حنا (مریم کی ماں)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حَنّا بنت فاقوذ
Werkstatt Lucas Cranach d.Ä. - St. Anna nach der Geburt der Jungfrau.jpg
کنواری مریم کی پیدائش کے بعد حنا کی خیالی تصویر
کنواری کی ماں، صوفیہ، آل عمران کی خاتون
پیدائش پہلی صدی ق م
احترام در تمام مسیحیت
اسلام
قداست قبل کانگریگیشن
تہوار جولائی 26 (مغربی کیلنڈر)
جولائی 25 (مشرقی کیلنڈر)
نومبر 20 (قبطی کیلنڈر)
منسوب خصوصیات کتاب، دروازہ، مریم کے ساتھ، یسوع مسیح اور عمران۔

حَنّا (حَنّہ یا حَنّاح اس نام سے بھی جانی جاتی ہیں) داؤد (بادشاہ) کے گھرانے اور خاندان سے ہیں۔ مسیحی ایپوکریفا اور اسلام کے مطابق آپ عليه السلام.png مریم کی والدہ اور یسوع مسیح کی نانی ہیں۔ مریم کی والدہ کے نام کا ذکر نہ ہی اناجیل اربعہ میں ہے اور نہ ہی قرآن میں۔حنا کے نام کا ذکر اور عمران کا ذکر صرف ایپوکریفا عہد نامہ جدید اور کتاب یعقوب میں ہے(مسیحی روایت کے مطابق،کتاب یعقوب کو عیسیٰ کے بھائی یعقوب نے لکھا تھا)۔

اسلام میں[ترمیم]

حنا (عربی: حنة) اسلام میں بھی قابل احترام ہیں۔اسلام میں ان کو روحانی خاتون اور مریم کی والدہ کہا جاتا ہے۔قرآن میں ان کا ذکر فاقوز کی بیٹی کے نام سے آیا ہے۔فاقوز جو حنا کے بڑھاپے تک بے اولاد رہا۔ ایک دن حنا درخت کے نیچے بیٹھی ہوئی تھی اس نے درخت پر ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچے کو کھانا کِھلا رہی تھی۔اسے دیکھ کر حنا کی بھی ماں بننے کی حواہش جاگی۔اس نے اولاد کے لیے دعا کی اور وہ بالآخر حاملہ ہوگئی؛ ان کے شوہر عمران کا انتقال بچہ کی پیدائش سے پہلے ہی ہوگیا تھا۔حنا شوہر کی وفات کے بعد بیٹے کی توقع کررہی تھیں۔وہ ہیکل دوم میں دعا کرنے گئی اور عزم کیا کے اسے پیدائش کے بعد اللہ کی خدمت میں وقف کرونگی۔[1] لیکن بیٹے کے بجائے بیٹی کی پیدائش ہوئی۔جس کا نام حنا نے مریم رکھا۔اس کی پیدائش کے بعد حنا کو احساس ہوا کہ وہ تو بیٹے کی توقع کررہی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے تحفہ میں بیٹی دی دے۔ سورۃ آل عمران آیت نمبر 36 کے مطابق:
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَىٰ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
ترجمہ:

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ﴿36﴾

سورۃ آل عمران آیت نمبر 37 کے مطابق:
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴿37﴾
ترجمہ:

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے(یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے﴿37﴾

مسیحیت میں[ترمیم]

مریم، حنا اور بچپن کے عیسیٰ

عیسائیت میں یہ مانا جاتا ہے کہ حنا کی کہانی اور حناح کی کہانی کافی ملتی جلتی ہے جس میں فرق صرف اتنا ہے کہ حناح نے سموئیل کو جنم دیا اور حنا نے مریم کو۔اور اس سے پہلے حناح بھی بے اولاد تھی۔

نگارخانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تُو۔تُو سننے والا (اور) جاننے والا ہے ﴿35﴾" (قرآن 3:35)۔
  2. O. Bitschnau: Das Leben der Heiligen Gottes 1883, 558.

بیرونی روابط[ترمیم]