صفوان بن امیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صفوان بن امیہ
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 661  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ناجیہ بنت ولید بن مغیرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
والد امیہ بن خلف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
ربیعہ بن امیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر

صفوان بن امیہ یہ امیہ بن خلف مشہور دشمن اسلام کے بیٹے تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

صفوان نام، ابو وہب کنیت، نسب نامہ یہ ہے، صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب ابن حمج قرشی،زمانہ جاہلیت میں صفوان کا خاندان نہایت معزز اورمفتخر تھا، ایسار یعنی تیروں سے پانسا ڈالنے کا عہدہ ان ہی کے گھر میں تھا، کوئی پبلک کام اس وقت تک نہ ہو سکتا تھا، جب تک پانسا سے اس کا فیصلہ نہ ہو جائے۔

اسلام سے دشمنی[ترمیم]

قریش کے دوسرے معززین کی طرح صفوان کا باپ امیہ بھی اسلام کا سخت مخالف تھا، بلال حبشی اسی کی غلام تھے، بدر میں مشرکین کی شکست اورباپ کے قتل نے صفوان کو بہت زیادہ مشتعل کر دیا، ایک دن یہ اور عمیر بن وہب بیٹھے ہوئےبدر کے واقعات کا تذکرہ کر رہے تھے، صفوان نے کہا مقتولین بدر کے بعد زندگی کا مزہ جاتا رہا، عمیر نے جواب دیا سچ کہتے ہو، کیا کہیں اگر قرض کا بار نہ ہوتا اور بال بچوں کے مستقبل کی فکر نہ ہوتی تو محمدﷺ کو قتل کرکے یہ قصہ ہی ختم کردیتا، صفوان باپ کے خون کے انتقام کے لیے بیتاب تھے، بولے یہ کون سی بڑی بات ہے، میں ابھی تمہارا قرض چکائے دیتا ہوں، رہا اہل وعیال کا معاملہ تو ان کے متعلق بھی یقین دلاتا ہوں کہ تمہارے بعد اپنے بال بچوں کی طرح ان کی کفالت اورخبر گیری کروں گا؛چنانچہ عمیر کو آمادہ کرکے انہیں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار دیکر آنحضرتﷺ کا قصہ چکانے کے لیے مدینہ بھیجا، مگر مدینہ پہنچنے کے بعد جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے تو راز فاش ہو گیا، اور عمیر مسلمان ہوگئے۔[1] 3ھ میں بعض نو مسلم قبائل کی درخواست پر آنحضرتﷺ نے ان کی تعلیم کے لیے قاری صحابہ کی ایک جماعت بھیجی تھی،راستہ میں بنی لحیان نے ان پر حملہ کر دیا، اس حملہ میں چند صحابہ شہید ہوئے اورچند زندہ گرفتار کئے گئے، گرفتار ہونے والوں میں ایک صحابی زید بن دثنہ تھے،ان کو بیچنے کے لیے مکہ لایا گیا، صفوان نے خرید کر اپنے باپ کے بدلہ میں قتل کیا۔[2]

قبول اسلام[ترمیم]

فتح مکہ کے بعدصفوان نے جدہ کا راستہ لیا، ان کے عزیز اورقدیم رفیق عمیر بن وہب نے جو بدر کے بعد ہی مشرف باسلام ہوگئے تھے،آنحضرتﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ سردارِ قوم صفوان بن امیہ آپ کے خوف سے بھاگ گئے ہیں، آپ نے فرمایا وہ مامون ہیں، عمیر نے کہا یا رسول اللہ جان بخشی کی کوئی نشانی مرحمت ہو،آپ نے ردائے مبارک دی کہ وہ اسے دکھا کر صفوان کو اسلام کی دعوت دیں اورانہیں آنحضرتﷺ کے پاس بلا لائیں، اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو فبہا ورنہ انہیں غور کرنے کے لیے دو مہینہ کی مہلت دیجائے، عمیر ردائے مبارک لیکر صفوان کی تلاش میں نکلے اورانہیں رداءدکھا کر مدینہ واپس لے آئے اوروہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مجمع عام میں بلند آواز سے آپ سے پوچھا محمد عمیر بن وہب نے مجھ سے تمہاری چادر دکھا کر کہا ہے کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اورمجھے اختیار دیا ہے کہ اگر میں پسند کروں تو اسلام قبول کرلوں، ورنہ دو مہینہ کی مہلت ہے،آنحضرتﷺ نے فرمایا ابو وہب سواری سے اترو، انہوں نے کہا جب تک صاف نہ بتاؤ گے نہ اترونگا،آنحضرتﷺ نے فرمایا دو کے بجائے تم کو چار مہینہ کی مہلت ہے۔جنگ حنین اورطائف ہوئی،اس میں بھی انہوں نے اسلحہ سے مسلمانوں کی مدد کی اورخود بھی دونوں لڑائیوں میں شریک ہوئے [3] آنحضرتﷺ نے حنین کے مالِ غنیمت میں سے سو اونٹ انہیں دئیے یہ لطف و عنائت دیکھ کر صفوان نے کہا ایسی فیاضی نبی ہی کر سکتا ہے ان کی بیوی ان سے پہلے مشرف باسلام ہوچکی تھی،لیکن آنحضرتﷺ نے دونوں میں تفریق نہیں کی ۔آنحضرتﷺ کے اس طرز عمل سے متاثر ہوکر غزوۂ طائف کے چند دنوں بعد مشرف اسلام ہوگئے،اس وقت آنحضرتﷺ نے نکاح کی تجدید نہیں فرمائی۔

مدینہ کا سفر[ترمیم]

صفوان تاخیر اسلام کی وجہ سے ہجرت کا شرف حاصل نہ کرسکے تھے، کسی نے ان سے کہا جو ہجرت کے شرف سے محروم رہا وہ ہلاک ہو گیا، صفوان یہ سن کر ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے۔عباس کے یہاں اُترے،آنحضرتﷺ کو ان کی ہجرت کی خبر ہوئی، تو فرمایا،فتح کے بعد ہجرت نہیں ہے انہیں مکہ واپس جانے کا حکم دیا، اس حکم پر صفوان مکہ واپس گئے،اوربقیہ زندگی مکہ ہی میں بسر کی۔

جنگ یرموک[ترمیم]

عمرفاروق کے زمانہ میں شام کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے، اور اس سلسلہ کی مشہور جنگ یرموک میں ایک دستہ کے افسر تھے۔[4]

وفات[ترمیم]

امیر معاویہ کے عہدِ خلافت میں وفات پائی وفات کے بعد دو لڑکے امیہ اور عبداللہ یاد گار چھوڑے[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد تذکرہ عمیر بن وہب
  2. سیرۃ ابن ہشام:2/711
  3. موطا امام مالک:117
  4. طبری:209
  5. استیعاب:1/228