عبد اللہ بن ارقم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عبد اللہ بن الارقم کاتبین وحی صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔

فتح مکہ کے دن ایمان لائے، آپ کے دادا نبی کریم ﷺ کے ماموں تھے [1] آپ کی کتابت پر سرکار دوعالم ﷺ نے اعتماد فرمایا،خلیفہ اول ابوبکرصدیق و خلیفہ دوم عمر فاروق نے بھی آپ سے مختلف چیزیں لکھوائی ہیں۔[2] عمرفاروق نے آپ کو بیت المال کا متولی بھی بنایا تھا، وفات سے پہلے بینائی ختم ہو گئی تھی، عثمان غنی کے زمانہ میں وفات ہوئی بلاشبہ آپ کاتبِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،
امام بیہقی کی سننِ کبری میں ایک روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط آیا، تو آپ نے فرمایا: میری طرف سے کون جواب دے گا؟ عبد اللہ بن الارقم نے جواب دیا: ”میں“! اور انہوں نے اس کا جواب لکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے اور پسند فرمایا اور دعاء فرمائی: ”اللّٰہم وَفِّقْہ“ : اے اللہ! اسے خیر کی توفیق عطا فرما!

ایک روایت میں ہے کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن الارقم بن یغوث سے لکھوایا کرتے تھے اور وہ آپ کی طرف سے بادشاہوں کو جواب دیا کرتے تھے، کتابت میں ان کی امانت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر اعتماد تھا کہ آپ انھیں کسی بادشاہ کی طرف خط لکھنے کا حکم فرماتے تو وہ لکھ کر اور مہر لگا کر بند کر دیتے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس نہ فرماتے۔

سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم زید بن ثابت اور عبد اللہ بن الارقم سے لکھوایا کرتے تھے، جب یہ دونوں موجود نہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی حاضر ہوتا، اس سے لکھواتے، عموماً عمر، علی، خالد بن سعید، مغیرہ اور معاویہ موجود ہوتے تھے۔

عبد اللہ بن الارقم زیادہ تر قبائل کے درمیان معاہدات، بادشاہوں کے خطوط، انصار کے مردوں اور عورتوں کے درمیان مکانات کے تصفیے، قرض کی تحریریں، خرید و فروخت کے دستاویزات، پانی کی تقسیم کے معاہدات وغیرہ تحریر فرماتے تھے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاصابہ
  2. السنن الکبری للبیہقی
  3. نقوش رسول نمبر جلد7 صفحہ187