نعمان الاعرج

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نعمان الاعرج
معلومات شخصیت

نعمان الاعرج شہید غزوہ احد نعمان بن مالک بن ثعلبہ الانصاری غزوہ بدر میں شریک تھے۔
ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ نعمان بن مالک بن ثعلبہ بن دعد بن فہر بن غنم بن سالم اوسی بدر اور احد کے غزوات میں شریک تھے۔ ابو عمر کی رائے ہے کہ نعمان بدر اور احد کے غزوات میں موجود تھے ان کی شہادت بقول واقدی صفوان بن امیہ کے ہاتھوں غزوۂ احد میں ہوئی لیکن عبد اللہ بن محمد بن عمارہ کہتے ہیں کہ جو صحابی بدر اور احد میں شریک ہوئے اور پھر احد میں شہید ہوئے وہ نعمان الاعرج تھے اور جن صاحب کو نعمان بن قوقل کہا جاتا ہے وہ نعمان بن مالک بن ثعلبہ بن دعد بن فہر ہیں یہ غزوۂ بدر میں شریک نہیں تھے اور السدی کا بیان ہے کہ نعمان بن مالک انصاری جب غزوۂ احد کے لیے مدینے سے نکلے اور انہوں نے عبد اللہ بن ابی سے بھی مشورہ کیا حالانکہ اس سے پہلے ایسی نوبت کبھی نہیں آئی تھی، تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا بخدایا رسول اللہ میں ضرور جنت میں داخل ہوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، وہ کیسے عرض کیا یا رسول اللہ میں توحید اور رسالت کا قائل ہوں اور میں جنگ میں بھاگوں گا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تونے سچ کہا چنانچہ اسی دن شہید ہوگئے ابو موسیٰ اور ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر کہتے ہیں کہ اس نعمان سے مراد نعمان بن قوقل ہیں جن کا ذکر ہوچکا ہے نسب ایک ہی ہے اور بدر واحد میں شرکت اور احد میں ان کی شہادت بھی ایک ہی سی ہے۔ دونوں کے نسب میں سوائے دعد اور اصرم کے اور کوئی فرق نہیں ہے اور ایسے مواقع پر راویوں میں اس سے بھی زیادہ اختلاف کا ہونا معمول میں داخل ہے بعض اوقات ایک راوی اپنے اسناد میں ایک یا دو آدمیوں کا نام حذف کردیتا ہے حالانکہ بعض اور روایت نے ان کا نام اسناد میں شامل کیا ہوتا ہے ان کی کتابوں میں بہ کثرت ایسی مثالیں ملتی ہیں اسی وجہ سے ابن مندہ نے اور نیز ابو نعیم نے نعمان بن مالک کا علیٰحدہ ترجمہ نہیں لکھا رہا ابو موسیٰ کا ن کے نسب میں سالم کا اضافہ کرنا یہ درست نہیں ہے کیونکہ سالم غنم کا بھائی ہے بیٹا نہیں۔ انصار میں ایک اور سالم جو عبد اللہ بن ابی کے خاندان سے تھے، ان کا لقب جعلی تھا لیکن ان کا نسب بالکل غیر اہم ہے نیز ابو موسیٰ کا جناب نعمان کو اوسی لکھنا بھی درست نہیں کیونکہ وہ خزرجی تھے۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ کے لیے ان کا علیحٰدہ ترجمہ لکھنے کی کوئی معقول وجہ نہ تھی ابو عمر نے عمر نے ان کا ترجمہ نعمان بن قوقل کے عنوان سے قلمبند کیا ہے اور قوقل ان کے جد اعلیٰ ہیں جن کا نام بقول ابن الکلبی غنم تھا اور ابو عمر نے ان کا نسب نعمان بن ثعلبہ لکھا جو ان کے جداونی تھے بنابر بن ابو موسیٰ کے لیے استدراک کی کوئی گنجائش نہ تھی کیونکہ ابن مندہ نے ان کا ترجمہ نعمان بن قوقل کے نام سے لکھا ہے اور قوقل سے ان کی مراء ثعلبہ تھے، جو مالک کے والد تھے اور قوقل ان کا لقب تھا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ جلد9 صفحہ 307 مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور