ابو رزین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو رزین
معلومات شخصیت

ابو رَزین صحابی رسول تھے۔ ان کو اصحاب صفہ میں شمار کیا گیا ہے۔[1]

صحابیت[ترمیم]

یقال: إنہ کان من أہل الصفۃ، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اصحابِ صفہ میں سے ہیں۔[2]

بیوی و اولاد[ترمیم]

آپ کی زوجہ محترمہ کا نام کَبشَہ تھا، ان کی کنیت ام سُلَیمان ہے۔ امام حسینؑ کی کنیز تھیں جنہیں آنحضرت نے 1000 درہم (چاندی کے سکے) میں خریدا اور امامؑ کی زوجہ ام اسحاق (فاطمہ صغریٰ کی والدہ) کے گھر میں خدمت کیا کرتی تھیں۔ پھر ابو رَزِّین کے ساتھ عقد نکاح کیا اور ان کے بطن سے سلیمان نامی فرزند متولد ہوئے۔

امام حسین کی نصرت[ترمیم]

ابو رزین امام حسینؑ کے صحابی اور غلام تھے۔ ان کی زوجہ اور بیٹا سلیمان بھی امام حسینؑ کے غلام تھے۔ سلیمان کو امام حسینؑ نے اپنا قاصد بنا کر بصرہ کے رؤسا و اشراف کی طرف ایلچی بنا کر بھیجا تھا۔

یہ وہی سلیمان ہیں جن کا نام زیارت ناحیہ مقدسہ میں آیا ہے۔ ام سلیمان نے اپنے مولا حسینؑ کے ہمراہ کربلا کا سفر کیا۔ ام سلیمان عالمہ، فاضلہ، صالحہ و متقی خاتون تھیں کہ جو اپنے آقا حسینؑ کے ساتھ راہی کربلا ہوئیں اور بعد عاشورا اہلبیتؑ حرم کے ساتھ قیدی بنیں۔ انہوں نے تمام مصائب کو راہ خدا میں تحمل بھی کیا۔

احادیث نبوی[ترمیم]

صفہ کی زندگی میں پیغمبر اسلام نے صفہ کے طالب علموں میں سئ خاص طور سے ابو رزین کو چند نصیحتیں فرمائی ہیں۔ ابو رزین کہتے ہیں نبی اکرم نے فرمایا: اے ابو رزین! کیا میں تمہیں دنیا و آخرت میں خیر و بھلائی پانے کی جڑ اور اصل الأصول نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا: ضرور فرمائیں! آپ نے ارشاد فرمایا: تم ذاکرین (اللہ کے ذکر کرنے والے) کی مجلس کو لازم پکڑ لو۔ جب بھی تم تنہائی میں رہو تم سے جہاں تک ہو سکے خوب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ اللہ ہی کے لیے محبت کرو اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بغض و عداوت رکھو۔ اے ابو رزین! کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک شخص اپنے گھر سے اپنے دینی بھائی کی زیارت و ملاقات کے لیے نکلتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائِے رحمت کرتے ہوئے نکلتے ہیں اور یوں کہتے ہیں ’’ربنا إنہ وصل فیک فصلہ‘‘ اے ہمارے پروردگار! اس شخص نے آپ کے لیے تعلق و محبت کی، آپ بھی اس سے تعلق ومحبت رکھیے ‘‘ لہٰذا اگر تم اپنے جسم کو اس عملِ محبوب میں استعمال کر سکو تو ضرور کرو۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حلیۃ الأولیاء :1/366
  2. اصابہ : 4/70
  3. تاریخ ابنِ عساکر: 7/94، سیرِ اعلام النبلاء: 3/169