مشعر الحرام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مشعر الحرام عربی زبان کی ایک ترکیب ہے جس کا مفہوم ہے حرمت والا نشان۔ لفظ مشعر واحد اور اس کی جمع مشاعر ہے، درحقیقت یہ اسم ظرف ہے جس کے معنی علامت اور نشان کے ہیں۔ نیز مشاعر الحج کے معنی رسوم حج ادا کرنے کی جگہ کے ہیں، انہیں شعائر الحج بھی کہا جاتا ہے اس کا واحد شعیرہ ہے۔ چنانچہ المشعر الحرام کا مفہوم ہوا حرمت والا نشان حج جس سے مراد مزدلفہ ہے۔ Ra bracket.png لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُواْ فَضْلاً مِّن رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُواْ اللّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّآلِّينَ Aya-198.png La bracket.png اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں اگر تم (زمانہ حج میں تجارت کے ذریعے) اپنے رب کا فضل (بھی) تلاش کرو، پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر حرام (مُزدلفہ) کے پاس اللہ کا ذکر کیا کرو اور اس کا ذکر اس طرح کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بھٹکے ہوئے تھے۔
مشعر کے معنی معلم (نشان) ہے چونکہ یہ عبادت کا نشان ہے اس لیے اسے معشر کہتے ہیں اور عزت کی وجہ سے حرام سے موصوف ہے عندالمشعر الحرام کا معنی یہ ہے کہ مزدلفہ اور اس کے آس پاس کا سارا علاقہ اور وادی محسر کو چھوڑ کر تمام مزدلفہ موقوف ہے[1] مشعر الحرام یا مزدلفہ۔ جب عرفات سے منی کی طرف جائیں اور عرفات کے دونوں کنارے چھوڑ دیں تو مزدلفہ شروع ہو جاتا ہے جس کی حد مازماں سے لے کہ محسر تک ہے اور دو پہاڑوں کے درمیان یہ سارا علاقہ مزدلفہ ہے جس کی حد مازمان اور وادی محسر مشعر الحرام میں شامل نہیں۔ حاجی حضرات یہاں مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی کرکے پڑھتے ہیں۔[2] حبیب بن ابی ثابت کا بیان ہے کہ عطاء بن ابی رباح سے مشعر حرام میں موقف کے متعلق استفسار کیا گیا، انہوں نے جواباً کہا: کہ بطن وادی محسر کے آگے مزدلفہ کا موقف ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ جبل قزح تک ہے۔ اس کے بعد سارا خطہ مشعرحرام ہے۔[3]

مشرق میں عرنہ اور مغرب میں محسر کے درمیان مزدلفہ واقع ہے ان دونوں وادیوں کے درمیان جس قدر پہاڑیاں، گھاٹیاں، نشیبی مقامات (ریت اور بالو)، ریگزار، راستے اورگزر گاہیں ہیں سبھی مشعر الحرام میں شامل ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیرات احمدیہ، ملااحمد جیون
  2. انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد1 صفحہ156 ،علی محمد، سورۃ البقرہ،آیت198،مکتبہ سید احمد شہید لاہور
  3. الفاکہی:4؍321۔