ماعز بن مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ماعز بن مالک نام، باپ کا نام مالک تھا، قبیلہ اسلم سے نسبی تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔

اسلام[ترمیم]

ان کے اسلام کا زمانہ متعین طور سے نہیں بتایا جاسکتا ،غالباً اپنے قبیلہ کے ساتھ کسی وقت مشرف باسلام ہوئے ہوں گے۔

ان کی شہرت کی وجہ[ترمیم]

ماعز کی زندگی کا ایک واقعہ صحاح میں ملتا ہے، ایک مرتبہ ماعز سے بھی زنا کی لغزش ہو گئی، اُس وقت جذبات کے طوفان میں کچھ نہ دکھائی دیا،جب ہوش آیا تو اس لغزش کا احساس ہوا ،اسی وقت دوڑتے ہوئے بے تابانہ آن‌حضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اورعرض کیا یا رسول اللہ! مجھے پاک کجیے، آن‌حضرتﷺ سمجھ گئے ؛لیکن اس خیال سے کہ جب خدا نے پردہ ڈالا ہے تو اسے کیوں اٹھایا جائے، فرمایا جاؤ اللہ سے مغفرت چاہو اوراس کے حضور توبہ کرو، یہ جواب سن کر ماعز لوٹ گئے،لیکن تھوڑی دور جاکر پھر لوٹ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ !مجھے پاک کیجیے،پھر آپ نے وہی جواب دیا،جاؤ اللہ سے توبہ اوراستغفار کرو،پھر یہ لوٹ گئے،تھوڑی دور جاکر پھر واپس آئےاورکہا یا رسول‌َاللہ ! مجھے پاک کیجیے، پھر وہی جواب ملا، ماعز پھر لوٹ گئے، لیکن دل کی خلش کسی طرح قرار نہیں لینے دیتی تھی،اس لیے چوتھی مرتبہ پھر آئے اس مرتبہ آن‌حضرتﷺ نے صاف صاف پوچھا،”کس چیز سے پاک کروں“،عرض کیا،”زنا کی گندگی سے ،آن‌حضرتﷺ کو اس صریح اِعتراف کا اس لیے پورا یقین نہیں آیا کہ کوئی عاقل انسان ایسے فعل کا بھی اقرار کرسکتا ہے، جس کا نتیجہ یقینی طور پر جان سے ہاتھ دھونا ہے، اس لیے آپ نے لوگوں سے پوچھا انہیں پاگل‌پن تو نہیں ہے، معلوم ہوا نہیں، اس قسم کی کوئی شکایت نہیں ہے ،پھر دریافت فرمایا شراب تو نہیں پی ہے، ایک شخص نے اٹھ کر منہ سونگھا،مگر شراب کا کوئی اثر نہ تھا، یہ شکوک دور کرنے کے بعد آپ نے پھر زیادہ وضاحت کے ساتھ دریافت فرمایا کیا تم نے واقعی زنا کیا ہے، ماعز نے اثبات میں جواب دیا، اس اعتراف کے بعد تاویل کی کوئی گنجایش باقی نہ تھی، اس لیے آپ نے سنگسار کرنے کا حکم دیا،جس کی فوراً تعمیل کی گئی، لوگ باتیں کرنے لگے کوئی کہتا ،ماعز تباہ ہو گئے ان کے گناہوں نے انھیں گھیر لیا، کوئی کہتا ماعز سے بڑھ کر کسی کی خالص توبہ نہیں،انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر کہا کہ مجھے سنگسار کیجیے،کئی دن تک اس قسم کی رائے زنیاں ہوتی رہیں،دو چار دن کے بعد آن‌حضرتﷺ صحابہ کے مجمع میں تشریف لائے اورسلام کرکے بیٹھ گئے اورفرمایا تم لوگ ماعز بن مالک کے لیے مغفرت کی دعا کرو، سب نے مل کر مغفرت کی دعا کی اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ ماعز نے ایسی توبہ کی ہے تنہا یہی توبہ کافی ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسلم کتاب الحدود باب من اعتراف علی نفسہ