الیسع علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پیغمبر ۔ حضرت الیسع کا قصہ سورۃ انعام اور سورۃ ص میں آیا ہے۔ آپ حضرت الیاس علیہ السلام کے چچا زاد بھائی اور ان کے نائب و جانشین تھے۔ حضرت الیاس کی وفات کے بعد اللہ تعالٰی نے آپ کو بنی اسرائیل کے لیے نبوت عطا کی ۔

قرآن پاک میں سے[ترمیم]

سورۃ انعام پارہ سات رکوع دس میں ہے ۔ (ہم نے اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے پیدا کیا اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو اور سب کو فضیلت دی، دنیا والوں پر)

قرآن مجید میں ہے۔

وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ الْأَخْيَارِ [1]

اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کر اور یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی لکھتے ہیں : ایک قوم نے یہ وہم کیا ہے کہ الیسع ہی الیاس ہیں ‘ حالانکہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا الگ الگ ذکر کیا ہے۔ وھب بن منبہ نے کہا کہ حضرت الیسع حضرت الیاس کے شاگرد ہیں اور یہ دونوں حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہی حضرت ادریس ہیں اور یہ صحیح نہیں ہے ‘۔ کیونکہ حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے دادا ہیں اور حضرت الیاس (علیہ السلام) ان کی اولاد میں سے ہیں۔ [2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سورہ ص،آیت 48
  2. جامع البیان ‘ جز 7 ص 31‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت