عبداللہ بن بسر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


عبداللہ بن بسر
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 707  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حمص  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبداللہ بن بسر (وفات: 707ء) صحابیٔ رسول تھے۔ آپ بلاد الشام میں وفات پانے والے آخری صحابی تھے۔

سوانح[ترمیم]

خاندان[ترمیم]

آپ کے خاندان میں سے سبھی افراد نے یعنی آپ کے والدین، بھائی اور بہن نے بیک وقت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر قبولیتِ اسلام کی سعادت حاصل کی تھی اور شرفِ صحابیت حاصل کیا۔ اہل سِیَر و تاریخ نے اِس خاندان نے قبولِ اسلام کا زمانہ متعین نہیں کیا لیکن علامہ ابن اثیر الجزری (متوفی 630ھ) کا بیان ہے کہ عبداللہ بن بسر نے بیت المقدس اور کعبۃ اللہ، دونوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے۔ جمہور محدثین اور مؤرخین کا بیان ہے کہ تحویل قبلہ رجب میں ہوا۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن بسر تحویل قبلہ یعنی رجب سے قبل ہی مسلمان ہوچکے تھے۔[1] علامہ ابن اثیر الجزری نے اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں لکھا ہے کہ قبولِ اسلام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک عبداللہ بن بسر (رضی اللہ عنہ) کے سر پر پھیرا اور اِن کے لیے دعاء کی۔ اِن کے والد بُسر بن ابی بسر، والدہ، عطیہ (بھائی) اور صماء (بہن) بھی اِن کے ساتھ ہی اسلام لائے۔ حضرت صماء رضی اللہ عنہا کا شمار مشہور صحابیات میں ہوتا ہے۔ عطیہ بن بسر (بھائی) کا شمار اُن صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے بلاد الشام میں سکونت اِختیار کرلی تھی۔[2]

نام و نسب[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن بُسر کا تعلق قبیلہ مازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس عیلان سے تھا۔ آپ کی کنیت ابو بُسر اور بقول بعض محدثین کے ابوصفوان تھی۔ حافظ ابن ماکولا (متوفی 475ھ) کا بیان ہے کہ عبداللہ بن بسر کا تعلق بنو سُلَیم سے تھا جو بنو مازن کی ایک شاخ ہے۔ حافظ ابن مندہ (متوفی 470ھ) نے آپ کو سُلَیمی اور مازنی دونوں ہی لکھا ہے لیکن علامہ ابن اثیر الجزری نے اِس بات کی تردید کی ہے اور لکھا ہے کہ سُلَیم مازن کے بھائی تھے اور بنو سُلَیم اور بنو مازن دونوں الگ الگ قبیلے تھے۔[3]

پیدائش[ترمیم]

قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ سالِ ہجرت کے ابتداء سے 6 سال قبل آپ کی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی۔

وفات[ترمیم]

حضرت عبداللہ بن بسر کی وفات 88ھ مطابق 707ء میں حمص میں ہوئی۔ اُس وقت آپ کی عمر 94 سال تھی اور بعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ آپ کی وفات 96ھ میں سلیمان بن عبدالملک کے زمانہ حکومت میں ہوئی اور اُس وقت اُن کی عمر 100 سال کی تھی۔ بلاد الشام میں سب صحابہ کرام کے اخیر میں اِنہیں کی وفات ہوئی۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طالب الہاشمی: آسمان ہدایت کے ستر ستارے، صفحہ 281، مطبوعہ لاہور، 1993ء
  2. طالب الہاشمی: آسمان ہدایت کے ستر ستارے، صفحہ 282، مطبوعہ لاہور، 1993ء
  3. طالب الہاشمی: آسمان ہدایت کے ستر ستارے، صفحہ 282، مطبوعہ لاہور، 1993ء
  4. طالب الہاشمی: آسمان ہدایت کے ستر ستارے، صفحہ 285، مطبوعہ لاہور، 1993ء