بنات لوط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

لوط علیہ السلام کی دونوں صاحبزادیوں کے نام ریثاء اور زعوراء تھے۔ ان کا اشارتاً ذکر اس آیت میں آیا ہے۔

  • وَجَاءهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُواْ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا قَوْمِ هَـؤُلاء بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُواْ اللّهَ وَلاَ تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ

اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے ہی برے کام کرتے تھے لوط نے کہا اے میری قوم ! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے شرمندہ نہ کرو، کیا تم میں کوئی نیک شخص نہیں ہے ؟ ان ناموں میں بہت اختلاف ہے بعض نے بڑی بیٹی کا نام ربثا جبکہ ابن جوزی نے زاد المسیر میں مقاتل سے روایت کرتے ہوئے ريثا وزعرثا، اور السدی کی روایت میں : ریہ وعروبہ. لکھا[1] طبری 12/ 84 میں "رثيا" و"زغرتا"، اورثعلبي 7/ 51 میں (زعورا) و (ريثا). لکھا ہے[2] اے میری قوم ! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، میں ان بیٹیوں سے نکاح کرنے کو اپنے مہمانوں کو فدیہ دیتا ہوں اور حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو یہ دعوت دی تھی کہ وہ حرام کام کو ترک کر کے حلال نکاح کرلیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 14192، مطبوعہ بیروت) سعید بن جبیر نے کہا : یعنی قوم کی عورتوں سے نکاح کرلو جو ان کی بیٹیاں ہیں اور وہ ان کے نبی ہیں، کیونکہ نبی امت کا بمنزلہ باپ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : وازواجہ امھتھم (الاحزاب۔ 6) اور نبی کی ازواج امت کی مائیں ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 14188، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : 11067) مجاہد اور سعید بن جبیر کی تفسیر کے مطابق حضرت لوط نے اپنی قوم کی بیٹیوں کو نکاح کے لیے پیش کیا تھا اور اس پر حسب ذیل وجوہ سے استدلال کیا گیا ہے :

  • (1) کوئی شریف انسان اپنی بیٹیوں کو اوباش اور بدمعاش قسم کے لوگوں کے ساتھ نکاح کے لیے پیش نہیں کرتا تو اتنے عظیم نبی کے متعلق یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی بیتیوں کو بے حیا اور بدفطرت لوگوں کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کرے گا۔
  • (2)حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : یہ میری بیٹیاں جو تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں اور ظاہر ہے کہ جتنے بدمعاش اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے ٹوٹ پڑے تھے ان سب کے ساتھ نکاح کے لیے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹیاں ناکافی تھیں۔ اسی لیے لازمی طور پر یہ مراد لینا پڑے گا کہ یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں ان سے نکاح کر کے تم اپنی خواہش پوری کرلو۔
  • (3) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دو بیٹیاں تھیں۔ زنتا اور زعوراء اور حضرت لوط نے فرمایا تھا کہ یہ میری بنات ہیں اور جمع میں اصل یہ ہے کہ اس کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے اور اگرچہ دو پر بھی مجازاً جمع کا اطلاق ہوسکتا ہے لیکن کسی شرعی مانع کے بغیر مجاز کا ارتکاب درست نہیں ہے [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ايجاز البيان عن معانی القرآن مؤلف: محمود بن ابو الحسن بن الحسين نيشاپوری ناشر: دار الغرب الإسلامی بيروت
  2. تفسِيرُ البَسِيْط مؤلف: ابو الحسن علی بن احمد بن محمد بن علی الواحدی، نیشاپور
  3. تفسیر تبیان القرآن ، غلام رسول سعیدی ھود 78