نابغہ جعدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نابغہ جعدی جس کا لقب ابو لیلی ہے لمبی عمر والے عرب کے عظیم شاعراور صحابی ہیں وفات 50ھ بمطابق 670ء

نام میں اختلاف[ترمیم]

نابغہ جعدی کے نام میں اختلاف ہے قيس بن عبد الله بعض نے عبد الله بن قيس لکھا
ابوعمر نے ان کا نام حيان بن قيس بن عبد الله بن عمرو بن عدس بن ربيعہ بن جعدة بن كعب بن ربيعہ ابن عامر بن صعصعة العامری الجعدی، اوركلبی نے قيس بن عبد الله بن عدس بن ربيعہ لکھا

نابغہ کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

انہیں نابغہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ دور جاہلیت میں اشعار کہتے بعد میں انہیں چھوڑ دیا 30 برس تک کنارہ کش رہے پھر متوجہ ہوئے تو باکمال اشعار کہے جس کی وجہ سے نابغہ (غیر معمولی ذہن والا) کہلائے

نابغہ ذیبانی و نابغہ جعدی[ترمیم]

یہ نابغہ ذبیانی سے عمر میں بڑے تھے اور ان سے بعد طویل عرصہ تک زندہ رہے انہوں نے 180 یا 240 برس کی عمر پائی

زمانہ جاہلیت[ترمیم]

زمانہ جاہلیت میں دین حنیف (دین ابراہیمی کے پیروکار) شمار ہوتے تھے وہ روزہ رکھتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے توحید باری، حشر نشر کا اقرار اور جزا و سزا کا عقیدہ رکھتے تھے

قبول اسلام[ترمیم]

  • نابغہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اسلام قبول کیا اور ایک قصیدہ رائیہ پیش کیا جس کا شعر تھا
  • أتيت رَسُول اللَّهِ إِذْ جَاءَ بِالْهُدَى ... ويتلو كتابا كالمجرة نيرا
  • جب حضور اکرم ہدایت لے کر تشریف لائے تو میں آپ کی خدمت میں پیش ہوا وہ ایسی کتاب پڑھتے ہیں جو کہکشاں سے زیادہ روشن ہے
  • نابغہ جعدی نے یہ شعر بھی رسول اکرم کی سامنے پڑھا
  • بلغنا السماء، مجدنا وجدودنا ... وإنا لنرجو فوق ذلك مظهرا* ہماری عزت و حرمت آسمان تک پہنچ گئی اب ہم اس سے بڑھ کر ایک اور مقام کے آرزو مند ہیں
  • حضور اکرم نے پوچھا وہ کونس امقام ہے تو عرض کی جنت تو فرمایا درست ان شاء اللہ پھر جب اور شعر بھی پڑھے تو دو مرتبہ فرمایا(صدقت لا يفضض اللَّه فاك) تونے بڑے پتے کی بات کی اللہ تیرے دانت سلامت رکھے
  • اس دعا کے بدلے اتنی طویل عمر میں ان کا کوئی دانت نہ گرا نہ ٹوٹا[1][2]

وفات[ترمیم]

نابغہ جعدی کی وفات 50ھ کے قریب اصفہان میں ہوئی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاصابہ فی تمييز الصحابہ ،مؤلف: أبو الفضل ابن حجر العسقلانی ،ناشر: دار الكتب العلميہ بيروت
  2. اسد الغابہ مؤلف عز الدين ابن الاثير، ناشر: دار الفكر بيروت
  3. الاعلام مؤلف: خير الدين زركلی دمشقی ،ناشر، دار العلم للملايين