن میں ان کی کچھ نصیحتیں درج ہیں جو انھوں نے اپنےبیٹے کو کی تھیں۔

حضرت لقمان کی مدح و ثناء اور ان کی بعض نصیحتوں کا تذکرہ قرآن میں بڑی عظمت و شان کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور انہی کے نام پر قرآن مجید کی ایک سورۃ کا نام سورہ لقمانرکھا گیا۔ محمد بن اسحٰق صاحب مغازی نے ان کا نسب نامہ اس طرح بیان کیا ہے۔ لقمان بن باعور بن باحور بن تارخ۔ یہ تارخ وہی ہیں جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلا م کے والد ہیں اور مؤرخین نے فرمایا کہ آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے بھانجے تھے اور بعض کا قول ہے کہ آپ حضرت ایوب علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت لقمان نے ایک ہزار برس کی عمر پائی۔ یہاں تک کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی صحبت میں رہ کر ان سے علم سیکھا اور حضرت داؤد علیہ السلام کی بعثت سے پہلے آپ بنی اسرائیل کے مفتی تھے۔ مگر جب حضرت داؤد علیہ السلام منصب ِ نبوت پر فائز ہوگئے تو آپ نے فتویٰ دینا ترک کردیا۔ حضرت عکرمہ اور امام شعبی کے سوا جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ آپ نبی نہیں تھے بلکہ آپ حکیم تھے اور بنی اسرائیل کے نہایت ہی بلند مرتبہ صاحب ایمان اور بہت ہی نامور مرد صالح تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ کو حکمتوں کا خزینہ بنا دیا تھا۔ قرآن مجید میں ہے:

اور (یاد کیجئے) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا اور وہ اسے نصیحت کر رہا تھا: اے میرے فرزند! اﷲ کے ساتھ شرک نہ کرنا، بیشک شِرک بہت بڑا ظلم ہے (سورۃ لقمان۔ آیت 12)

حضرت لقمان عمر بھر لوگوں کو نصیحتیں فرماتے رہے۔ تفسیر فتح الرحمن میں ہے کہ آپ کی قبر مقام صرفند میں ہے جو رملہ کے قریب ہے اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ آپ کی قبر رملہ میں مسجد اور بازار کے درمیان میں ہے اور اس جگہ ستر انبیاء علیہم السلام بھی مدفون ہیں۔ جن کو آپ کے بعد یہودیوں نے بیت المقدس سے نکال دیا تھا اور یہ لوگ بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر وفات پا گئے تھے۔ آپ کی قبر پر ایک بلند نشان ہے اور لوگ اس قبر کی زیارت کے لئے دور دور سے جایا کرتے ہیں۔ [1]

حکمت کیا ہے؟:۔حکمت عقل و فہم کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ حکمت معرفت اور اصابت فی الامور کا نام ہے۔ اور بعض کے نزدیک حکمت ایک ایسی شے ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے دل میں یہ رکھ دیتا ہے اس کا دل روشن ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ مختلف اقوال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کو نیند کی حالت میں اچانک حکمت عطا فرما دی تھی۔ بہرحال نبوت کی طرح حکمت بھی ایک وہبی چیز ہے ، کوئی شخص اپنی جدوجہد اور کسب سے حکمت حاصل نہیں کرسکتا۔ جس طرح کہ بغیر خدا کے عطا کئے کوئی شخص اپنی کوششوں سے نبوت نہیں پا سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ نبوت کا درجہ حکمت کے مرتبے سے بہت اعلیٰ اور بلند تر ہے۔[2]

حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو جن کا نام انعم تھا۔ چند نصیحتیں فرمائی ہیں جن کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ لقمان میں ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی دوسری نصیحتیں آپ نے فرمائی ہیں جو تفاسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ درزی کا پیشہ کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ آپ بکریاں چراتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ حکمت کی باتیں بیان کررہے تھے تو کسی نے کہا کہ کیا تم فلاں چرواہے نہیں ہو؟ تو آپ نے فرمایا کہ کیوں نہیں، میں یقینا وہی چرواہا ہوں تو اس نے کہا کہ آپ حکمت کے اس مرتبہ پر کس طرح فائز ہو گئے؟ تو آپ نے فرمایا کہ باتوں میں سچائی اور امانتوں کی ادائیگی اور بیکار باتوں سے پرہیز کرنے کی وجہ سے۔[3]

