عبد اللہ بن عمرو بن حرام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عبد اللہ بن عمرو بن حرامغزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ میں شامل ہیں۔ ابو جابر کنیت سے مشہور ہیں۔

  • ان کا پورا نسب عبد اللہ بن عمرو بن حرام بن ثعلبہ بن حرام بن كعب بن غنم بن سلمہ ابن سعد بن علی بن اسد بن ساردة بن تزيد بن جشم بن الخزرج الأنصاری الخزرجی السلمی ہے، ابوجابر ان کی کنیت ہے جابر بن عبد اللہ ان کے بیٹے تھے۔ یہ بیعت عقبہ میں شامل تھے یہ اور براء بن معرور بنی سلمہ کے نقیب تھے، قبیلہ انصار میں یہ اپنے خاندان بنی سلمہ کے سردار تھے جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے دیکھا اور فرمانے لگے جابر کیا بات ہے کہ تم مجھے غمگین نظر آتے ہو؟ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے والد شہید ہو گئے جن پر بار قرض بہت ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بہن بھائی بہت ہیں آپ نے فرمایا سن میں تجھے بتاؤں جس کسی سے اللہ نے کلام کیا پردے کے پیچھے سے کلام کیا لیکن تیرے باپ سے آمنے سامنے بات چیت کی فرمایا مجھ سے مانگ جو مانگے گا دوں گا تیرے باپ نے کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں دوبارہ بھیجے اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے فرمایا یہ بات تو میں پہلے ہی مقرر کرچکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں جائے گا۔ کہنے لگے پھر اے اللہ میرے بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی [1]
  • غزوہ بدر، غزوہ احد میں بڑی بہادری اورجاں بازی کے ساتھ کفار سے لڑے اور جنگ احد کے دن سب سے پہلے جام شہادت سے سیراب ہوئے ۔
  • بخاری شریف وغیرہ کی روایت ہے کہ انہوں نے رات میں اپنے فرزند جابر کو بلا کر یہ فرمایا: میرے پیارے بیٹے!کل صبح جنگ احد میں سب سے پہلے میں ہی شہادت سے سرفراز ہوں گا اوربیٹا سن لو!رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد تم سے زیادہ میرا کوئی پیارا نہیں ہے لہٰذا تم میرا قرض ادا کردینا اور اپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ میری آخری وصیت ہے۔ جابر کا بیان ہے کہ واقعی صبح کو میدان جنگ میں سب سے پہلے میرے والد عبد اللہ بن عمروبن حرام ہی شہید ہوئے۔[2]
  • میں غزوہ احد میں شہادت ہوئی [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ھل یخرج المیت من القبر
  3. اصحاب بدر،صفحہ 190قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور