بخت نصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بخت نصر
نبو کد نضر
بادشا بابل
Nebukadnessar II.jpg
نبو کدنضر
دور حکومت 605 – 562 ق۔م
پیشرو نبولا سر
جانشین اویل مرودک
والد نبولا سر
پیدائش 634 ق۔م
وفات 562 ق۔م (عمر 71 یا 72 سال)

نبو کد نضر یا بخت نصر بابل،بابی لونیا کا بادشاہ ۔ زمانہ شہزادگی میں مصر فتح کیا۔ اپنے باپ نبولا سر کے بعد تخت پر بیٹھا۔ 597ء ق م میں یہوداہ (جودیا) بغاوت فرو کی۔ اس علاقے میں دوبارہ بغاوت ہوئی تو یروشلم کو تباہ کر دیا۔ (586 ق م ) اور چار ہزار یہودیوں کو گرفتار کرکے بابل لایا۔ یہودیوں کی اس قید کو بابل کی اسیری کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں سلطنت کی زیادہ تر دولت بابل کی قلعہ بندی اور تعمیرات پر خرچ کی اس کا محل عجوبہ روزگار تھا۔ بابل کے معلق باغات سات عجائبات اسی نے بنوائے تھے۔ بابل علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا بہت بڑا مرکز تھا۔ بائبل میں اس کا ذکر نبوکد نضر کے نام سے ہے۔

بعض متقدمین و متاخرین کے مطابق ان اسیران بنی اسرائیل کی تعداد 80000تهی اور ان اسیران میں حضرت دانیال علیہ السلام بهی موجود تہے حمورابی کی حکومت ختم کر کے بادشاہ بننے کہ بعد جب نبوکد (بخت نصر) بیت امقدس پر حملہ کیا تو اس نے بیت المقدس کو مکمل تاراج (اجاڑدیا) حضرت سلمان علیہ السلام کے باقیات کو لوٹ لیا محلات کو تباہ کر دیا اور ہیکل سلمانی میں موجود کتب کو جلا دیا جس میں تورایت کےاصل نسخے بهی شامل تہے اور انبیاء علیہم السلام کو قتل(شہید) کر دیا تو رب تعالی نے اس پ (بخت نصر) پر عذاب نازل کیا اور اسکی شکل و صورت کو مسخ کر دیاحضرت وہب بن منبہ ہی فرماتے ہیں کہ بے شک بخت نصر کے چہرئے کا مسخ پہلے شیر کی شکل و صورت میں ہوا پس شیر درندوں کا بادشاہ بن گیا پهر بخت نصر کا مسج تبدیل (یعنی اللہ تعالی نے اسکی شکل تبدیل کر دی) گرهہ کی شکل میں ہوا پس گد هہ پرندوں کا بادشاہ بن گیا پهر بخت نصر کا مسخ بیل کی شکل و صورت میں ہوا پس بیل چوپا ئیوں (مویشوں)کا بادشاہ بن گیا بخت نصر کا یہ مسخ سات سال تک ہوتا رہا لیکن اسکا دل انسان کا دل ہی رہا اسی وجہ سے وہ (بخت نصر) تمام مسخ شدہ صورتوں میں بهی انسانی سوچ اور طرز عمل کو اپنائے رہا اور حکومت کرتا رہا جو اس وقت بهی اسکے پاس تهی پهر اللہ تعالی نے بخت نصر کو انسانی شکل عطاء کر دی تو اسکی روح بهی لوٹا دی سدی لکہتے ہیں کہ جب بخت نصرکو حق تعالی نے دوبارہ انسانی شکل عطاء کی تو اس کو بادشاہت بهی لوٹا دی چنانچہ اس وقت بخت نصر کے نزدیک حضرت دانیال علیہ السلام اور انکے ساتهی سب سے زیادہ باعزت تہے(جنکو بخت نصر اسیران بیت المقدس کے طور پر قید کر کے بابل(عراق) لے کرآیاتها) کیونکہ یہودیوں کو اس قربت سے شدید حسد تها پس یہودی امراء بخت نصر سے کہنے لگےکہ دانیال علیہ السلام جب پانی پی لیتے ہیں تو انکا پیشاب پر سے اختیار ختم ہو جاتا ہے (یہ بات اس وقت ان میں بہت عار معیوب سمجهی جاتی تهی) بنا بریں بخت نصر نے اس بات کو جاننے کی خاطر یہودی امراء و حضرت دانیال علیہ السلام کی دعوت کی پهر انہوں نے کهانا کهایا اور پانی پیا دوسری طرف بخت نصر نے دربان کو حکم دیا کے کهانا کهانے کہ بعد حاضرین میں سے سب سے پہلے جو بهی پیشاب کرنے کے لیے باہر نکلے اسے کلہاڑئےسے قتل کردینا چاہے وہ پیشاب کرنے والا یہ ہی کیوں نہ کہے کہ میں بخت نصر ہوں پس تم اس سے کہنا کہ تو جهوٹ بولتا ہے کیونکہ بخت نصر نے مجہے تیرئے قتل کا حکم دیا ہے چنانچہ کهانا ختم ہوا تو سب حاضرین میں سےبخت نصر پہلے پیشاب کی شدت کی وجہ سے بے قرار ہو کر سب سے پہلے کهڑا ہوا جوکہ اس کو اچانک ہی اتر آیا تها لہذاء وہ باہر نکلنے لگا تو دربان اس پر کم روشنی کی وجہ سے حملہ آور ہوا تو بخت نصر بولا میں بخت نصر ہوں تو دربان بولا تو جهوٹ بولتا ہے بادشاہ نے مجہے تیرئے قتل کا حکم دیا ہے اور اس پر کلہاڑئے کا وار کر دیا جس سے بخت نصر ہلاک ہو گیا اسکے توحیدی ہونے کہ متعلق وہب بن منبہ فرماتے کہ بعض یہود و نصاری میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ (بخت نصر) موت سے قبل ایمان لے آیا تها یا نہیں مگر بعض یہودی علماء کہتے ہیں کہ اس نے انبیاء کو قتل (شہید) کیا اور بیت المقدس کو تاراج (تباہ ) کیا لہذاء اللہ تعالی نے اسکی توبہ کو قبول نہ کیا اور وہ کافر ہی مرا۔

حوالہ جات[ترمیم]

حیواتہ الحیوان : از علامہ دمیری علیہ الرحمتہ