زکریا بن برخیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زکریا ابن برخیا
Michelangelo Buonarroti 031.jpg
زکریا بن برخیا کلیسا سیستن کی چھت پر (خیالی تصویر)
پیغمبر، نبی
پیدائش ق م
وفات ق م (شہادت)
احترام در اسلام
بہائیت
یہودیت
مسیحیت
تہوار 8 فروری راسخُ الاعتقاد کلیسا بمطابق مشرقی آرتھوڈوکس کا عبادتی کلینڈر
31 جولائی آرمینیا رسولی چرچ بمطابق سینٹ کی تقویم(اس دن تمام چھوٹے پیغمبروں کا بھی ضیافتی دن ہوتا ہے)۔

زکریا (/zɛkəˈr[unsupported input]ə/; عبرانی: זְכַרְיָה، جدید Zekharya ، طبری Zəḵaryā، "خدا کو یاد کیا"; عربی: زكريّا Zakariya' یا Zakkariya; یونانی: Ζαχαρίας Zakharias; لاطینی: Zacharias) کا ذکر عبرانی بائبل میں آیا ہے۔اور ان کو کتاب زکریاہ کا مصنف بھی سمجھا جاتا ہے۔ان کا بارہ معمولی انبیاء میں گیارہواں نمبرہے۔اور ان کا علاقہ نبوت مملکت یہودہ تھا۔اور آپ حزقی ایل کی طرح یہودہ کے کوہن تھے۔

بائبل میں ذکر[ترمیم]

پیغمبر[ترمیم]

عزرا 5:1 اور عزرا 6:14 کے مطابق، آپ عدو کے بیٹے تھے۔مگر یہاں تضاد پیدا ہوتا کیونکہ کتاب زکریاہ میں کچھ اور ہی مذکور ہے۔زکریاہ 1:1 کے مطابق برخیاہ آپ کے والد تھے۔اورعدو اپ کے دادا تھے۔انٹرپریٹر کی بائبل کے مطابق،

اس تضاد کا بیان حل کرنے کے لئے یہ اندازا لگایا گیا ہے انہوں نے ایسا اس لئے کیا تھا کہ الفاظ 'برخیا کا بیٹا' 1:1 کے متن کا اصلی حصہ نہیں تھا، - ایسا ناممکن ہے کہ عزرا کے اقتباسات لپ کیے جاچکے ہوتے -لیکن ان کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ یسعیاہ 8:2 میں زکریا بن 'جبرخیا' مذکور ہے،اور زکریاہ 1:1 میں برخیا ہے اس سے ایک الگ گڑبڑ پیدا ہوتی ہے[1]

ایک اور وضاحت، شاید عدو زکریا کا والد تھا اس کا وسیع تر مطلب یہ بنتا ہے کہ برخیا کے والد عدو تھے کیونکہ وہ ان سے پہلے گزرے ہیں۔

ان کا نبوت کا دور دارا بادشاہ کے دوسرے سال میں شروع ہوا(520 ق م)۔ اور بابل کی جلاوطنی کے سولہ سال بعد۔

اور کتاب عزرا کے مطابق، حجی ان کے ہمعصر تھے[2]۔اورحجی،ملاکی اور زکریا کے موت کے بعد روح القدس نے بنی اسرائیل کے لوگوں کو چھوڑدیا۔بامطابق آگادا ذرائع،"یوما" 96۔[3]

اسکے علاوہ اس کتاب سے زکریا کی زندگی کے مطالق معلومات نہیں مل سکیں۔

یہ قیاس آریائی کی گئی ہے کہ عدو زربابل کے کاہن خاندان کا سردار تھا۔ (نحمیاہ 12:4)، اور زکریا نے خود کو ایک کاہن بنالیا تھا اوراس کے بعد پیغمبر بنا تھا۔ یہ بات اس طرح ثابت کی جاسکتی ہے کہ زکریا ہیکل میں دلچسپی رکھتا تھا۔اور کہانت میں بھی۔اور عدو کی تبلیغ میں بھی اس بات کا ذکر کتاب تواریخ میں ہے۔

شہادت[ترمیم]

متی کی انجیل، میں بھی زکریا برخیا کا ذکر ہے جس کے مطابق عیسیٰ نے اس میں فرمایا ہے؛ زکریا ابن برخیا کو قربان گاہ اور ہیکل کے درمیان میں شہید کیا گیا تھا:

تاکہ سب راستبازوں کا خُون جو زمِین پر بہایا گیا تُم پر آئے۔ راستباز ہابِیل کے خُون سے لے کر برکیاہ کے بیٹے زکریاہ کے خُون تک جِسے تُم نے مقدِس اور قربانگاہ کے درمِیان میں قتل کِیا[4]

اسی طرح کا ایک فرمان لوقا کی انجیل میں آیا ہے جس کے مطابق:

ہابِیل کے خُون سے لے کر اُس زکریاہ کے خُون تک جو قُربان گاہ اور مقدِس کے بِیچ میں ہلاک ہُؤا۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اِسی زمانہ کے لوگوں سے سب کی باز پُرس کی جائے گی۔[5]

بہائیت[ترمیم]

بہائی مذہبی علماء کرام نے زکریا کی پیشن گوئیاں اور سورۃ ہیکل میں فرق واضع کردیا ہے۔جس کا ذکر ان کی مذہبی کتاب ”سومن آف دا لارڈ آف ہوسٹ“ میں ہے یہ کتاب ان کے ٹیبلٹس آف بہااللہ کا حصہ ہے۔ جسے مرزا حسین علی نوری نے لکھا ہے۔[6]

اسلام[ترمیم]

قرآن میں صرف 25 پیغمبروں کا ان کے نام سے ذکر ہے، جس میں دوسرے زکریا کا ذکر ہے جو یحییٰ کے والد ہیں۔مسلمانوں کا یہ ماننا ہے کہ اللہ نے کئی پیغمبر انسانیت کی بھلائی کے لئے بھیجے اور وہ بھی جن کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ 124٫000 پیغمبروں میں سب اسلام میں قابل احترام ہیں۔ لیکن اس زکریا کا قرآن میں ذکر موجود نہیں ہے۔ کچھ علماء کرام نے اس زکریا کے بارے میں بیان کرا ہے جس میں عبداللہ یوسف علی شامل ہیں۔ [7] انہوں قرآنی آیت کو بیان کرا ہے۔اور تجویز دی ہے پیغمبروں کی شہادت اور راستباز لوگوں کے قتل ہوئے جن میں برخیا کے بیٹے زکریا بھی شامل ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. The Interpreter's Bible، جلد VI, صفحہ 1٫053
  2. عزرا 5:1
  3. Editor. (1972) "زکریا"۔ In Encyclopaedia Judaica. 16. Jerusalem:Macmillan, صفحہ۔ 958.
  4. متی 23:35
  5. لوقا 11:51
  6. زکریا اور سورۃ ہیکل میں فرق واضع by Cynthia C. Shawamreh, written for the Wilmette Institute, دسمبر 1998
  7. en:The Holy Qur'an: Text, Translation and Commentary، عبداللہ یوسف علی، Note 364: "Examples of the Prophets slain were: "the righteous blood shed upon the earth, from the blood of righteous Abel unto the blood of Zacharias, son of Barachias, whom ye slew between the temple and the altar" (Matt. 23:35)