ابو رزین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابورَزین کواصحاب صفہ میں شمار کیا گیا ہے ۔[1] یقال: إنہ کان من أہل الصفۃ‘‘ ان کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہ اصحابِ صفہ میں ہیں ۔ [2] صفہ کی زندگی میں تحصیل علم

پیغمبر اسلام نے صفہ کے طالب علموں میں خاص طورسے ابورزین کو چند نصیحتیں فرمائی ہیں ۔ فرمایا: اے ابورزین! کیا میں تمہیں دنیا وآخرت میں خیر وبھلائی پانے کی جڑ اور اصل الأصول نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا: ضرورفرمائیں ! آپ نے ارشاد فرمایا: تم ذاکرین (اللہ کے ذکر کرنے والے ) کی مجلس کو لازم پکڑلو۔ جب بھی تم تنہائی میں رہو تم سے جہاں تک ہو سکے خوب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ اللہ ہی کے لیے محبت کرو اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بغض وعداوت رکھو۔ اے ابو رزین ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک شخص اپنے گھر سے اپنے دینی بھائی کی زیارت وملاقات کے لیے نکلتاہے تواس کے ساتھ 70؍ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائِ رحمت کرتے ہوئے نکلتے ہیں اور یوں کہتے ہیں ’’ربنا إنہ وصل فیک فصلہ‘‘ اے ہمارے پروردگار! اس شخص نے آپ کے لیے تعلق ومحبت کی، آپ بھی اس سے تعلق ومحبت رکھیے ‘‘ لہٰذا اگر تم اپنے جسم کو اس عملِ محبوب میں استعمال کرسکو تو ضرور کرو۔[3]

  1. حلیۃ الأولیاء :1/366
  2. الإصابۃ : 4/70
  3. تاریخ ابنِ عساکر : 7/94، سیرِ اعلام النبلاء: 3/169