الواح موسیٰ
الواح، موسیٰ پر جو تختیاں اتاری گئیں انھیں الواح کہتے ہیں۔ اصطلاحٗ وہ تختیاں جن پر مذہبی کتاب تورات لکھی گئی تھی۔

ان تختیوں کی تعداد کیا تھی اور ان میں کن اشیار کی تفصیل تھی۔ اس کے بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ عام طور پر ان کی تعداد 7 (سات) سے دس (دس) تک بتائی جاتی ہے۔ نیز تورات میں ہر چیز کی تفصیل سے مراد ہے کہ ہر چیز جن کی ان کو اس وقت حاجت تھی۔[1]
قرآن میں ذکر
[ترمیم]قرآن پاک میں سورۃ الاعراف میں اس کا ذکر یوں آتا ہے :-
وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ
”اور ہم نے اسے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی سو انھیں مضبوطی سے پکڑ لے او راپنی قوم کو حکم کر کہ اس کی بہتر باتوں پر عمل کریں عنقریب میں تمھیں نافرمانوں کا ٹھکانہ دکھاؤں گا۔“—
تورات میں تختیوں کا ذکر
[ترمیم]تورات (عہدِ قدیم) میں تختیوں کا ذکر کئی بار آیا ہے، لیکن یہاں خصوصاً ان کا ذکر سفرِ خروج کے باب چوبیس میں کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا ہے:
- اور خداوند نے موسیٰ سے فرمایا: میرے پاس پہاڑ پر آ اور وہیں رہ۔ میں تجھے سنگی تختیاں، شریعت اور احکام دوں گا، جو میں نے لکھے ہیں تاکہ تُو ان کو قوم کو سکھائے۔ (آیت 12)
- پھر مزید یوں آیا ہے:"پس موسیٰ اور اس کا خادم یشوع اُٹھے اور موسیٰ خدا کے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ لیکن بزرگانِ قوم سے کہا: تم یہیں ہمارے انتظار میں بیٹھو، یہاں تک کہ ہم واپس آئیں۔ اور دیکھو! ہارون اور حور تمھارے ساتھ ہیں، جس کسی کو کوئی معاملہ درپیش ہو، وہ ان کے پاس جائے۔
پھر موسیٰ پہاڑ پر چڑھا اور بادل نے پہاڑ کو ڈھانپ لیا۔ خداوند کا جلال کوہِ سینا پر نازل ہوا اور وہ چھ دن تک بادل سے ڈھکا رہا۔ ساتویں دن خداوند نے بادل کے درمیان سے موسیٰ کو بلایا۔ اور خداوند کا جلال بنی اسرائیل کی نگاہوں میں پہاڑ کی چوٹی پر بھڑکتی آگ کی مانند تھا۔ موسیٰ بادل میں داخل ہوا اور پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہ چالیس دن اور چالیس رات پہاڑ پر ٹھہرا۔" (آیات 13 تا 18)[2]
- سفرِ خروج کے باب اکتیس میں بیان ہوا ہے کہ خدا نے موسیٰ کو پہاڑ پر شریعت دیتے وقت تختیاں عنایت کیں:
اور جب خدا نے موسیٰ سے کوہِ سینا پر بات چیت مکمل کی، تو اُسے دو گواہی کی تختیاں دیں: وہ پتھر کی تختیاں تھیں، جو خدا کی انگلی سے لکھی گئی تھیں۔ (آیت 18)[3]
- پھر ان تختیوں کا ذکر باب 32 میں آیات 15 اور 16 میں یوں آیا ہے:
15- پھر موسیٰ پہاڑ سے اترا اور گواہی کی دو تختیاں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ وہ دونوں طرف سے لکھی ہوئی تھیں؛ ایک طرف اور دوسری طرف بھی تحریر تھی۔[4]
16- اور وہ تختیاں خدا کا بنایا ہوا عمل تھیں اور ان پر تحریر بھی خدا ہی کی لکھی ہوئی تھی، جو ان میں کندہ تھی۔
- اس کے بعد آیات یوں بیان کرتی ہیں:
"اور یشوع نے قوم کے شور کی آواز سنی تو موسیٰ سے کہا: لشکر کی جنگ کا شور ہے۔ موسیٰ نے کہا: یہ نہ فتح کی للکار ہے، نہ شکست کا نالہ، بلکہ میں گانے کی آواز سن رہا ہوں۔ اور جب وہ خیمے کے قریب پہنچا، تو اس نے گوسالہ اور رقص دیکھا؛ پس موسیٰ کا غصہ بھڑک اُٹھا، اس نے تختیاں اپنے ہاتھ سے پھینک دیں اور پہاڑ کے دامن میں ان کو توڑ ڈالا۔ پھر اس نے اس گوسالہ کو لیا، جسے انھوں نے بنایا تھا اور اُسے آگ میں جلا دیا، اسے پیس کر باریک سفوف بنا دیا، پھر اسے پانی پر چھڑک دیا اور بنی اسرائیل کو وہ پانی پلا دیا۔ (آیات 17 تا 20) تختیوں کا سب سے اہم مواد: ان تختیوں میں سب سے نمایاں مضمون الٰہی احکام (وصایائے عشرہ) تھے، جن کا بیان سفرِ خروج کے باب 20، آیت 1 تا 17 میں آیا ہے:
