لوط علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
لوط علیہ السّلام
مکمل نام لوط بن حاران
والد کا نام حاران
علاقۂ نبوت مدائن صالح اور دمشق کے درمیان
آسمانی کتب نہیں
انبیاء میں شمار اسلامی انبیاء کے حساب سے ساتویں نمبر پر
منسوب دین اسلام
ہمعصر انبیاء ابراہیم علیہ السلام
جانشین نبی [[اسماعیل علیہ السلام]]


مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

اسلام
Mosque02.svg
قرآن پاک کے مطابق اسلام میں انبیاءعلیہم السلام

رسول اور نبی

آدم علیہ السلام · ادریس علیہ السلام · نوح علیہ السلام · ہود علیہ السلام · صالح علیہ السلام · ابراہیم علیہ السلام · لوط علیہ السلام · اسماعیل علیہ السلام · اسحاق علیہ السلام · یعقوب علیہ السلام · یوسف علیہ السلام · ایوب علیہ السلام · شعیب علیہ السلام · موسیٰ علیہ السلام · ہارون علیہ السلام · ذو الکفل علیہ السلام · داؤد علیہ السلام · سلیمان علیہ السلام · الیاس علیہ السلام · الیسع علیہ السلام · یونس علیہ السلام · زکریا علیہ السلام · یحییٰ علیہ السلام · عیسیٰ علیہ السلام · محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم



لوط علیہ السلام ایک نبی کا نام ہے جن کا ذکر قرآن مجید میاور بائبل کے عہدنامہ قدیم کی کتابِ پیدائش میں آیا هے.اپ ابراهيم(ع)كے بهتيجے تهے.آپ حضرت ابراہیم کے بھائی حاران کے بیٹے ہیں مدائن صالح اور دمشق کے درمیان بحیرہ لوط جو سی سالٹ کہلاتی ہے اس کےنزدیک آپ کی قوم آباد تھی آپ كى قوم نہایت مغرور,بےحس اور نافرمان تهى.اور ان كا سب سے بڑا گناہ یہ تها كہ ان ميں مرد عورتوں كى بجائےمرد سے هى اپنى جسمانى حاجت پورى كرتے جبكہ الله نےمرد كو اس كى جسمانى حاجات پورى كرنے كے ليے عورت دى ہے.اس كام سے لوط نبى نے انهيں بهت روكا مگر وه بعض نه ائے.اپ پر صرف اپ كى بيٹياں ايمان لائيں ۔ اللہ نے دو فرشتے بھیجے جو انسانی شکل میں آۓ اور آپ سے کہا:کہ اپنی قوم میں ہماری آمد یا اعلان کردو ۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا ۔ اس قوم کا ایک رواج تھا کہ جب ان کی بستی میں کوئی باہری مرد آتا تو وہ اس کا ریپ کرتے تھے۔ لوط(ع) نے قوم سے کہتا":اے میری قوم! بُرے کاموں سے بعض رہو اور ان مہمانوں کا استقبال کرو"۔ اب یہ دیکھنا تھا کہ وہ ان فرشتوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ایک دن گُزرا اور قوم کے لوگ اکٹھے ہوے اور آپ سے کہنے لگے کہ:"اے لوط! ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر دے تاکہ ہم ان سے زنّا کر سکیں"۔ آپ(ع) نے قوم کوں بہت سمجھایا لیکن کوئی آپ(ع) پر ایمان نہ لایا يهاں تک كہ اپ كى بيوى بهى اپ پر ايمان نہ لائى. پهرالله نے اپ (ع)كو حكم ديا كہ:اپ اپنى بيٹيوں كو ليكروہاں سے چلے جائيں.چنانچہ اپ نے الله كا حكم پورا كيا اور وہاں سےچلے گئے.قوم پر پتھروں کی بارش برسائی گئ۔اس دوران لوط(ع) اور اپ کی بیٹیان اک غار میں محفوظ رہے۔قوم کے لوگ پتھر کے بتوں میں تبدیل ہوگۓ اور ان کی لاشیں آج بھی زنّا جیسے گناہوں میں مبتلا لوگوں کے لیے عبرت کا نشان ہیں۔

شجرہ نسب[ترمیم]

آزر
ابراہیم(ع) حاران ناہور
اسماعیل و اسحاق لوط

قوم کی لاشیں[ترمیم]

آپ کی قوم کے اجسام دریاۓ مرداد(the dead sea) میں پاۓ گۓ تھے۔اس دریا کی حاصیت تھی کہ اس میں نمک کی مکدار اتنی زیادہ ہے کہ اگر کئی بھاڑی آدمی اس پر لیٹ جاۓ تو وہ ڈوبے کا نہیں اور فرعون بھی اس دریا میں سے ہی پایا گیا تھا۔