دانائی کی باتیں[ترمیم]

بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت لقمان نے فرمایا ہے کہ میں نے چار ہزار نبیوں کی خدمت میں حاضری دی ہے۔ اور ان پیغمبروں کے مقدس کلاموں میں سے آٹھ باتوں کو میں نے چن کر یاد کرلیا ہے، جو یہ ہیں:

  • (1)جب تم نماز پڑھو تو اپنے دل کی حفاظت کرو۔
  • (2)جب تم کھانا کھاؤ تو اپنے حلق کی حفاظت کرو۔
  • (3)جب تم کسی غیر کے مکان میں رہو تو اپنی آنکھوں کی حفاظت کرو۔
  • (4)جب تم لوگوں کی مجلس میں رہو تو اپنی زبان کی حفاظت رکھو۔
  • (5)اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد رکھو۔
  • (6)اپنی موت کو ہمیشہ یاد کرتے رہا کرو۔
  • (7)اپنے احسانوں کو بھلادو۔
  • (8)دوسروں کے ظلم کو فراموش کردو۔[4]

ان کی دانائی سے لبریز باتوں کی کچھ مثالیں یہ ہیں

  • اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہے(بحوالہ سورۃ لقمان۔ آیت ۱۸ ۔ قرآن)
  • اس دنیا میں ایسے کوشش کرو جیسے یہیں ہمیشہ رہنا ہے اور آخرت کے لیے ایسے کوشش کرو جیسے کل مر جانا ہے۔
  • میں نے بولنے پر بارہا افسوس کیا ہے مگر خاموش رہنے پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔
  • اگر معدہ کھانے سے بھر جائے تو دماغ سو جاتا ہے ، بے زبان اعضائے جسمانی خدا کی عبادت و ریاضت سے قاصر ہو جاتے ہیں۔
  • میں نے عقل بے وقوفوں سے سیکھی۔ جن افعال سے وہ گھاٹا اٹھاتے ہیں میں ان سے پرہیز کرتا ہوں۔
  • عہد شکنوں اور جھوٹوں پر کبھی اعتماد نہ کرو۔

ایک قصہ[ترمیم]

معارف مثنوی نامی کتاب میں درج ہے کہ حکیم لقمان کے ایک امیر دوست نے کہیں سے تربوز منگوائے۔وہ حکیم لقمان کو بہت پسند کرتا تھا اس لیے اس نے حکیم لقمان کو بلایا اور تربوز کی قاشیں کھلانی شروع کر دیں۔ حکیم لقمان بڑے مزے سے وہ کھاتے رہے اور شکریہ ادا کرتے رہے۔ جب ایک حصہ تربوز رہ گیا تو اس امیر آدمی نے کہا کہ اب میں بھی تو کھا کر دیکھوں کہ یہ کتنا میٹھا ہے جو آپ بہت خوش ہو کر کھا رہے ہیں۔ جب اس نے تربوز کھایا تو ہو انتہائی کڑوا تھا اور کھانا تقریباً نا ممکن تھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا کہ اے لقمان آپ یہ کیسے کھا رہے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ " اے دوست، آپ کے ہاتھوں سے سینکڑوں اچھی چیزیں پائیں ہیں جن کے شکرانہ سے میری کمر جھکی ہوئی ہے۔ مجھے شرم آئی کہ وہ ہاتھ جو مجھے بہت اچھی چیزیں عنائت کرتا تھا اگر اس سے ایک دن کوئی کڑوی چیز ملے تو میں اس سے انکار کر دوں۔ اے دوست، اس بات کے لطف نے کہ یہ تربوز آپ کے ہاتھوں سے آیا ہے اس نے اس کی کڑواہٹ کو مٹھاس میں بدل دیا ہے۔"
اس بات سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ نے انسان پر بےشمار نعمتیں نازل کی ہیں چنانچہ اگر انسان کو کچھ تکلیف ملے تو فوراً ناشکرا بن کر شکایت نہیں کرنا چاہیے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر روح البیان،ج7، ص 77، لقمان:12
  2. تفسیر روح البیان، ج7، ص 74۔75،
  3. تفسیر صاوی، ج5، ص1598، لقمان:12
  4. تفسیر روح البیان،ج7، ص 77، لقمان:12