قرظہ بن کعب خزرجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قرظہ بن کعب خزرجی قبیلہ خزرج کے صحابی رسول ہیں

نام ونسب[ترمیم]

قرظہ نام، ابو عمروکنیت، قبیلۂ حارث بن خزرج سے ہیں ،سلسلۂ نسب یہ ہے :قرظہ بن کعب بن کعب بن ثعلبہ بن عمرو بن کعب بن الاطنابہ، بعض لوگوں نے اس طرح لکھا ہے، قرظہ بن عمرو بن کعب بن عمروبن عائذ بن زید مناۃ بن مالک بن ثعلبہ کعب بن الخزرج بن الحارث بن الخزرج،ماں کا نام خلیدہ بنت ثابت بن سنان تھا۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت کے بعد مسلمان ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

غزوہ احد، غزوۂ خندق اورتمام غزوات میں شرکت کی عہد صدیقی مدینہ میں گذرا ،حضرت عمر کے زمانۂ خلافت میں عمار بن یاسر کے ساتھ کوفہ آئے اور یہیں مقیم ہوگئے، عبداللہ بن مسعود کے زمانۂ امارت میں مسیلمۂ کذاب مدعی نبوت کے ایک دوست کو جو ابن النواحہ کے نام سے مشہور تھا کوفہ میں قتل کیا۔ 23ھ عہدفاروقی میں رے کی مہم سر کی، حضرت علی جنگ جمل کے لئے روانہ ہوئے تو ان کو کوفہ میں اپنا جانشین بنایا، اورجب صفین کے لئے نکلے تو ان کو ہمراہ لے گئے اور ابو مسعود بدری کو جانشینی کے لئے کوفہ میں چھوڑا۔[1]ا اس زمانہ میں ان کے علاقہ کا ایک واقعہ تاریخوں میں مذکور ہے، ذمیوں کی ایک نہر خشک ہوکر مٹ رہی تھی اور ذمی پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس مقام کو چھوڑ دینا چاہتے تھے،خلیفہ چہارم کے پاس ایک وفد بھیجا اور حالات گوش گذار کئے، آپ نے قرظہ کو ایک خط لکھا فانظر انت وھم ثم اعمر واصلح النھر فلعمری لان یعمروااحب الینا من ان یخرجوا وان یعجزوا اویقصروا فی واجب من صلاح البلاد تم اور وہ (ذمی)مل کر اس معاملہ پر غور کرو، ان کے آباد رہنے کی فکر رکھو اور نہر درست کرادو خدا کی قسم میں انکا آباد رہنا زیادہ پسند کرتا ہوں انکا عاجز آکر بھاگ جانا یا زمین اور آبادی کی سعیِ فلاح میں ناکام رہنا مجھے منظور نہیں۔

وفات[ترمیم]

حضرت علی کے عہد خلافت میں انتقال فرمایا، حضرت علی نے نماز جنازہ پڑھائی، اہل کوفہ کو ان کی وفات کا سخت صدمہ ہوا،

فضل وکمال[ترمیم]

فضلائے صحابہ میں تھے،حضرت عمر نے عمار بن یاسر والی کوفہ کے ہمراہ انصار کے دس بزرگوں کو تعلیم فقہ کے لئے بھیجا تھا، قرظہ بھی انہی میں تھے۔ آنحضرتﷺ اورحضرت عمر سے چند روایتیں کیں، عامر بن سعد بجلی اور امام شعبی ان کے مسند فیض کے حاشیہ نشین ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أسد الغابة۔المؤلف: أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم بن عبد الواحد الشيباني الجزري، عز الدين ابن الأثير۔الناشر: دار الفكر - بيروت
  2. الاستيعاب في معرفة الأصحاب : أبو عمر يوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي :الناشر: دار الجيل، بيروت