آصف بن برخیاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آصف بن برخیاہ یا برکیاہ (انگریزی: Asif ibn Barkhiya)۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا وزیر تھا،[1] سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کا تخت منگوانے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ میں آنکھ جھپکنے سے پہلے اس کو لا سکتا ہوں۔[2] لیکن قرآن میں اس کا نام مذکور نہیں ہے۔

آصف بن برخیاہ اسلام میں[ترمیم]

کلیات اساطیر، آصف بن برخیاہ

قرآن میں آصف بن برخیاہ کا نام کے ساتھ ذکر نہیں ہوا،سورہ النمل کی آیت 40 میں جس "علم والے" کا ذکر ہے،(اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا)[3] اکثر مفسرین اس سے مراد "آصف بن برخیاہ کی ذات لیتے ہیں۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔

  • اور بولا وہ جس کے پاس کتا ب کا علم تھا کہ میں تخت بلقیس آپ کے پاس لے آؤں گا آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے ۔(پ19،النمل:40)
  • اس آیت میں آصف بن برخیا کی جو بنی اسرائیل کے نبی نہیں بلکہ ولی ہیں کئی کرامتیں بیان ہو ئیں۔ بغیر کسی کے پوچھے یمن پہنچ جانا ۔ وہاں سے اتنا وزنی تخت لے آنا اور یہ دور دراز سفر شام سے یمن تک جانا آناایک آن میں طے کرلینا ۔[4]

دیگر تمام تفاسیر میں بھی سبھی مفسرین نے اقرار کیا ہے کہ قرآن میں کسی دوسرے مقام پر بھی اس شخص کا نام نہیں آیا جس نے یہ کرامت دکھائی، اس لیے اسرائیلی روایات میں مذکور حضرت سلیمان کے وزیر جن کا نام عہد نامہ قدیم میں اردو تراجم میں "آسف" آیا ہے، کو قرآن میں "علم والا" سے مراد یہ :"آسف" لیتے ہیں، اس آیت میں علماء اسلام یا تو خاموشی آحتیار کرتے ہیں اور جو نام بیان کرتے ہیں وہ صرف اسی آصف یا آسف کا نام ہے اس کے علاوہ کسی نے بھی کوئی دوسرا نام بیان نہیں کیا، سوائے ان کو جو اس شخص سے مراد خود سلیمان علیہ السلام کی ذات لیتے ہیں لیکن یہ کسی طرح بھی ٹھیک نہیں کیونکہ سیاق و سباق سے ثابت ہے کہ وہ خود نہیں بلکہ کوئی دوسرا شخص ہے۔[1]، ایک کتاب بھی آپ سے منسوب کی جاتی ہے، جس میں اوراد و وظائف، علم اوفاق، علم اعداد، اور دیگر پراسرار علوم پر مواد شامل ہے۔[5]

آصف بن برخیاہ دیگر مذاہب میں[ترمیم]

آصف بن برخیاہ کا نام کے ساتھ ذکر یہودی و مسیحی عہد نامہ قدیم میں آیا ہے۔اردو تراجم میں اس کے ہجے آ ص ف نہیں بلکہ آ س ف ہیں یعنی آسف۔[6] آصف بن برخیاہ کا ذکر تواریخ اول و دوم، سلاطین دوم، زبور، کتاب یسعیاہ، عزرااور نحمیاہ میں نام کے ساتھ آیا ہے، پورے عہد نامہ قدیم میں کسی جگہ بھی آصف بن برخیاہ کو سلیمان یا داؤد علیہ السلام کا وزیر نہیں کہا گیا، ہر جگہ اس کا ذکر ایک "گانے والے کے طور پر ہے اس کا باپ اور اس کے بعد اس کے بیٹے بھی یہی کام کرتے ہیں۔ وہ عبادت کے وقت شکر گزاری کے الفاظ کہنے پر مامور تھے اور مذہبی گیت گاتے جیسے زبور۔[7][8][9][10][11][12]

زبور میں[ترمیم]

کتاب زبور جو مسیحی اور یہودی مانتے ہیں، اس کتاب میں صرف داؤد علیہ السلام کے ہی زبور (گیت) شامل نہیں بلکہ مزید کچھ لوگ بھی ہیں جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور یہ آصف بن برخیاہ بھی ہیں، زبور نمبر 50 اور زبور نمبر 73 تا 83 تک آصف بن برخیاہ سے منسوب ہیں۔[13]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 انسائیکلوپیڈیا قرآنیات، حصہ دوم، صفحہ 126
  2. سورۃw:النمل، w:آیت27
  3. ترجمہ کنزالایمان، علامہ احمد رضا خان
  4. مفتی احمد یار خان نعیمی، علم القرآن، صفحہ179
  5. کلیات اساطیر، آصف بن برخیاہ،
  6. کتاب مقدس، اردو بائبل سوسائٹی، انا کلی لاہو، 2007
  7. 1-تواریخ، 39:6، 15:9، 7:16، 1:25،
  8. 2-تواریخ، 12:5، 30:29، 15:35
  9. زبور، 50، 73 تا 83
  10. نحمیاہ، 8:2، 46:12
  11. عزرا، 41:2، 10:3
  12. یسعیاہ، 3:36
  13. وضاحت:جیسے باقی سارے عہد نامے میں آیات اور باب ہیں، اس طرح زبور میں باب نہیں بلکہ "زبور" کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے، کل 150 زبور شامل ہیں جن میں نصف حضرت داود سے منسوب کئے جاتے ہیں۔

[1]