تابوت سکینہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تابوت سکینہ

تابوت بروزن فعلوت۔ توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ اور اسے تابوت اس لئے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی آتی تھی (تفسیر مظہری) اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ تابوت بمعنی لکڑی کا صندوق عموماً مستعمل ہے اس کی جمع توابیت ہے۔ سکینۃ یعنی اس میں ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن سے تمہاری تسکین ہو جائے گی۔ یا تابوت کی واپسی کا امر ای فی اتیانہ سکون لکم وطمانیۃ ۔ سکینۃ۔ تسکین۔ تسلی خاطر۔ اطمینان۔ سکون سے بروزن فعیلۃ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ عزیمۃ ہے۔ علامہ بغوی سید محمد مرتضے زبیدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:۔ سکینہ وہ اطمینان۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں ہے یہ اس کے لئے ایمان کی زیادتی ۔ یقین میں قوت اور استقلال کو ضروری کر دیتا ہے۔[1] اس تابوت میں حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کے تبرکات تھے، اس تابوت کو ان کے دشمن عمالقہ چھین کرلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر یہ تابوت فرشتوں کے ذریعہ حضرت طالوت کے دروازہ پر پہنچا دیا جسے دیکھ کر بنی اسرائیل بہت خوش ہوئے اور من جانب اللہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی بھی سمجھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس تابوت کو ان کی فتح و شکست کا سبب قرار دیا۔[2] بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا اس میں تبرکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ انبیائے بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ اس کی برکت سے فتح دیتا جب جالوت غالب آیا ان پر تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کہا کہ وہ کافر جہاں صندوق رکھتے وہیں وبا اور بلا آتی پانچ شہر ویران ہوگئے ناچار ہو کر دو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالُوت نے جالوت پر فوج کشی کی اور موسم نہایت گرم تھا۔[3] تابوت سکینہ مسلمانوں کے لئے صرف ایک صندوق جتنی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن میں اس کے بارے میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسکو اس وقت فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے مزید اسکے بارے میں قرآن اور حدیث میں مکمل خاموشی ہے- لیکن تابوت سکینہ یہودی مذہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے- عیسائیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اسکا ذکر انکی کتابوں میں بھی ملتا ہے- یہودیوں اور عیسائیوں کے نظریئے کے مطابق تابوت سکینہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداکے کہنے پر بنایا تھا اور اس میں وہ پتھر کی لوحیں لاکر رکھی تھیں جو انکو خدا نے کوہ سینا پر دی تھیں اور جن میں یہودی مذہب کی تعلیمات بیان کی گئی تھیں- مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت موسی کا عصا، اور من بھی رکھا گیا تھا جو کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کے لئے اللہ تعالٰی نے آسمان سے نازل کیا تھا- یہ بہت مقدس تابوت شمار کیا جاتا تھا اورہمیشہ مذہبی رہنما اسکو اٹھایا کرتے تھے اور اسکی حفاظت کے لئے فوج کا ایک دستہ بھی ہمیشہ ساتھ رہتا تھا نیز یہ بنی اسرائیل کے نزدیک فتح اور برکت کی علامت تھا- اسکو جنگوں کے دوران لشکر سے آگے رکھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس تابوت کی برکت کی وجہ سے جیت ہمیشہ بنی اسرایئل کی ہی ہو گی- جب بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران کھو گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا- یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا اور اسی بارے میں قرآن میں بھی ارشاد ہے،"ان لوگوں سے انکے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے اور وہ کچھ اشیاء بھی ہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون چھوڑ گئے تھے اسکو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلاشبہ اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو"- یہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رہا تب تک اسکی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں اور آخر کار تنگ آکر انہوں نے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرائیل تک پہنچا دیا اور غالبا"اسی بات کی طرف قرآن پاک میں بھی اشارہ کیا گیا ہے- حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لئے کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور اسکے لئے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اسکو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے- اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا- اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا- بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اسکو آگ لگا دی ، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا- اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے- ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اسکا کوئی نشان نہیں ملا-

تابوت کی تلاش[ترمیم]

آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصا"یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اسکی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اسکو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی-

تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا، ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اسکو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے- بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تفسیر انوار البیان،محمد علی،سورہ البقرہ،آیت248
  2. ^ تفسیرجلالین، جلال الدین السیوطی، سورہ البقرہ، آیت248
  3. ^ تفسیر عثمانی، شبیر احمد عثمانی۔سورۃ البقرہ، آیت248