- - تب خدا نے یہ تمام کلمات ارشاد فرمائے:
- - میں خداوند تیرا خدا ہوں، جو تجھے مصر کی سرزمین سے، غلامی کے گھر سے نکال لایا۔
- - میرے سوا تُو کسی اور کو معبود نہ ٹھہرائے۔
- - تُو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت یا کوئی ایسی شبیہ نہ بنانا جو آسمان میں اوپر یا زمین میں نیچے یا زمین کے نیچے پانی میں ہو۔
- - تُو ان کے آگے سجدہ نہ کر، نہ ان کی عبادت کرنا، کیونکہ میں خداوند تیرا خدا، غیور خدا ہوں، جو باپوں کے گناہ اولاد میں تیسری اور چوتھی پشت تک سزا دیتا ہوں، ان لوگوں کو جو مجھ سے دشمنی رکھتے ہیں۔
- - اور ہزاروں پر رحمت کرتا ہوں جو مجھ سے محبت رکھتے اور میرے احکام پر عمل کرتے ہیں۔
- - تُو خداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا، کیونکہ خداوند اسے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا جو اس کا نام بے فائدہ لیتا ہے۔
- - سبت کے دن کو یاد رکھ، تاکہ اسے مقدس رکھے۔
- - چھ دن کام کر اور اپنا سارا کاروبار کر۔
- - لیکن ساتواں دن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے۔ اس دن نہ تُو کام کرے، نہ تیرا بیٹا، نہ تیری بیٹی، نہ تیرا غلام، نہ تیری لونڈی، نہ تیرا مویشی، نہ وہ پردیسی جو تیرے دروازوں کے اندر ہے۔
- - کیونکہ چھ دن میں خداوند نے آسمان و زمین، سمندر اور جو کچھ ان میں ہے، سب کو بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ اس لیے خداوند نے سبت کے دن کو برکت دی اور اسے مقدس ٹھہرایا۔
- - اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کر تاکہ تیری عمر اس زمین پر دراز ہو جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے۔
- - قتل نہ کر۔
- - زنا نہ کر۔
- - چوری نہ کر۔
- - اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دے۔
- - اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کر، نہ اُس کی بیوی، نہ اُس کے غلام، نہ اُس کی لونڈی، نہ اُس کے بیل، نہ اُس کے گدھے، نہ اُس کی کسی چیز کا لالچ کر۔[5]
دس احکام کا خلاصہ
[ترمیم]- . میں ہی خداوند تیرا خدا ہوں… میرے سوا کوئی معبود نہ ہو۔
- . تُو کسی تراشی ہوئی مورتی یا تصویر کی عبادت نہ کر۔
- . خداوند کا نام بے فائدہ نہ لے۔
- . سبت کے دن کو مقدس جان۔
- . اپنے والدین کی عزت کر تاکہ تیری عمر دراز ہو۔
- . قتل نہ کر۔
- . زنا نہ کر۔
- . چوری نہ کر۔
- . جھوٹی گواہی نہ دے۔
- . اپنے پڑوسی کی چیزوں کا لالچ نہ کر۔[6]
.
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مکمل اسلامی انسائیکلوپیڈیا،مصنف:مرحوم سید قاسم محمود،ص- 221
- ↑ "الإصحاح الرابع والعشرون من سفر الخروج"۔ st-takla.org۔ 22 سبتمبر 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-02-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "الإصحاح الحادي والثلاثون من سفر الخروج"۔ st-takla.org۔ 21 سبتمبر 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-02-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "الإصحاح الثاني والثلاثون من سفر الخروج"۔ st-takla.org۔ 15 سبتمبر 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-02-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "الإصحاح العشرون من سفر الخروج"۔ st-takla.org۔ 16 سبتمبر 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-02-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ "الوصايا العشر | St-Takla.org"۔ st-takla.org۔ 27 أغسطس 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-02-24
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)