زید بن اسلم بلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زید بن اسلم بلوی
معلومات شخصیت

زید بن اسلم بلوی غزوہ بدر میں شریک انصار صحابی ہیں۔
ان کا نسب زيد بن أسلم بن ثعلبة بن عدي بن العجلان بن حارثة بن ضبيعة بن حرام بن جعل بن عمرو بن جشم بن ودم بن ذبيان بن هميم بن ذهل بن هني بن بلي البلوي العجلاني ہے انصار اور بنی عمر بن عوف کے حلیف ہیں یہ ثابت بن اقرم کے چچا کے بیٹے ہیں بدر میں شریک ہوئے اس کو موسی بن عقبہ اور زہری اور ابن اسحاق نے ذکر کیا ان سب کا قول ہے کہ انصار میں سے خاندان بنی عجلان سے زید بن اسلم بن ثعلبہ بن عجلان شریک ہوئے مگر ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ خاندان بنی عبید بن زید بن مالک سے زید بن اسلم بن ثعلبہ بن عدی بن حجر شریک بدر ہوئے ان لوگوں نے زید کو انصار سے قرار دیا اور حلیف ہونا نہیں بیان کیا اور اور اس کو ابو عمرو اور ابن حبیب اور ابن کلبی نے ذکر کیا ہے اور عبید بن زید ابن اسحاق نے اپنے قول میں بیان کیا ہے اور زید بن مالک بن عوف بن عمر بن عوف بن مالک بن انس کے بیٹے ہیںلہذا زید بن اسلم کا نسب بنی عمرو بن عوف کی جانب رجوع کرگیا اور ابو عمر اور ان کے ساتھیوں نے زید بن اسلم کو انصار کا حلیف قرار دیا ہے اور ایسے ہی ابن ہشام بہائی سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کر کے انصار کا حلیف قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ خاندان بنی عبید بن زید ابن مالک ایک جماعت شریک بدر ہوئے پھر انہوں نے کہا بنی عبید کے حلفاء یعبی خاندان بنی بلی سے زید بن اسلم بن ثعلبہ بن عدی بن حجر اور ایسے ہی سلمہ نے ابن اسحاق سے نقل کرکے ان کو حلیف قرار دیا ہے لیکن ابن مند اور ابونعیم نے ان کا حلیف ہونا نہیں بیان کیا اور صحیح ہے کہ زید بن اسلم حلیف ہیں اور عبید اللہ بن ابی رافع نے ان کو ان لوگوں کے ناموں میں بیان کیا یا جو حضرت علی کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے اور ہشام کلبی نے ان کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ طلیحہ بن خویلد اسدی نے ان کو جنگ بزاخہ کے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلافت میں شہید کردیا تھا اور ان کے ساتھ عکاشہ بن محصن بھی شہید ہوئے اس کا تذکرہ تینوں (ابن مندہ ابو نعیم ابن عبد البر)نے کیا ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ جلد4صفحہ 822 مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور